حکومت پاکستان نے منگل کو پاکستانی صحافیوں کے اسرائیل کے دورے سے متعلق ایک بیان میں کہا کہ پاکستانی پاسپورٹ پر واضح طور پر درج ہے کہ یہ ’اسرائیل کے سفر کے لیے کارآمد نہیں‘، لہٰذا موجودہ قوانین کے تحت ایسا کوئی دورہ ممکن نہیں۔
اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے پاکستانی صحافیوں کے دورہ اسرائیل کے متعلق سوالات پر باظابطہ ایک بیان جاری کیا ہے، جس کے مطابق ’حکومت پاکستان نے ان رپورٹس کا نوٹس لیا ہے جن میں پاکستانی صحافیوں کے اسرائیل کے سفر کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔‘
بیان کے مطابق: ’اس حوالے سے وضاحت کی جاتی ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ پر واضح طور پر درج ہے کہ یہ ’اسرائیل کے سفر کے لیے کارآمد نہیں‘، لہٰذا موجودہ قوانین کے تحت ایسا کوئی دورہ ممکن نہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کا اسرائیل پر مؤقف بدستور برقرار ہے۔
’پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی بھرپور حمایت کرتا ہے، جن میں 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام شامل ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو گا۔‘
’پاکستان فلسطینی مسئلے کے منصفانہ اور پُرامن حل کے لیے اپنی غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کرتا ہے، جو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور فلسطینی عوام کی امنگوں کے مطابق ہو۔‘
اسرائیل کے مختلف ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان صحافیوں، دستاویزی فلم سازوں اور محققین پر مشتمل ایک وفد نے مارچ میں اسرائیل کا خفیہ دورہ کیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق پاکستانیوں کے ایک وفد کو تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس کا دورہ کرایا گیا۔
غیرسرکاری تنظیم شراکا کے وفد کا 13 مئی، 2022 میں ایک گروپ فوٹو، جس میں پاکستانی شہریوں کو اسرائیل میں موجود دیکھا جا سکتا ہے (شراکا)
اسرائیلی اخبار اسرائيل ہيوم کے مطابق دورے کا انتظام اسرائیل کی غیر سرکاری تنظیم شراکہ نے کیا تھا جو اسرائیل کے ایشیائی اور مشرق وسطی کے ممالک سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے کام کرتی ہے۔
وفد کے ارکان نے اسرائیل کے دو شہروں میں کئی مقامات کا دورہ کیا، جن میں عحائب گھر، مسجد االاقصیٰ اور دیگر علاقے شامل ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسرائیلی اخبار کے مطابق ایک صحافی قیصر عباس نے اپنی تصویر ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ اپنی ذاتی حیثیت میں اسرائیل کا دورہ کر رہے ہیں۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے 20 مارچ کو ہفتہ وار بریفنگ میں اس دورے کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔
ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے بریفنگ میں انڈپینڈنٹ اردو کے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ وزارت خارجہ اور حکومت پاکستان کو اس دورے کے بارے میں کوئی پیشگی علم نہیں تھا اور نہ ہی اس کی تفصیلات موجود ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ ’ہمارا اس دورے سے کوئی تعلق نہیں۔ ہمیں اس دورے کے بارے میں میڈیا رپورٹس کے ذریعے ہی پتہ چلا، جو میرے خیال میں گذشتہ روز شائع ہوئی تھیں۔ ہمارے پاس معلومات کا یہی واحد ذریعہ ہیں۔‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ ہم معلومات اکٹھی کر رہے ہیں اور جب ہمارے پاس واضح تصویر ہو گی تو ہم اس پر تبصرہ کر سکیں گے۔