انٹرنیٹ بنانے میں مدد کرنے والے افراد کے مطابق انٹرنیٹ کو مختلف اقسام کے خطرات کا سامنا ہے جو ٹیکنالوجی اور اس کا استعمال کرنے والے افراد دونوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
’انٹرنیٹ کے بانیوں‘ میں سے ایک ونٹ سرف نے متنبہ کیا کہ ہم ایک ایسی ٹیکنالوجی پر انحصار بڑھا رہے ہیں، جو ہماری سوچ سے زیادہ نازک ہے اور ہم ایک ’ڈیجیٹل تاریک دور‘ میں جا سکتے ہیں، جو ہمیں اپنی تاریخ تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر کر دے گا۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ ویب بھی ہماری زندگی کا ایک بڑھتا ہوا مرکزی حصہ بن رہی ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ ’جب یہ اپنے مقصد کے مطابق کام نہیں کرتی یا بدخواہ لوگ اسے استعمال کرتے ہیں تو اس کے نتائج ہوتے ہیں۔‘
انہوں نے متنبہ کیا کہ جیسے جیسے انٹرنیٹ تقریبا ہر جگہ پھیل گیا ہے، اس وجہ سے لوگوں نقصان دہ مقاصد کے لے استعمال کر سکتے ہیں، جیسا کہ رینسم ویئر۔
انہوں نے کہا کہ ’انٹرنیٹ کی بڑھتی ہوئی دستیابی کے نتائج یہ ہیں کہ یہ عام عوام کے لیے قابل رسائی ہو گیا ہے، جو کہ اس کی ابتدا میں نہیں تھا اور اس کے نتائج یہ ہیں کہ عام عوام کے کچھ حصے ضرورتاً اچھے ارادے نہیں رکھتے، لہذا ان کی ٹیکنالوجی تک رسائی بہت سارے طریقوں سے بہت تعمیری ہے لیکن کچھ بہت تباہ کن بھی ہے۔‘
انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ ’اس ٹیکنالوجی کی قابل اعتمادیت اور لچک کے بارے میں بہت ساری تشویش ہے، جس پر ہم تیزی سے انحصار کر رہے ہیں‘ اور یہ کہ ہم سافٹ ویئر کو بڑھتی ہوئی خود مختاری دے رہے ہیں کہ وہ ہماری طرف سے ایسے اقدامات کریں جنہیں ہم شاید سمجھ نہ پائیں۔
مثال کے طور پر ہم اپنے موبائل پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، ان کی ’سہولت اور افادیت‘ کی وجہ سے. لیکن جب وہ خراب ہو جاتے ہیں تو ہو سکتا ہے استعمال کرنے کے لیے ’کوئی متبادل‘ نہ ہو، جس سے ہم انتہائی کمزور سسٹمز کے رحم و کرم پر رہ جاتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ کمزوری مستقبل میں بھی رہتی ہے۔ آج ہمارے پاس جو ڈیجیٹل میڈیا ہے اس میں سے کوئی بھی اس کاغذ کی طرح کچھ بھی نہیں ہے، جو ہم پہلے استعمال کرتے تھے اور لہذا ہم اب ان فائلوں تک رسائی حاصل کرنے کے قابل نہیں ہو سکتے، جو ہمیں ہماری تاریخ کی سمجھنے میں مدد کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’میں سوچنے لگا ہوں کہ ہمیں کس قسم کا ایکو سسٹم بنانا ہو گا جو ہر کسی کو یقین دلائے کہ ڈیجیٹل مواد کی کچھ سنجیدہ لمبی عمر ہے۔‘
انہوں نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا کہ انہیں حال ہی میں کچھ فلاپی ڈسک ملے ہیں جن میں صرف چند دہائیوں پہلے بنائی گئی فائلیں شامل ہیں جو اب پڑھی نہیں جا سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سوچنا شرمناک ہے کہ پانچ یا چھ ہزار سال پہلے پکی ہوئی مٹی کی بنائے گئے ٹیبلٹس اب بھی قابل فہم ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ان مسائل کو حل کرنے کا مطلب ’اپنے پورے ایکو سسٹم پر دوبارہ غور کرنا‘ ہو گا، جس میں نئے قانونی ڈھانچے اور بین الاقوامی معاہدوں کے ساتھ ساتھ ایسی ٹیکنالوجی بھی شامل ہو گی تاکہ ہم اپنے ڈیجیٹل ماحول پر انحصار کر سکیں۔
