اسرائیلی فوج نے جمعے کو اعلان کیا کہ اس نے فلسطینی علاقے میں اپنے قائم کردہ سکیورٹی زون کو وسعت دینے کے لیے غزہ سٹی کے مشرق میں نئی زمینی کارروائی شروع کر دی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی (اے ایف پی) کے مطابق اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا: ’گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران... شمالی غزہ کے علاقے شجاعیہ میں فوجی زمینی سرگرمیوں میں مصروف ہیں تاکہ سکیورٹی زون کو وسعت دی جا سکے۔‘
وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بدھ کو کہا تھا کہ اسرائیل غزہ پٹی کے اندر اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کرے گا تاکہ ’دہشت گردوں اور ان کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ اور علاقے کو صاف کیا جا سکے۔‘
انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران ’وسیع علاقے قبضے میں لیے جائیں گے جو اسرائیلی سکیورٹی زون میں شامل ہوں گے‘، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کتنا علاقہ قبضے میں لیا جائے گا۔
وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے کہا کہ فوج غزہ کو تقسیم کر رہی ہے اور ’علاقے پر قبضہ کر رہی ہے‘ تاکہ حماس کو مجبور کیا جا سکے کہ وہ ان اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرے جو اکتوبر 2023 کے دوران پکڑے گئے تھے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اے ایف پی نے غزہ کی شہری دفاعی ایجنسی کے حوالے سے خبر دی تھی کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں جمعرات کی صبح کم از کم 15 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
اس سے قبل بدھ کو اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نےغزہ کی پٹی میں فوجی کارروائی میں بڑی توسیع کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ فوج فلسطینی علاقے کے ایک ’بڑے حصے‘ پر قبضہ کرنے جا رہی ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ ’کارروائی میں توسیع سے بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا جائے گا جسے اسرائیلی سکیورٹی زونز کا حصہ بنا لیا جائے گا۔‘
غزہ میں تقریباً دو ماہ تک قائم رہنے والے سیز فائر معاہدے کے اختتام کے بعد 18 مارچ کو اسرائیل نے دوبارہ سے غزہ پر بمباری کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔
اسرائیل کی جانب سے دوبارہ شروع کی جانے والی بمباری کے نتیجے میں غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق اب تک فلسطینی علاقے میں ایک ہزار سے زائد افراد قتل کیے جا چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کے تازہ حملے میں گذشتہ دو ہفتوں کے دوران کم از کم 322 بچے قتل اور 609 زخمی ہوئے ہیں۔
مارچ میں اسرائیلی ٹینک کے حملے میں بلغاریہ سے تعلق رکھنے والے اقوام متحدہ کے عملے کا ایک رکن قتل جبکہ پانچ ملازمین زخمی ہو گئے۔
جبکہ اسرائیل کے ایک اور حملے میں ایک صحافی قتل ہو گیا تھا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے کہا کہ عالمی ادارہ غزہ میں کام کرنے والے اپنے تقریباً 100 افراد پر مشتمل بین الاقوامی عملے میں سے ایک تہائی کو عارضی طور پر وہاں سے منتقل کر دے گا۔