چینی ریاستی نشریاتی ادارے نے دھندلی فوٹیج اور تصاویر جاری کی ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ ملک کے اب تک کے سب سے جدید ترین سٹیلتھ لڑاکا طیارے کی آزمائشی پرواز کی ہیں، یہ اقدام ایسے وقت پر کیا گیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک امریکی ہم پلہ طیارہ تیار کرنے کے منصوبے کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔
یہ دوسرا موقع ہے کہ چینی طیارے، جسے مقامی میڈیا رپورٹس میں ’جے-36‘ کا نام دیا گیا ہے، کو ٹیسٹنگ کے دوران دیکھا گیا ہے، اور پہلی مرتبہ ایسا ہے کہ یہ طیارہ چینی کمیونسٹ پارٹی کے زیر انتظام میڈیا نے رپورٹ کیا ہے۔ اس طیارے کی پہلی آزمائشی پرواز دسمبر میں ہوئی تھی۔
اس مثلثی گنکو کے پتے کی شکل کے طیارے کی جھلکیاں اتوار کو قومی نشریاتی ادارے چائنا سینٹرل ٹیلی ویژن( سی سی ٹی وی) نے نشر کیں، مبینہ طور پر فضائیہ کی ایک نسبتاً کم معروف سالگرہ — چوتھی نسل کے J-10 لڑاکا طیارے کی پہلی پرواز کو 27 سال مکمل ہونے — کے موقع پر۔
یہ طیارہ جنوب مغربی سیچوان صوبے کے شہر چنگدو کے اوپر پرواز کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ تجزیہ کاروں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ یہ قابلِ ذکر ہے کہ طیارہ تنہا پرواز کر رہا تھا، اس کے ساتھ کوئی چیس طیارہ (chase plane) نہیں تھا، اور ایسا لگتا تھا کہ طیارے کے لینڈنگ گیئر اور ہوائی حرکیاتی (aerodynamic) صلاحیتوں کی جانچ کی جا رہی تھی۔
امریکہ نے جمعہ کو اعلان کیا کہ بوئنگ امریکی فضائیہ کے لیے چھٹی نسل کا لڑاکا طیارہ — ایف 47— تیار کرے گا، جس منصوبے کو ’نیکسٹ جنریشن ایئر ڈومیننس‘( این جی اے ڈی) کا نام دیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’دنیا میں اس کے قریب بھی کوئی چیز نہیں آتی،‘ اور مزید کہا کہ یہ طیارہ ’ریڈار پر تقریباً ناقابلِ مشاہدہ‘ ہوگا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان دونوں واقعات کے وقت کا تقابل یہ ظاہر کرتا ہے کہ فضائی برتری کی ایک نئی دوڑ شروع ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ بات درست ثابت ہوتی ہے تو جے-36 کی تکمیل دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلا موقع ہو گا جب چین نے امریکہ سے قبل نئی نسل کا عسکری طیارہ تیار کر لیا ہو۔
اگرچہ چینی حکومت کی جانب سے اس طیارے کے بارے میں سرکاری تفصیلات محدود ہیں، لیکن جے-36 کو پہلی بار 26 دسمبر 2024 کو عوامی طور پر دیکھا گیا تھا، جسے اس کی ممکنہ طور پر پہلی آزمائشی پرواز سمجھا جاتا ہے۔ اُس وقت اسے چین کے پانچویں نسل کے سٹیلتھ طیارے، جے-20S (دو نشستوں والا ماڈل)، کے ساتھ اڑتے ہوئے دیکھا گیا تھا، جو اس کا چیس طیارہ تھا۔
جے-36، جسے مبینہ طور پر ’چنگدو ایئرکرافٹ کارپوریشن( سی اے سی) نے تیار کیا ہے، کا ایک مخصوص ’ٹیل لیس‘ یعنی بغیر دم اور ’فلائنگ وِنگ‘ ڈیزائن ہے، جس کا مقصد اس کی ریڈار سے بچنے کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جے-36 کو صرف روایتی ڈاگ فائٹنگ (قریب سے فضائی لڑائی) کے لیے نہیں بنایا گیا بلکہ یہ ایک وسیع تر جنگی نظام میں بطور ’ملٹی رول پلیٹ فارم‘ کام کرے گا۔
