جنوبی کوریا: عدالت کا صدر یون سک کا مواخذہ برقرار رکھنے کا فیصلہ

یہ فیصلہ عدالت کے آٹھ ججز کی جانب سے متفقہ ہے، جن کو یون سک کے حامیوں کی جانب سے مظاہروں اور پولیس کے ساتھ کشیدگی کے باعث زیادہ سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔

آٹھ مارچ 2025 کی ویڈیو فوٹیج کی اس تصویر میں سیول میں جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول کو دیکھا جاسکتا ہے (اے ایف پی ٹی وی)

جنوبی کوریا میں آئینی عدالت نے جمعے کو صدر یون سک یول کے مارشل لا نافذ کرنے کے اعلان کے بعد ان کے مواخذے کو برقرار رکھا جس کے بعد ان کو آئین کی خلاف ورزی کرنے پر دفتر سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 64 سالہ یون کو قانون سازوں نے تین دسمبر کو سویلین حکمرانی کو ختم کرنے کی کوشش پر معطل کر دیا تھا، جس میں ان کی طرف سے مسلح فوجیوں کو پارلیمنٹ میں تعینات کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ انہیں ایک الگ فوجداری مقدمے میں بغاوت کے الزام میں بھی گرفتار کیا گیا تھا۔

ان کی معطلی کے بعد نئے صدارتی انتخابات 60 دنوں کے اندر ہونا لازمی ہیں۔

اس حوالے سے عدالت کے عبوری صدر مون یونگ بے نے کہا کہ ’(یون) کی آئینی خلاف ورزیوں کے سنگین منفی اثرات کے باعث (ہم) جواب دہندہ صدر یون سک یول کو برطرف کرتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ فیصلہ عدالت کے آٹھ ججز کی جانب سے متفقہ ہے، جن کو یول کے حامیوں کی جانب سے مظاہروں اور پولیس کے ساتھ کشیدگی کے باعث زیادہ سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔

ججز نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’یون کے اقدامات سے جمہوری حکومت، قانون کے اصولوں کی پامالی ہوئی ہے اور اس سے آئینی قانون کی اہمیت اور جمہوری رپبلک کی سالمیت کو ٹھیس پہنچی ہے۔‘

ان کے مطابق مسلح فوجیوں کو پارلیمنٹ میں بھیجنے کے یون کے فیصلے نے ’مسلح افواج کی سیاسی غیر جانبداری اور سپریم کمانڈ کے فرائض کی خلاف ورزی کی۔‘

ججز نے کہا کہ یون نے فوجیوں کی تعیناتی ’سیاسی وجوہات‘ کے باعث کی۔

انہوں نے فیصلہ سنایا، ’آخر میں، مدعا علیہ کے غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات نے عوام کو دھوکہ دیا اور یہ قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے جسے آئین کے تحفظ کے نقطہ نظر سے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔‘

یون دوسرے جنوبی کورین رہنما ہیں جنہیں مواخذے کا سامنا کرنا پڑے گا، اس سے قبل عدالت نے 2017 میں پارک گیون ہیئ کو معذول کیا تھا۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا