بدھ (10 فروری) کی صبح اسلام آباد کے انتہائی حساس ریڈ زون میں شروع ہونے والا سرکاری ملازمین کا تنخواہوں میں اضافے کے لیے احتجاج اب حکومت سے معاہدے کے بعد ختم ہوگیا ہے اور مظاہرین کی واپسی شروع ہوگئی ہے۔
تاہم گذشتہ روز مظاہرین کی پیش قدمی پر پولیس نے پتھراؤ کیا تھا، جس کے نتیجے میں پولیس نے آنسو گیس کی شدید شیلنگ کی اور شاہراہ دستور پر ہر طرف دھویں کا راج دیکھا گیا۔
شاہراہ دستور پر تقریباً دو سے تین سو مظاہرین نے پتھراؤ کرتے ہوئے پولیس کو پیچھے دھکیل دیا تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بدھ کی رات تقریباً نو بجے حکومت کی طرف سے احتجاج کرنے والے مظاہرین سے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا گیا، لیکن انہوں نے مذاکرات کے لیے پہلی شرط گرفتار رہنماؤں کی رہائی رکھی۔
یاد رہے کہ سرکاری ملازمین کی مختلف یونینز کے کم و بیش 50 رہنماؤں کو بدھ کو احتجاج کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔
گذشتہ رات 12 بجے کے بعد سرکاری ملازمین کو رہائی ملی اور انہیں وفاقی وزیر پرویز خٹک کے گھر لایا گیا جہاں آدھی رات کے بعد مذاکرات شروع ہوئے اور تقریبا ڈھائی بجے معاہدے کا اعلان کیا گیا۔
معاہدے کے تحت مالی سال 22۔2021 کے بجٹ آنے تک ایک سے 22 گریڈ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 20 فیصد عبوری اضافہ کیا جائے گا، جسے اب 25 فیصد کردیا گیا ہے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے لیے صوبائی حکومتوں سے بات کرنے کی حامی بھی بھرلی ہے۔
اس ساری صورت حال کا وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کیسے سامنا کیا، اسے صابر نذر نے کارٹون کی صورت میں بیان کیا ہے۔