ایسے عالمی ادارے کا حصہ نہیں بن سکتے جو تماشائی ہو: پاکستان کا غزہ پر بیان

پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ غزہ میں جاری سنگین انسانی بحران سلامتی کونسل کی عدم فعالیت کو ظاہر کرتا ہے اور یہ ایک خطرناک بات ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اسرائیل عالمی قراردادوں، فائر بندی کے معاہدے اور قوانین کی خلاف ورزی کرتا آ رہا ہے اور اب وقت ہے کہ سلامتی کونسل افسوس کی بجائے فوری اقدام لے۔

پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ غزہ میں جاری سنگین انسانی بحران سلامتی کونسل کی عدم فعالیت کو ظاہر کرتا ہے اور یہ ایک خطرناک بات ہے۔

’ہمارا یہ طرز عمل نہ صرف اس ادارے کو کمزور کرتا ہے بلکہ اقوام متحدہ کے منشور پر قائم بین الاقوامی نظام کو بھی مجروح کرتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اسرائیل جس بے خوفی سے سلامتی کونسل کی قراردادوں، جنگ بندی کے معاہدے، بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے منشور اور جنیوا کنونشنز سمیت تمام تہذیبی اصولوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے، اس سے فلسطینی عوام یہ سوال کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ آیا سلامتی کونسل کبھی کوئی موثر اقدام کرے گی یا صرف ان کے مصائب پر افسوس کا اظہار ہی کرتی رہے گی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے اس موضوع پر مزید کہا کہ ’جو کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے وہ انسانیت کے ساتھ سنگین مذاق ہے۔ یہ ناقابل قبول ہے۔ سلامتی کونسل کو فوری اقدام کرنا ہوگا۔ ہم ایسے ادارے کا حصہ نہیں بن سکتے جو محض تماشائی بنا رہے اور کچھ نہ کرے۔‘

پاکستانی کے مستقل مندوب نے کہا کہ گذشتہ ماہ فائر بندہ معاہدہ توڑنے کے بعد اسرائیل نے مزید 1100 فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے، جس سے 2023 کے اکتوبر سے 2025 کے جنوری تک اموات کی تعداد 50,000 سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں 17,000 بچے شامل ہیں۔

سفیر عاصم نے زور دیا کہ سلامتی کونسل اور عالمی برادری کو محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے فوری اور موثر عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔

انہوں نے پاکستان کی جانب سے فوری اقدامات کا مطالبہ دہرایا۔

ان اقدامات میں مطالبہ کیا گیا کہ جنگ بندی اور 19 جنوری کے معاہدے پر مکمل عمل درآمد، اور اس کا دائرہ مغربی کنارے تک بڑھایا جائے۔ اسرائیل کی غیر قانونی ناکہ بندی فوری طور پر ختم کی جائے تاکہ انسانی امداد کی آزادانہ ترسیل ممکن ہو۔ اقوام متحدہ کے عملے اور امدادی کارکنان کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے، اور خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے کے لیے اقوام متحدہ کی سربراہی میں ڈیش بورڈ قائم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بچوں کے عالمی ادارے یونیسیف کے مطابق دس لاکھ بچے بنیادی ضروریات سے محروم ہیں جبکہ عالمی ادارہ خوراک غزہ میں شدید قحط کی وارننگ دے چکا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب نے نشاندہی کی کہ بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنا جنگی جرم ہے۔

پاکستانی سفیر کے بقول مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل نے 40,000 سے زائد فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا ہے جو کہ 1967 کے بعد سب سے بڑی جبری نقل مکانی ہے۔

انہوں نے دہرایا کہ پاکستان 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی مکمل حمایت کرتا ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا