’ہلک‘ ٹرمپ کے ہاتھوں عالمی معیشت چکنا چور

اپنے ’امریکن ڈریم‘ کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش میں صدر ٹرمپ نے نہ صرف عالمی معیشتوں کو نظرانداز کر دیا بلکہ عام فہم کو بھی خیرباد کہہ دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو اپریل، 2025 کو واشنگٹن ڈی سی میں واقع وائٹ ہاؤس میں ’امریکہ کو دوبارہ دولت مند بنائیں‘ کے عنوان سے ایک تقریب کے دوران جوابی محصولات پر ریمارکس دینے کے بعد ایک دستخط شدہ ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے (اے ایف پی)

یہ منظر کسی ’دی انکریڈیبل ہلک‘ فلم جیسا لگتا ہے (بس فرق یہ ہے کہ ہلک سبز ہوتا ہے اور یہاں معاملہ نارنجی ہے) — ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی قمیص کو پھاڑ ڈالا ہے، ایک دھاڑ لگائی ہے، اپنی طاقت دکھائی ہے اور عالمی تجارتی نظام کو تہس نہس کرنے میں جُت گئے ہیں۔

اس ہفتے دنیا نے ایسی معاشی تباہی دیکھی جو دوسری عالمی جنگ کے بعد کسی اور واقعے سے مماثلت نہیں رکھتی: بالکل بے ترتیبی سے عائد کردہ ٹیرف لسٹیں، الجھا دینے والی منطق — کیا یہ محض ایک چال ہے یا مستقل پالیسی؟ — اور ’دوست و دشمن‘ سب کو سزا دینے میں ایک عجیب سی خوشی کا اظہار۔ 
 
کوئی ملک — یہاں تک کہ وہ بھی جو امریکہ کے ساتھ تجارتی خسارے میں نہیں — اس حملے سے محفوظ نہیں رہا۔
 
ایک طرف ہمیں کونے میں دبکے ہوئے دنیا کے ماہرینِ معاشیات، صارفین، بڑی کمپنیاں اور سرمایہ کار نظر آتے ہیں، سب اس خوف میں مبتلا کہ ٹرمپ اب کیا کرنے والے ہیں۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن تو کب کی میدان چھوڑ چکی ہے۔ 
 
دنیا کی سٹاک مارکیٹس سے لگ بھگ تین کھرب ڈالر مالیت ختم ہو چکی ہے — اور شاید یہ صرف شروعات ہے۔
 
جس تیزی اور وسعت سے ٹرمپ کام کر رہے ہیں — اگر وہ واقعی سنجیدہ ہیں اور اس راہ پر گامزن رہتے ہیں — تو یہ دنیا کو کساد بازاری کی طرف لے جا سکتا ہے، اور امریکہ خود بھی اس کی زد میں آ سکتا ہے۔
 
مارکیٹ اب تک مکمل کریش سے بچی ہوئی ہے، صرف اس امید پر کہ یہ بے ترتیب پالیسی سازی وقت کے ساتھ درست ہو جائے گی اور ٹیرف نرم کر دیے جائیں گے۔ 

لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں کی قدر کم ہو جائے گی — صرف اس لیے کہ وہ اب مؤثر انداز میں پیداوار نہیں کر سکیں گی، اور مطلوبہ منافع حاصل نہ ہونے کی وجہ سے ان کے حصص خریدنے کا جواز بھی ختم ہو جائے گا۔ آنے والے مہینوں میں منافع میں کمی کی وارننگز کی ایک لہر آنے کا خدشہ ہے۔

ٹرمپ نے نہ صرف دوسری عالمی جنگ کے بعد بنائے گئے قوانین پر مبنی بین الاقوامی تجارتی نظام کو الٹ پلٹ دیا، بلکہ عالمگیریت کے تصور اور دنیا بھر کی مینوفیکچرنگ، ٹرانسپورٹیشن، لاجسٹکس اور وسائل سے وابستہ کمپنیوں کے آپریشنز کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے بعد وہ بینک اور سرمایہ کاری ادارے بھی آئیں گے جو ان کمپنیوں میں سرمایہ لگاتے ہیں اور جب ہم اگلی بار اپنے پنشن فنڈز کی مالیت دیکھیں گے، تو اس کے فوری اور شدید اثرات ہمیں اپنے گھروں تک محسوس ہوں گے۔

ایسے لمحات میں مالیاتی منڈیاں گھبرا جاتی ہیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ سرمایہ کار ابھی بھی یقین نہیں کر پا رہے کہ یہ سب واقعی ہو رہا ہے — کہ کوئی امریکی صدر آزاد منڈی پر مبنی معیشت کو ترک کر کے اٹھارہویں صدی کے مرکنٹائلزم (تجارتی قوم پرستی) کی طرف لوٹ جائے گا، اور امریکہ کو 1960 کی دہائی جیسا بنانے کی کوشش کرے گا۔
 
لیکن اگر وہ واقعی سنجیدہ ہیں؟ اگر دوسرے ممالک کے جوابی اقدامات پر وہ مزید ٹیرف عائد کر دیں؟ اگر معاملہ بڑھ گیا تو؟
 
ٹرمپ کے ذہن میں ’امریکن ڈریم‘ کی جو تصویر ہے، وہ مشقت کرتے ہوئے افراد کا ہے جو ڈیٹرائٹ میں بیوِکس گاڑیاں بنا رہے ہیں۔ 
 
ان کے نزدیک اصل امریکہ وہ ہے جہاں فیکٹریاں، ورک شاپس، ٹیکسٹائل ملیں، نیویارک کا کپڑوں کا کاروبار، کوئلے کی کانیں اور تیل نکالنے والی مشینیں سرگرم تھیں — جیسے نارمن راک ویل کی پینٹنگز کی کوئی سلائیڈ شو ہو۔
 
یہ وہ کم اجرت، تھکا دینے والی اور خطرناک نوکریاں ہیں جو وہ چین، ویتنام اور کمبوڈیا سے واپس لینا چاہتے ہیں۔
 
’دی انکریڈیبل ہلک ‘ کی ٹی وی اقساط کے اختتام پر جب ہلک کا غصہ کم ہوتا، تو اس کی مہذب شخصیت واپس آتی اور وہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹ جاتا — البتہ ہمیشہ اس خطرے کے ساتھ کہ وہ غصہ پھر کسی وقت اُبل پڑے گا۔

© The Independent

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