لاہور: محمود بوٹی کچرا کنڈی، مستقبل کا 5 میگا واٹ سولر پارک

لاہور کے علاقے محمود بوٹی کی کچرا کنڈی کی جگہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی سولر پارک بنانے جا رہی ہے جو جولائی 2025 میں مکمل ہو جائے گا۔

لاہور کے رہائشی محمود بوٹی کے نام سے اچھی طرح واقف ہیں، ویسے تو یہ نام سنتے ہی ذہن میں کچرے کے بدبو پھیلاتے پہاڑ تصور میں آجاتے ہیں لیکن اب کچھ عرصے سے یہ پہاڑ غائب ہو گئے ہیں۔

کیا یہ کچرا کہیں اور پھینک دیا گیا ہے تو جواب ہے بالکل بھی نہیں۔ کچرا اپنی جگہ پر موجود ہے لیکن اب اس پر مختلف اقسام کی مٹی اور دیگر اجزا کی تہیں بچھا دی گئی ہیں کیونکہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (روڈا) یہاں سولر پارک بنانے جارہی ہے جو جولائی 2025 میں مکمل ہو جائے گا۔

روڈا کے کمیونیکیشن اینڈ کلائمیٹ چینج کے ڈائریکٹر عابد لطیف نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا: ’محمود بوٹی1997 میں کچرا کنڈی بنی اور یہاں پورے شہر کا کچرا لا کر پھینکنا شروع کیا گیا اور یہ کام 2016 تک جاری رہا۔

’اس وقت وہاں 13 ملین ٹن سے زیادہ کچرا پڑا ہوا ہے۔ 2016 کے بعد یہاں جگہ ختم ہو گئی اور کچرا وہاں ویسے ہی پڑا رہا جس کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی کے بہت سے مسائل درپیش ہوئے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس کچرے کی وجہ سے علاقے کے اندر دور دور تک بہت بدبو تھی دوسرا یہاں سے نکلنے والی میتھین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی وجہ سے ہوا کا معیار بہت گر چکا تھا جس کا موسم پر اثر تھا۔

’کیونکہ میتھین گرین ہاؤس گیس کا اثر ہے جو گرمی میں اضافہ کرتی ہے اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ لاہور کے اندر درجہ حرارت میں ایک سے دو ڈگری کے اضافے کی کافی حد تک وجہ محمود بوٹی بھی تھا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید بتایا کہ ’اتنے ملین ٹن کچرے کے ڈھیر میں لیچیٹ پیدا ہو رہی تھی جو زیر زمین جا رہی تھی اور زمین کے اندر یہ مضر صحت کیمیکل بہت دور تک چیزوں کو خراب کر رہا تھا اور انسانی زندگی پر بھی برے اثرات مرتب کر رہا تھا۔

’جب روڈا کے علاقے میں محمود بوٹی آگیا تو یہ ہمارے لیے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان تھا جس شعبے کا مقصد ہی ماحولیات ہے وہاں محمود بوٹی کو ایسے ہی چھوڑ دینا روڈا کے لیے بہت مشکل تھا۔ اس لیے ہم نے لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی سے رابطہ کیا، انہوں نے یہ کام ہمارے ہی ذمے لگا دیا کہ ہم ہی اس کچرے کو ٹھکانے لگائیں اور اس مسئلے کو حل کریں۔‘

عابد لطیف نے بتایا: ’ہمارا اور لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کا ایک معاہدہ ہوا جس کے تحت روڈا کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ ہم محمود بوٹی کو صاف کریں۔‘

انہوں نے بتایا: ’جولائی 2024 میں جب محمود بوٹی روڈا کے حوالے ہوا تو ہم نے ایک بھی دن ضائع کیے بغیر اس پر کام شروع کر دیا اور چھ سات ماہ کے وقت کے اندر اندر ہم وہاں 70 فیصد کام مکمل کر چکے ہیں۔ باقی کا کام جس میں اس کے اربن فارسٹ، کیپنگ، میتھین گیس کو نکالنے کے کنویں وغیرہ یہ سب کچھ جولائی 2025 میں مکمل ہو جائے گاجبکہ یہاں جو سولر پارک بننا ہے وہ اگلے تین مہینے میں مکمل ہو جائے گا۔‘