اس کا بڑا سائز، جو اندازاً 66 سے 85 فٹ لمبا اور 65 فٹ کے لگ بھگ وِنگ سپین پر مشتمل ہے، ظاہر کرتا ہے کہ یہ طیارہ ایک لڑاکا اور بمبار طیارے کے امتزاج کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔
یہ اندرونی طور پر بھاری ہتھیار، جیسا کہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل یا درست نشانہ لگانے والے بم لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس طیارے کو ممکنہ طور پر دشمن پر دور سے حملہ کرنے اور نظروں سے چھپنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، نہ کہ قریبی لڑائی کے لیے۔
ڈیفنس تجزیہ کار بل سویٹ مین نے ’دی سٹریٹجسٹ‘ میں لکھا کہ جے-36 کا اصل مقصد دشمن کے اہداف پر طویل فاصلے سے میزائل حملے کرنا ہوگا، چاہے وہ اہداف فضا میں ہوں، زمین پر ہوں یا طیارہ بردار بحری جہازوں پر۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے لکھا: ’یہ چین کا سب سے بڑا لڑاکا طیارہ ہے جو انہوں نے خود ڈیزائن اور تیار کیا ہے، اور گذشتہ 35 برسوں میں دنیا میں اڑنے والا دوسرا سب سے بڑا جنگی طیارہ ہے۔‘
جسٹن برونک، جو ’رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ‘ (آر یو ایس آئی) میں سینئر ریسرچ فیلو ہیں، نے کہا کہ جے-36 ان جنگی علاقوں میں نہایت اہم کردار ادا کرے گا جہاں الیکٹرانک جنگ جیسے کہ جیمنگ یا ہیکنگ کی وجہ سے ڈرون طیارے متاثر ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے ’یورایشیئن ٹائمز‘ کو بتایا: ’جے-36 جیسے انسان بردار طیاروں پر انحصار یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ طیارے اب بھی اُن مشکل حالات میں قابلِ بھروسا رہتے ہیں جہاں بغیر پائلٹ کے نظام الیکٹرانک جنگ کی وجہ سے ناکارہ ہو سکتے ہیں۔‘
اپنے تجزیے میں، جو آر یو ایس آئی کے ویب سائٹ پر شائع ہوا، برونک نے کہا کہ چین کو ایسے طیارے درکار ہیں جو فضا میں طویل وقت تک موجود رہ سکیں، خواہ وہ اپنے فضائی حدود کی حفاظت کر رہے ہوں یا بحرِ ہند-الکاہل کے وسیع علاقے میں دشمن کے اہداف پر حملہ کر رہے ہوں۔
انہوں نے مزید لکھا: ’یہ تمام عوامل اس بات کا باعث بنے کہ جے-36 کے لیے ایندھن کی بڑی گنجائش درکار ہو، اور اسی وجہ سے اس کا سائز اتنا بڑا رکھا گیا۔‘
دفاعی خبریں اور تجزیہ فراہم کرنے والی ویب سائٹ ’دی وار زون‘ کی رپورٹ کے مطابق خیال کیا جاتا ہے کہ جے-36 میں تین انجن ہوں گے، جو کہ کسی تاکتیکی لڑاکا طیارے کے لیے غیر معمولی انتخاب ہے، مگر یہ انجن تیز رفتار اور بھاری اسلحہ اٹھانے کی صلاحیت فراہم کر سکتے ہیں۔
دوسری طرف، امریکی فوج نے اب تک این جی اے ڈی طیارے کی شکل و صورت سے متعلق بہت کم تفصیلات ظاہر کی ہیں، اگرچہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اس کے ابتدائی ماڈلز گذشتہ پانچ سال سے ٹیسٹ پروازیں کر رہے ہیں۔
بوئنگ اور لاک ہیڈ مارٹن کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی تصاویری خاکوں میں ایک چپٹی، دم کے بغیر، اور نوکیلی ناک والے طیارے کو دکھایا گیا ہے۔
© The Independent