امریکی دھمکی پر ایران کا ’زبردست جوابی کارروائی‘ کا عندیہ

ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے پیر کو امریکی ’دھمکی‘ کے جواب میں کہا ہے کہ ’اگر انہوں نے کوئی شرارت کی تو یقینی طور پر انہیں زبردست کارروائی کا سامنا کرنا ہو گا۔‘

اس فائل فوٹو میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دیکھا جا  سکتا ہے (اے ایف پی)

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے پیر کو کہا ہے کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کو بمباری کی دھمکی پر امریکہ نے عمل کیا تو اسے ’زبردست جوابی کارروائی‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران مارچ کے آغاز میں ایرانی قیادت کو بھیجے گئے خط میں مذاکرات کی پیشکش قبول نہیں کرتا تو اسے ’بمباری‘ کا سامنا کرنا ہوگا۔

اس خط میں تہران کو فیصلہ کرنے کے لیے دو ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔

امریکی صدر کی اس ’دھمکی‘ کے جواب میں خامنہ ای نے کہا کہ ’امریکہ اور اسرائیل کی (ایران کے ساتھ) دشمنی ہمیشہ سے رہی ہے۔ وہ ہمیں حملے کی دھمکیاں دیتے ہیں جن پر عمل ہمیں زیادہ ممکن نہیں لگتا، لیکن اگر انہوں نے کوئی شرارت کی تو یقینی طور پر انہیں زبردست کارروائی کا سامنا کرنا ہو گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اور اگر وہ ملک کے اندر ماضی کی طرح کوئی فتنہ برپا کرنے کا سوچ رہے ہیں تو ایرانی عوام خود ان سے نمٹ لیں گے۔‘

ایرانی حکام 2022-2023 کا وہ احتجاج جو مہسا امینی کی حراست میں موت کے بعد کیا گیا۔ اور 2019 میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ملک گیر مظاہروں کا الزام مغرب پر عائد کرتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے ایران نے امریکہ کے خط کا جواب دیا تھا اور صدر مسعود پزشکیان نے اتوار کو وضاحت کی کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ براہ راست مذاکرات نہیں کرے گا تاہم آیت اللہ خامنہ ای کی ہدایت کے مطابق بالواسطہ بات چیت جاری رکھنے پر تیار ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اپنے پہلے دور صدارت (2017 سے 2021) میں ٹرمپ نے امریکہ کو اس 2015 کے معاہدے سے یکطرفہ طور پر الگ کر لیا تھا جو ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پایا تھا اور جس کے تحت تہران کی متنازع جوہری سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں، بدلے میں ایران کو پابندیوں کے خاتمے کی سہولت دی گئی تھی۔

ٹرمپ نے نہ صرف یہ معاہدہ منسوخ کر دیا بلکہ امریکہ کی جانب سے وسیع پابندیاں دوبارہ عائد کر دیں۔

اس کے بعد سے ایران نے یورینیئم کی افزودگی کے حوالے سے معاہدے کی حدود سے کہیں آگے تجاوز کر لیا۔

مغربی طاقتیں ایران پر الزام لگاتی ہیں کہ وہ خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کے لیے یورینیئم کو اعلیٰ سطح پر افزودہ کر رہا ہے، جو ان کے بقول کسی بھی ایٹمی توانائی کے سول پروگرام کے لیے درست نہیں۔

تہران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر توانائی کے غیر فوجی مقاصد کے لیے ہے۔

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا