شروع شروع میں جب یہ یونیورسٹی کھلی تو تب بھی اس کا معیار آج کی طرح پست تھا، طلبہ بھی آج کے شاگردوں کی طرح ہزمغز اور غبی تھے، مگر آج یہ ہے کہ یہ تعداد کروڑوں سے بھی تجاوز کر چکی ہے اور ان سے نمٹنا مٹھی بھر لوگوں کے لیے بہت مشکل ہے۔
سمارٹ فون آیا تو جدت اور آسانی کے ساتھ دقت اور قباحت بھی لایا۔ لکھے اور چھپے ہوئے لفظ کو سچ ماننا ہماری گھٹی میں ہے۔
سوشل سائنس کے مطابق ہماری ’کنڈیشننگ‘ ہی ایسی ہو چکی ہے کہ ہم یکساں خط میں لکھے، ٹائپڈ الفاظ کو سچ سمجھ کے من و عن آگے کرنا اپنا سماجی فرض سمجھتے ہیں۔
پہلے پہل وٹس ایپ یونیورسٹی کے طلبہ کا طریقہ یہ تھا کہ ایک لطیفہ، ایک مذہبی پوسٹ، ایک تصویر اور ایک طبی نسخہ بلا تخصیص مرد وزن سب کو بھیج دیا کرتے تھے۔ اس ضمن میں بہت سے لطیفے بھی ہوئے۔
اس وقت تک ڈیلیٹ کی سہولت میسر نہیں تھی، بہت سا مواد ایسے لوگوں کو بھی پہنچا جن پہ ابھی اصلیت نہیں کھلنی چاہیے تھی اور بہت سا مواد بہت سے لوگوں کی علمیت کے پول کھولتا گیا۔
اب یونیورسٹی تو یونیورسٹی ہے، جب تک موجود ہے اور علم بانٹ رہی ہے اس کا اثر پھیلے گا۔
لیلی مجنوں کی تصویر آئی اور یقین کر لیا گیا، علامہ اقبال کی آواز میں ایک نظم آئی اور مان لیا گیا، ایک فربہہ ایرانی خاتون کی گل مچھوں والی تصویر ممتاز محل کے نام سے بھیجی گئی اور مصدقہ ہو گئی و علی ہذا القیاس۔
ایک پوری نسل یہاں سے خوشہ چینی کر کے اپنا ذہن بنا چکی ہے اور فارغ التحصیل ہونے کے بعد جگہ جگہ بحث کرتے اور زچ کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔
اسی دوران مصنوعی ذہانت نے اس ادارے کو تقویت دی اور معلومات کے ساتھ ساتھ اب باتصویر معلومات آنے لگیں۔
بات بڑھتی گئی علم بٹتا گیا۔ کچھ کچھ خبریں ایسی لگیں کہ خاصے معقول لوگ بھی ایمان لے آئے اور آگے بڑھا دیں۔
ان کا کہنا سند ہو گیا اور بات راسخ ہو گئی۔ ہماری علمی وراثت تو پہلے ہی فورٹ ولیم کالج سے وجود میں آئی تھی تو ہوتے ہوتے آج ہمارے پاس ایک عجیب طرح کا مجمع اکٹھا ہو گیا ہے۔
مجمع ہذا کے پاس ہر بیماری کا علاج، کھجور کی گٹھلی، کالی مرچ اور شہد سے ممکن ہے۔ جو ان چیزوں سے صحت یاب نہیں ہو سکتا اسے سوہانجنے کے پیڑ کے مختلف حصوں سے شفا بخشی جاتی ہے۔
ماضی قریب میں سدھو پا جی کا مرتب کردہ کینسر کے علاج کا کورس بھی اس یونیورسٹی کے ایک کریش پروگرام کا حصہ رہا۔ کرونا کی وبا کے دوران تو پوچھیے ہی مت۔ مکا کا قہوہ سمجھیں سیروں کے حساب سے بکا۔
وزن سے گرے اشعار، کسی کا کلام کسی کے نام سے منسوب کر کے بھیجنا بھی اسی یونیورسٹی کا خاصہ ہے۔
