’شہر تباہ کرنے والا‘ سیارچہ زمین کی بجائے چاند سے ٹکرا سکتا ہے: ناسا

ناسا کی جیمز ویب سپیس ٹیلی سکوپ سے کیے گئے نئے براہ راست مشاہدات سے پتہ چلتا ہے کہ اس سیارچے کے چاند سے ٹکرانے کا امکان تقریباً چار فیصد ہے۔

فائر فلائی ایرو سپیس کی طرف سے 16 مارچ 2025 کو لی گئی اور 18 مارچ کو جاری کی گئی یہ ہینڈ آؤٹ تصویر، چاند کی سطح اور افق پر زمین اور زہرہ کے ساتھ غروب ہونے والے سورج کو دکھاتی ہے (ہینڈ آؤٹ / فائر فلائی ایرو اسپیس / اے ایف پی)

ایک ’شہر تباہ کرنے والا‘ سیارچہ، جس کے بارے میں پہلے خیال تھا کہ وہ زمین سے ٹکرانے والا ہے، نئی معلومات کے مطابق چاند سے ٹکرا سکتا ہے۔

سیارچہ وائی آر فور 2024 کی دریافت کے بعد دنیا بھر میں تشویش پائی گئی کیونکہ اس کی سمت کے تجزیے سے اندازہ ہوا کہ دسمبر 2032 میں اس کے زمین سے ٹکرانے کا امکان تین فیصد ہے۔ اندازوں کے مطابق اس کے تصادم سے 80 کلومیٹر تک کے علاقے میں عمارتیں تباہ ہو سکتی تھیں۔

تاہم بعد کے مشاہدات نے زمین سے ٹکراؤ کے خطرے کو تقریباً صفر کر دیا۔

لیکن ناسا کی جیمز ویب سپیس ٹیلی سکوپ سے کیے گئے نئے براہ راست مشاہدات سے پتہ چلتا ہے کہ اس سیارچے کے چاند سے ٹکرانے کا امکان تقریباً چار فیصد ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی بڑے سیارچے کے زمین سے ٹکرانے کا صرف ایک فیصد امکان بھی ہو تو اس کے خلاف دفاعی مشن تیار کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔ ماہرینِ فلکیات، جن میں جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اینڈی ریوکِن بھی شامل ہیں، اپنی نئی تحقیق میں لکھتے ہیں: ’تادم تحریر، 2032 میں چاند سے ٹکراؤ کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکا۔‘

تحقیق، جو جریدے RNAAS میں شائع ہوئی، یہ بھی بتاتی ہے

’مئی 2025 کے بعد، سیارچہ وائی آر فور 2024 اگلی بار 2026 کے ابتدائی حصے میں جیمز ویب سپیس ٹیلی سکوپ کی مشاہداتی ونڈو میں داخل ہوگا، جو ایک مشکل ہدف ہو گا، لیکن چاند سے ممکنہ تصادم کی تصدیق کے لیے اس کا مشاہدہ کرنا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ناسا نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ اب بھی 96 فیصد سے زیادہ امکان ہے کہ یہ سیارچہ چاند سے نہیں ٹکرائے گا۔

تازہ ترین مشاہدات کے مطابق، اس سیارچے کا حجم بھی 40–90 میٹر سے بڑھا کر 53–67 میٹر کر دیا گیا ہے، جو تقریباً ایک 15 منزلہ عمارت کے برابر ہے۔

ڈاکٹر ریوکِن کہتے ہیں: ’اگرچہ ہمیں یقین ہے کہ سیارچہ وائی آر فور 2024 زمین سے 2032 میں نہیں ٹکرائے گا، پھر بھی یہ مشاہدات کرنا اور نتائج کا تجزیہ کرنا بہت اہم ہے۔

’ہمیں توقع ہے کہ آنے والے سالوں میں مزید ممکنہ تصادم والے سیارچے دریافت ہوں گے کیونکہ زیادہ حساس تلاش کرنے والے پروگرامز شروع کیے جا رہے ہیں۔‘

بہت سے سائنسدان امید کرتے ہیں کہ اگر یہ سیارچہ چاند سے ٹکرا جائے تو اس سے حاصل ہونے والا ڈیٹا مستقبل کی سیاروں سے دفاع کی تیاریوں میں مدد دے گا۔

یورپی خلائی ایجنسی کے شعبہ برائے سیاروی دفاع کے سربراہ رچرڈ موئسل کہتے ہیں

’ایک بڑے سائز کے سیارچے کے چاند سے تصادم کا مشاہدہ کرنے کا موقع ایک سائنسی اعتبار سے بہت دلچسپ موقع ہو گا، اور یہ سیاروں کے دفاع کے لیے قیمتی ثابت ہو سکتا ہے۔‘

© The Independent

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی