ٹینس کے عالمی نمبر پانچ کھلاڑی رافیئل ندال مستقبل کے اندیشوں کے باوجود 14ویں فرنچ اوپن کا فائنل کھیلنے کے لیے پر امید ہیں۔
کوارٹر فائنل میں اپنے روایتی حریف نوواک جوکووچ کے خلاف چار سیٹ سے فتح حاصل کرنے کے بعد آج (جمعے کو) ندال اپنی 36ویں سالگرہ پر فرنچ اوپن سیمی فائنل میں میں جرمنی کے الیگزینڈر زیویر کا سامنا کریں گے لیکن ان کی پاؤں کی چوٹ ان کی راہ میں رکاؤٹ بن سکتی ہے۔
اے ایف پی کے مطابق نوواک جوکووچ کے خلاف چار سیٹ سے فتح حاصل کرنے کے بعد ہسپانوی کھلاڑی ندال نے کہا: ’میرے لیے گذشتہ ساڑھے تین ماہ میں کچھ بھی آسان نہیں تھا۔ لیکن مجھے آگے بڑھنا ہے۔‘
13 بار فرنچ اوپن کا ٹائٹل اپنے نام کرنے والے ندال پاؤں کی انجری کے باوجود نوواک جوکووچ اور راجر فیڈرر کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اپنا 22واں گرینڈ سلیم ٹائٹل جتنے کے لیے مسلسل جد و جہد کر رہے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا: ’اگر اس انجری کے حوالے سے کوئی بہتری نہیں ہوتی یا اس کا کوئی حل تلاش نہیں کیا جاتا تو یہ (22 واں گرینڈ سلیم ٹائٹل جیتنا) میرے لیے بہت مشکل ہو جائے گا۔‘
تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ مستقبل کے بارے میں سوچے بغیر ہر آنے والے دن اور ملنے والے موقعے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
ندال کی دفاعی چیمپئن اور عالمی نمبر ایک جوکووچ کے خلاف جیت ان کے 17 سالہ کیرئیر کی 110ویں فتح تھی۔
پیرس میں کھلیا گیا کوارٹر فائنل جیتنے کے بعد ندال نے 15ویں بار سیمی فائنل میں جگہ بنائی ہے۔
عالمی نمبر ایک جوکووچ فرنچ اوپن میں ندال سے دوسری بار ہارے ہیں۔
سیمی فائنل جتنے کی صورت میں ندال اتوار کو ٹرافی اٹھانے کے لیے فیورٹ کھلاڑی ہیں۔
جمعے کو دوسرے سیمی فائنل میں مارین سلِک کا مقابلہ کیسپر روڈ سے ہوگا۔