علامہ اقبال پہ خوب زلل گرا۔ خلیل جبران نے میکے اور ماں باپ کی محبت پہ دکھی نثر پارے لکھے، کافکا نے بچوں کو گود لیا اور ارسطو نے ایسی باتیں کیں کہ ارسطو بھی حیران رہ گیا کہ میں اتنا عظیم کب سے ہو گیا؟
یہ حال تمام سوشل میڈیا ہی کا ہے مگر وٹس ایپ کے ذریعے جب یہ پیغام پہنچتا ہے تو بھیجنے والے کی شخصیت بطور سند اسے تسلیم کر رہی ہوتی ہے۔ یوں افواہوں کا یہ سلسلہ مستند ہو کے غلط العام و غلط العوام پہ منتج ہوتا ہے۔
ہر یونیورسٹی کی طرح اس یونیورسٹی میں وہ نالائق بھی پائے جاتے ہیں جو ’اوہو غلطی سے شیئر ہو گیا‘ کی آڑ لے کے نہ کہنے کی باتیں بھی کہہ جاتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بدتہذیبی کسی کی میراث تو نہیں، چاہے کوئی کس قدر معزز نظر آئے، وٹس ایپ کے چوکھٹے میں سب کھل جاتے ہیں۔
اس وقت حال یہ ہے کہ بات کرنے کے لیے منہ کھولنے سے پہلے سو بار سوچنا پڑتا ہے کہ کہیں مخاطب کی ذہنی تربیت وٹس ایپ یونیورسٹی کی تو نہیں؟
پیپل کے پتے سے فون چارج کرنے کے طریقوں سے لے کر اپنا آپریشن گھر میں کرنے تک سب علوم یہاں موجود ہیں۔
ان لوگوں کو یہ بھی آج معلوم ہوا کہ گزرے ہوئے سارے بادشاہ، نواب، عیاش شرابی اور حرم رکھتے تھے۔ پڑھنے لکھنے اور رعایا کی فلاح و بہبود کا بالکل خیال نہیں رکھتے تھے۔
اس کے باوجود اتنی بڑی سلطنتوں کے مالک ہو کے اتنی ترقی کیسے کی؟ اس بارے میں پوچھنے پہ ناراض ہو کے افلاطون کے قول سناتے ہیں کہ عالم تو ہمیشہ جھک کے رہتا ہے، جیسے پھل دار درخت کی شاخ۔
زیادہ روٹھ جائیں تو فراز کے شعر بھیجتے ہیں جس میں فراز کہتے ہیں۔
دوستی کے لائق تم تھے ہی نہیں فراز
ہم غلطی کر بیٹھے تمہیں پیغام بھیج کر
اب آپ لاکھ کہیں کہ فراز نے یہ نہیں کہا مگر وہ آپ کو کب کا بلاک کر کے فیس بک پہ سٹیٹس لگا چکے ہوتے ہیں۔
ہمیں اپنوں نے مارا غیروں میں کہاں دم تھا
ہماری کشتی وہیں ڈوبی جہاں پانی کم تھا
اسد اللہ خان غالب
اور ذرا ہی دیر میں اس سٹیٹس کے بے شمار سکرین شاٹس مختلف وٹس ایپ نمبروں سے آپ کے پاس پہنچ چکے ہوتے ہیں جن کے نیچے کم و بیش ایک ہی سوال ہوتا ہے، ’تم لوگوں کی لڑائی ہو گئی ہے؟‘
ابلاغ کی یہ دنیا دلچسپ، حیران کن اور گمراہ کن دنیا ہے۔ جو جھوٹ پہلے سچ کے تسمے باندھنے سے پہلے دنیا کا سفر کر آتا تھا اب، سچ کے جاگنے سے پہلے پورا جنگل جلا چکا ہوتا ہے۔
پیغام آگے بڑھانے سے پہلے ذرا سی جانچ، آپ کو شرمندگی سے بچا سکتی ہے۔ ہر پیغام ہر گروپ میں شیئر کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔
ہاتھوں میں زیادہ مسئلہ ہے تو پاؤ بھر لہسن لے کر چھیل لیجیے، ناخن بھی مضبوط ہو جائیں گے، اہل خانہ کی مدد بھی ہو جائے گی اور خلق خدا بھی آپ کے ’وٹس ایپ‘ علم سے ذرا دیر کو محفوظ ہو جائیں گے۔ شکریہ!