کراچی میں قائم فرم ’سیڈ وینچرز‘ کے بانی اور ڈائریکٹر فراز خان کو برطانیہ کے بادشاہ چارلس نے ممبر آف دا موسٹ ایکسیلنٹ آرڈر آف دا برٹش ایمپائر (MBE) سے نوازا جا رہا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو نے ایمپیکٹ انویسمنٹ منصوبے کے بانی فراز خان کا خصوصی انٹرویو کیا جس میں انہوں نے اپنے کام اور زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
فراز خان کے مطابق انہیں یہ ایوارڈ برطانیہ اور پاکستان کے تعلقات کو بہتر بنانے کی وجہ سے دیا جا رہا ہے۔
وہ کہتے ہیں سماجی انٹرپرائز کے اثرات اور موسمیاتی تبدیلی کے دور میں وہ گذشتہ 15 سالوں سے ایک ادارہ چلا رہے ہیں جس کا نام ’سیڈ ونچرز‘ ہے جہاں قانون سازی اور ادارہ جاتی نقطہ نظر سے سماجی انٹرپرائز کے اثرات اور سرمایہ کاری، پالیسی اور ماحولیاتی نظام پر مختلف تنظیموں کے ساتھ کام کرتے ہیں۔
’پاکستان اور برطانیہ کے اشتراک سے کافی کام کیا جسے سراہا جا رہا ہے۔‘
اس منصوبے کا خیال انہیں کیسے آیا؟
فراز خان نے بتایا: ’سال 2008 میں جب میں لندن میں تھا اور ایک کورس میں شریک ہوا جہاں سماجی اثرات اور انٹرپرائز متعارف کروائے گئے، مجھے تب سمجھ آ گیا کہ یہ ایک ٹھیک طریقہ ہے، جب مشکلات آتی ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کا کوئی حل بھی ہے۔
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: ’وہیں بیٹھے ہوئے سیڈ منصوبے کا نام میرے ذہن میں آیا۔ یہاں میں بیٹھا ہوں لیکن اس میں وہ تمام افراد شریک ہیں جو اس منصوبے سےجڑے ہوئے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ سیڈ وینچرز کی چیف ایگزکیٹو آفیسر شائستہ عائشہ کی بھی اس تمام کام میں بہت بڑی کاوش ہے۔
نوکری تلاش کرنے سے لے کر نوکریاں پیدا کرنے تک
فراز خان کا کہنا ہے کہ ان کا ادارہ ماحولیاتی نظام پر بچوں، خواتین، نوجوانوں اور پسماندہ کمیونٹی کے ساتھ کام کرتا ہے۔
’بنیادی طور پر پاکستان میں کئی افراد کی ذہنیت ہے کہ نوکری کی تلاش کرنی ہے، ہم نوکری تلاش کرنے والی ذہنیت کو لے کر نوکری پیدا کرنے والی ذہنیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بچے یونیورسٹیوں میں جانے کے بعد نوکری کی تلاش کرتے ہیں۔ ہم نےمختلف انکیوبیشن مراکز اور پروگرام شروع کیے جہاں یونیورسٹی جانے والے بچوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کی طرف راغب کیا۔‘
انہوں نے بتایا کہ کنگ چارلس کے ’پرنس ٹرسٹ انٹرنیشنل‘ بچوں کے پروگرام میں پاکستان بھر کے سکولوں کے بچوں کو اپنی کمپنی کھولنے کے طریقہ بتاتے ہیں۔ یہ پروگرام اتنا اثر انگیز ہوا کہ معتبر معاشی جریدہ فوربس نے اسے دنیا کے بہترین پانچ پروگراموں میں شامل کیا۔
خواتین پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں لیکن دور دراز علاقوں میں کام کرنے والی خواتین کے کام کو صحیح طریقے سے تسلیم نہیں کیا جاتا اور نہ وہ باقاعدہ طور پر فارمل اکانومی کا حصہ ہیں، اس لیے ہم انہیں اس کا حصہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
فراز خان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ’انٹرپرائز چیلنج پاکستان‘ کے نام سے انہوں نے کافی کام کیا جس کا بہت اچھا رسپانس سامنے آیا۔
’بلوچستان میں جو صلاحیت ہے اور جو جذبہ وہاں کے بچوں کا ہے ایسا بہت کم جگہوں پر دیکھا ہے۔‘
فراز خان کا تعلق کہاں سے ہے؟
کوئٹہ میں پیدا ہونے والے فراز خان ایک پاکستانی نژاد برطانوی ہیں جو گذشتہ 15 سال سے social impact investments کے شعبے سےمنسلک ہیں۔
ان کی والدہ کوئٹہ سے جبکہ والد کا تعلق شمالی علاقہ جات سے ہے۔
ان کا کہنا ہے:’میرے والد نے میری زندگی میں بہت اہم کردار ادا کیا، وہ ایک سرکاری ملازم تھے اور میں نے ایک سرکاری سکول سے تعلیم حاصل کی، بعد میں لندن سے ماسٹرز کیا اور بینکنگ سیکٹر میں شمولیت اختیار کی اور پاکستان کے کئی بڑے اداروں کے ساتھ کام کیا۔‘
فراز خان اور ان کا ادارہ دوسروں کی زندگی کیسے تبدیل کر رہا ہے؟
انہوں نے بتایا ’انٹرپرائز انٹرنیشنل‘ پروگرام کے تحت بلوچستان کے ضلع پشین میں سکول کے طالب علموں نے سماجی انٹرپرائز بنائی جہاں انہوں نے خواتین اساتذہ کو سکول سے آنے اور لے جانے کا بندوبست کیا۔
’انتہائی کم وسائل والے علاقے میں لڑکوں کے دماغ میں یہ خیال آنا اور اس سے ان کے پیسے کمانا بڑی بات ہے۔‘
انہوں نے کہا: ’جب ہم نے کراچی میں چھوٹی سی نرسری چلانے والے افراد کو تربیت دی اور آئی پیڈ فراہم کیے، چار ماہ میں ان کی آمدنی بھی بڑھی اور ان کی سوچ میں تبدیلی بھی آئی کے پودے صرف لگانے نہیں ہیں انہیں وہ سجا کر بھی پیسے کما سکتے ہیں۔ اس سے ان کے گھر کے حالات بھی بہتر ہوئے اور چھ سات افراد کو اپنے ساتھ کام پر رکھ کر روزگار بھی فراہم کیا۔ ‘
ان کے مطابق ایسے واقعات سے معیشت مائیکرو لیول پر بہتر ہوتی ہے۔ یہ دونوں کہانیاں اس یقین کا مثبت احساس دلاتی ہیں کہ یہ ٹھیک کام ہے اور اس سے پاکستان میں اجتماعی اور انفرادی سطح پر بہتری آ سکتی ہے۔
فراز خان کے مطابق ’پاکستان اس وقت مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ ہم برطانیہ اور پاکستان کے اشتراک سے موسمیاتی کاونسل بنانےکا سوچ رہے ہیں جس سے کمیونٹی بھی متاثر ہوگی۔ پاکستانی صارفین کنسیومر مائنڈ سیٹ سے گزر رہے ہیں جہاں انہیں چیزیں خریدنی ہیں۔ جب آپ ذہنیت تیار/ تخلیق کرتے ہیں پھر آپ کے ملک کی تقدیر بدلتی ہے۔‘