ایک مقبول جاپانی ورائٹی شو، جو نِپّون ٹیلیویژن پر نشر ہوتا ہے، نے ایک چینی خاتون کے سڑک پر گفتگو کو اس انداز میں ایڈیٹ کرنے پر معافی مانگی ہے کہ گویا ان کے ملک میں لوگ کوے کھاتے ہیں۔
یہ متنازع حصہ 24 مارچ کو’منڈے لیٹ نائٹ‘ شو میں نشر کیا گیا تھا اور یہ ٹوکیو میں رہائش سے متعلق شو کے ’سٹریٹ انٹرویو‘ سیکشن کا حصہ تھا۔
روزنامہ ’آساہی شمبن‘ کے مطابق، ایک چینی خاتون نے انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے اپنے ملک میں بہت کم کوے دیکھے ہیں، اور ایک علیحدہ گفتگو میں ذکر کیا کہ کچھ چینی لوگ کبوتر کھاتے ہیں۔
تاہم، شو میں ان دونوں بیانات کو جوڑ کر اس طرح پیش کیا گیا کہ گویا وہ کہہ رہی ہیں کہ چینی لوگ کوے کھاتے ہیں۔
حتمی ایڈٹ میں، خاتون نے کووں کے متعلق اپنا مشاہدہ بتایا، جس کے بعد یہ جملہ شامل کیا گیا: ’اس کی وجہ یہ ہے کہ سب لوگ انہیں کھا لیتے ہیں۔ بس انہیں پکائیں اور کھا لیں، بس اتنا ہی۔‘
شو نے فوری طور پر شدید ردِعمل کو جنم دیا، اور کئی ناظرین نے اس پر تنقید کی کہ یہ ایک منفی تاثر کو فروغ دے رہا ہے اور حقیقت کو غلط انداز میں پیش کر رہا ہے۔
نیٹ ورک نے گذشتہ ہفتے اپنی باضاطہ ویب سائٹ پر چینی اور جاپانی دونوں زبانوں میں معذرت نامہ جاری کیا اور اس قسط کو ہٹا دیا۔
بیان میں کہا گیا: ’یہ چیز ٹیلی ویژن نشریات میں کبھی نہیں ہونی چاہیے۔ ہم انٹرویو دینے والی خاتون اور تمام ناظرین سے مخلصانہ معذرت خواہ ہیں۔ ہم اپنے پروڈکشن کے عمل کا مکمل جائزہ لیں گے تاکہ دوبارہ ایسا نہ ہو۔ ہمیں اس واقعے پر بہت افسوس ہے۔‘
بعد ازاں نیٹ ورک نے انکشاف کیا کہ یہ سیگمنٹ ایک فری لانس ایڈیٹر نے دانستہ طور پر اس طرح ایڈیٹ کیا تاکہ شو کو زیادہ دلچسپ بنایا جا سکے۔
نیٹ ورک کے صدر ہیرویوکی فُکودا نے پیر کو معافی مانگی اور وضاحت کی کہ شو کے سٹریٹ انٹرویوز کو معطل کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے پبلک براڈکاسٹر این ایچ کے کو بتایا: ’یہ دانستہ ایڈیٹنگ تھی، صرف اس لیے اسے زیادہ مزاحیہ بنایا جا سکے۔ یہ ہر لحاظ سے نامناسب تھا۔‘
جاپانی میڈیا نے بتایا کہ شو کے نشر ہونے سے پہلے، پروڈکشن عملے کو یہ احساس نہیں ہوا کہ انٹرویو کے بیانات میں ایڈیٹنگ کی گئی تھی۔
نپّون ٹی وی نے وضاحت کی کہ شو کے ڈائریکٹر نے پروڈکشن ٹیم کو ہدایت دی تھی کہ اس بیان کی جانچ کی جائے۔ ایک سٹاف رکن نے ایک سرکاری ویب سائٹ اور دیگر ذرائع سے چیک کیا، اور پایا کہ چین کے کچھ علاقوں میں کوے کھانے کی روایت موجود ہے۔ پھر ایک کیپشن شامل کیا گیا جس میں وضاحت کی گئی کہ یہ رواج پورے ملک میں عام نہیں۔
تاہم، جب سیگمنٹ نشر ہوا اور سوشل میڈیا پر ہنگامہ مچا، تب عملے کو پتہ چلا کہ فوٹیج کو جان بوجھ کر توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا تھا۔
ساوتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق، اس چینی خاتون نے ایک سکرین شاٹ میں، جو سوشل میڈیا پر خوب شیئر ہوا، وضاحت کی کہ ان کا بیان توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا: ’انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ رات کے کھانے میں کیا کھاتی ہیں،‘ اور انہوں نے بتایا کہ ’انہیں پکانے اور کھانے‘ کا بیان ہاٹ پاٹ کے بارے میں تھا۔
انہوں نے مزید کہا: ’میں نے کہا کہ ہم کبوتر کھاتے ہیں، اس لیے سڑک پر کم دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن اسے بدنیتی سے ایڈیٹ کیا گیا۔‘
قابل ذکر ہے کہ کبوتروں کو دنیا کے کئی حصوں میں، بشمول چین، ایک لذیذ کھانے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
تاکاہیکو کاگے یاما، جو دوشیشا ویمنز کالج آف لبرل آرٹس کے پروفیسر ہیں، نے آساہی شمبن سے گفتگو میں کہا: ’یہ تعصب پیدا کرتا ہے۔ یہ کسی بھی صنف کے لیے قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ اس شو نے نہ صرف چینی افراد کا مذاق اڑایا بلکہ سٹریٹ انٹرویوز کے خلاف بداعتمادی کو بھی فروغ دیا۔
© The Independent