سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق غیر مسلم صحافی کو مکہ میں داخل ہونے میں مدد فراہم کرنے پر ایک سعودی شہری کو حراست میں لے لیا گیا ہے جس کے بعد ان کے خلاف عدالتی کارروائی کی جائے گی۔
سعودی شہری کو جمعے کو حراست میں لینے کے بعد پبلک پراسیکیوٹر کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک غیرمسلم صحافی کی مکہ میں غیرقانونی طور پر داخل ہونے میں مدد کی تھی۔
واضح رہے کہ سعودی عرب کے قانون کے مطابق کسی بھی غیر مسلم کے مکہ میں داخلے پر پابندی ہے۔
ایس پی اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی شہری کا کیس سعودی پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے، جنہوں نے غیرمسلم صحافی جن کے پاس امریکی شہریت ہے کی مقدس شہر مکہ میں داخلے اور اس راستے سے منتقل کرنے میں مدد کی جو صرف مسلمانوں کے لیے ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اس لیے انہیں گرفتار کیا گیا ہے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔‘
خیال رہے کہ اسرائیل کے چینل 13 نیوز نے پیر کو سعودی عرب سے اپنے ایک صحافی گل تمری کی 10 منٹ کی رپورٹ نشر کی تھی جس میں انہیں مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام کے ساتھ ایک کار میں سفر کرتے اور جبل رحمت پر چڑھتے دکھایا گیا تھا۔
تاہم سوشل میڈیا پر آن لائن ردعمل کے بعد اسرائیلی صحافی گل تمری نے خود بھی اس واقعہ پر معافی بھی مانگ لی تھی۔
ایک اسرائیلی وزیر نے اس اسرائیلی صحافی کی ٹی وی رپورٹ کی مذمت کی تھی۔
ایس پی اے کے مطابق جرم کرنے والے صحافی کو بھی پبلک پراسکیوٹر کے حوالے سے کر دیا گیا ہے اور اس حوالے سے بھی تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
اس حوالے سے جمعے کو مکہ پولیس کے ترجمان نے متنبہ کیا ہے کہ سعودی عرب آنے والے غیرملکی ملک کے قوانین کا احترام اور ان پر عمل کریں، خاص طور پر مکہ میں مسجد الحرام اور مدینہ میں مسجد نبوی سے متعلق۔
مکہ پولیس کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’غیر مسلموں پر پابندی کی کسی قسم کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایسا کرنے والوں کو سزا دی جائے گی۔‘