صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے کہ اپنی صدارت کے دوران وہ ہفتے میں تین دن بغیر کسی پروٹوکول کے لوگوں کی رائے جاننے کے لیے نکل جایا کرتے تھے۔
یہ بات انہوں نے مئی 2021 کو انڈپینڈنٹ اردو کو ایک خصوصی انٹرویو میں کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 کی وجہ سے انہیں فائدہ رہتا تھا اور زیادہ لوگ انہیں پہچان نہیں سکتے تھے۔ لیکن ’کبھی کبھی کوئی پہچان بھی لیتا تھا۔‘
ان کی ذاتی زندگی سے متعلق سوالات آج ان کی صدارت کے آخری دن کی مناسبت سے پہلی مرتبہ نشر کیے جا رہے ہیں۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی صدارت کا جعمے کو آخری دن تھا۔
ایوان صدر اسلام آباد میں انہیں الوداعی گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پوچھا کیا صدارت کے بعد دوبارہ پریکٹس کی طرف آئیں گے تو ان کا کہنا تھا کہ ابھی اس بارے میں سوچا نہیں۔ لیکن ’بھولا نہیں ہوں۔ کیا سائیکل سیکھنے کے بعد کسی کو بھولتی ہے؟
بحثیت صدر اپنی میراث کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ایک عام آدمی تھا آیا اور چلا گیا۔ ’میری کوئی میراث یا لیگسی نہیں ہے۔ کام بہت تھے میں ایک آدمی تھا۔ لوگوں کے حالات بہت خراب ہیں ان کو بچانا ہے۔‘
ایک سوال کہ وہ بطور صدر یا وفاقی وزیر زیادہ موثر ہوتے تو ان کا کہنا تھا کہ بحثیت صدر وہ زیادہ کام کرسکتے تھے اور دروازے کھول سکتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ صدر کی حیثیت سے انہوں نے بیرون ملک ایک دو دوروں کے علاوہ کچھ نہیں کیا ہاں البتہ پاکستان میں ہر جگہ گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی سب سے بڑی کامیابی یہی تھی کہ وہ سٹوڈنٹ لائف سے تحریک انصاف کے ساتھ رہے۔