مثال کے طور پر اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ایک نیا ’ڈیجیٹل سماجی معاہدہ‘ لکھنا جس میں لوگوں سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ آن لائن دنیا کے ساتھ بات چیت کرنے کے طریقے کے لیے زیادہ ذمہ دار بنیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں ٹیکنالوجی کو محفوظ طریقے سے استعمال کرنے کے بارے میں ’لوگوں کا وجدان بہتر بنانے اور انہیں اپنے تحفظ کے لیے زیادہ وسائل استعمال کرنے کا موقع فراہم کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں زیادہ تنقیدی سوچ اور تنقیدی طور پر سوچنے پر تیار رہنے کی ضرورت ہے، خاص طور پر ان معلومات کے بارے میں جو ہمیں ملتی ہیں،‘ یہ مسئلہ زبانوں کے بڑے ماڈلز کی وسیع دستیابی کی وجہ سے گھمبیر ہو گیا ہے۔
لیکن انہوں نے کہا کہ وہ مصنوعی ذہانت کی طاقت کے بارے میں اتنے فکرمند نہیں ہیں جتنے کچھ دوسرے ٹیکنالوجسٹ ہیں۔ اگرچہ کمپیوٹنگ نے ’حیرت انگیز‘ نئی صلاحیتیں پیدا کیں لیکن مصنوعی ذہانت کے بارے میں زیادہ تر خوف ’اسے حقیقت سے زیادہ طاقتور سمجھنے کا نتیجہ ہے‘ جزوی طور پر اس لیے مصنوعی ذہانت کو انسان کی لکھی تحریر کو بنیاد بناتے ہوئے تربیت دی گئی اور اکثر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ وہ طرح بات کرتی ہیں جس طرح ہم کرتے ہیں۔
سرف رائل سوسائٹی اور دیگر تنظیموں کی جانب سے انٹرنیٹ کے 50 سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کے ابتدائی دنوں میں اکثر یہ امید پائی جاتی تھی کہ آیا اس نظام کا غلط استعمال کیا جائے گا یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’جب ہم نے یہ کام کرنا شروع کیا، تو ہم صرف انجینئروں کا ایک گروپ تھے، اور ہم صرف اتنا کام کرنا چاہتے تھے کہ اس طرح کے دائرے اور پیمانے پر کام کیا جا سکے۔
’اور مجھے نہیں لگتا کہ ہم اس بارے میں زیادہ سوچ رہے تھے کہ کس طرح لوگ اس نظام کا غلط استعمال کر سکتے ہیں چاہے ان کی نیت آپ کی مدد کرنے کی ہی کیوں نہ ہو۔‘
انہوں نے کہا کہ سکیورٹی کے بارے میں کافی تشویش پائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ویب ٹریفک کو انکرپٹ کرنا تاکہ انٹرنیٹ کے استعمال کے دوران اس کے راستے میں رکاوٹ نہ ڈالی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ لیکن حفاظت کے بارے میں کم تشویش تھی۔ لہٰذا اس حقیقت کے بارے میں کم سوچا گیا کہ ٹریفک میں میل ویئر ہوسکتا ہے جو اس کمپیوٹر پر حملہ کرے گا جس کے لیے اسے بھیجا گیا۔
انہوں نے کہا: ’اس لیے میرا خیال ہے کہ ہمیں اس ایکوسسٹم کے بارے میں از سرنو غور کرنے کی ضرورت ہے جو ہم تخلیق کر رہے ہیں۔ یہ کوئی خیالی شے نہیں بلکہ حقیقی دنیا کے نتائج ہیں۔‘
’یہ جغرافیائی و سیاسی معنوں میں ایسی جگہ ہے جس کی فضا مسابقتی ہے۔ جہاں آن لائن ماحول میں قومی اور ذاتی سلامتی کے معاملے میں ہمارے خدشات حقیقی ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’اور ہم آپ کو ابتدائی میں ہی یقین دلا سکتے ہیں کہ یہ فہرست میں سب سے اوپر نہیں تھا۔ صرف یہ سمجھنے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ ہر کمپیوٹر کے ہر دوسرے کے ساتھ بات کرنے کی صورت میں کیا ہوتا ہے۔‘
یونیورسٹی آف ساؤتھ ایمپٹن میں برطانوی کمپیوٹر سائنسدان وینڈی ہال، جنہوں نے ویب کے کچھ بنیادی نظام بنانے میں مدد کی، نے اسی تقریب کے دوران دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ وہ انٹرنیٹ کے مستقبل کے بارے میں پرامید ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’انٹرنیٹ، وہ بنیادی ڈھانچہ ایک کمپیوٹر دوسرے کے ساتھ کیسے بات کرے گا، اسے تقریباً 50 برس ہو چکے ہیں۔ اور یہ دور میں قائم رہا حتیٰ کہ کووڈ میں بھی۔‘
’2020 میں ہم سب نے اسے بہت زیادہ استعمال کیا اور یہ موجود اور قائم کرتا رہا۔ اور تصور میں لائیں کہ انٹرنیٹ یا ویب کے بغیر کووڈ کیسا ہوتا۔‘
لیکن انہوں نے ابتدائی انٹرنیٹ اور ویب کی تاریخ سے سبق سیکھنے کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اتفاق کیا کہ مصنوعی ذہانت بالآخر ایک مسئلہ بن سکتی ہے۔ اپنے دیگر کاموں کے ساتھ ساتھ ڈیم وینڈی مصنوعی ذہانت سے متعلق اقوام متحدہ کے مشاورتی ادارے میں بھی کام کرتی ہیں جس کا مقصد بین الاقوامی گورننس کی حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ ان خطرات سے بچا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’خود ویب کے مقابلے میں مصنوعی ذہانت ممکنہ طور پر زیادہ خطرناک ہے۔ میں کوئی ایسا فرد نہیں جو یہ کہے کہ اگلے سال یا مختصر وقت میں ہمیں حقیقی خطرے کا سامنا ہو گا۔ لیکن اگر ہم نے مصنوعی ذہانت کو اپنے ہاتھ سے جانے دیا تو اسے وہ لوگ استعمال کریں جن کے مقاصد اچھے نہیں۔‘
’اگر ہم نے مصنوعی ذہانت کو قابو سے باہر ہونے دیا تو ایسے کام ہوں جنہیں ہمیں نہیں روک سکتے ان کی نوعیت خواہ کچھ بھی ہو۔ ہمیں مسئلے کا سامنا ہے۔‘
انہوں نے اس بات کو یقینی بنانے کی اہمیت کی طرف اشارہ کیا کہ ٹیکنالوجی ہر ایک کے لیے مفید ہے لیکن اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ٹیکنالوجی عالمی جنوب کے لوگوں کے ساتھ ساتھ امیر ممالک میں بھی دستیاب ہو اور لوگوں کو مصنوعی ذہانت کے بدنیت عناصر سے محفوظ رکھا جائے۔
انہوں نے مزید خطرات کی طرف اشارہ کیا جن پر دفاع اور سلامتی کے شعبے کو کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ’ہمیں مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی ممکنہ جنگوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔‘
تاہم ڈیم وینڈی نے کہا کہ وہ ان ’زبردستی کاموں‘ کے حوالے سے پرامید ہیں جنہیں مصنوعی ذہانت انجام دے سکتی ہے ان میں یہ بھی شامل ہے کہ ’یہ ہمارے لیے صحت کی تعلیم، توانائی کی فراہمی، غذائی تحفظ‘ اور دوسرے
شعبوں میں کیسے مددگار ثابت ہو گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ دنیا گڈگورننس کے لیے اکٹھی ہو گی لیکن یہ اہم کام انجام دینے کی ضرورت اب بھی ہے۔
© The Independent