عابد لطیف نے بتایا کہ ’محمود بوٹی میں 13 ملین کیوبک میٹر کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا ہو رہی تھی اور یہاں پر 13.18 ملین کیوبک میٹر میتھین پیدا ہو رہی تھی اس لیے میتھین کو اکٹھا کرنے کے لیے روڈا نے یہاں 52 کنویں بنائے ہیں جو اس کچرا کنڈی کے اندر ہر 30 میٹرکے فاصلے پر ہیں۔

’ان کنووں کے اندر ویکیوم پمپس لگائے جائیں گے اور وہاں سے جو گیس نکلے گی اسے ایک جگہ جمع کیا جائے گا اور پھر ایک پلانٹ میں اسے ٹریٹ کیا جائے گا، وہ پلانٹ بھی ہم نے باہر سے منگوایا ہے جو ایک ماہ میں یہاں پہنچ جائے گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہاں جو لیچیٹ کا مسئلہ ہے اس کے لیے زمین کے اندر 13 کنویں بنائے گئے ہیں اور وہاں تمام لیچیٹ جمع ہو گی اور اسے بھی ایک ٹریٹمنٹ پلانٹ سے گزار کر اسے چھوڑا جائے گا۔

انہوں نے بتایا: ’کل 43 ایکڑ کا رقبہ ہے جس میں سے 11 ایکڑ پر اوپر کا حصہ ہے اس پر پانچ میگا واٹ کا سولر پاور پلانٹ لگایا جا رہا ہے جس سے گرین انرجی پیدا ہو گی جبکہ باقی کے 31.9 ایکڑ پر اربن فارسٹ بنایا جا رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جب روڈا نے یہ کام شروع کیا تو سب سے بڑا چیلنج یہاں کی ڈھلوان کو مستحکم کرنا تھا جس کے لیے روڈا کے انجینیئرنگ ڈپارٹمنٹ نے دن رات یہاں کام کیا اور ’اس ڈھلوان کو مستحکم کرنے کے لیے پہلے تین میٹر کے قریب مٹی ڈالی گئی جس کے اوپر ایک جیو میمبرین ڈالی گئی اس میمبرین کے اوپر نکاسی کا نظام ڈالا گیا اس کے اوپر پھر زمین کی تہہ ڈالی گئی اور پھر اوپر کی سطح پر مٹی ڈالی گئی جس کے بعد یہاں کی ڈھلوان مستحکم ہو چکی ہے.

’پلیٹو پر گیس کی خراج کا سارا سسٹم لگ چکا ہے اور 70 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’اس سارے پروجیکٹ پر ابھی تک ہمارے 1.7 بلین روپے خرچ ہو چکے ہیں جبکہ اسے مکمل کرنے کے لیے ٹوٹل خرچ 2.5 بلین روپے ہے جس کے لیے حکومت نے کوئی فنڈنگ نہیں کی بلکہ سارا پیسہ روڈا نے لگایا ہے اور روڈا یہ سارا پیسہ کاربن کریڈٹس کے ذریعے واپس لے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کاربن کریڈٹس کے لیے روڈا کا آدھے سے زیادہ کام ہو چکا ہے، ’ہم بین القوامی رجسٹریز اور بروکر ہاؤسسز کے ساتھ رابطے میں ہیں اور کاربن کریڈٹ کے ذریعے ہم جتنا بھی اس پروجیکٹ پر خرچہ ہوا ہے وہ واپس لیں گے اور ہمیں امید ہے کہ ہر سال 2.3  بلین روپے ہمیں کاربن کریڈٹس کی مد میں آئیں گے اور یہ پیسہ ہمیں 20 سال تک ملتا رہے گا۔

انہوں نے بتایا کہ ’یہ پارک لوگوں کے لیے کھولا جائے گا تاکہ وہ یہاں آکر دیکھیں کہ کیسے ماحولیاتی بہتری کے لیے ایک قدم اٹھایا گیا ہے اور یہ پارک لوگوں کو متاثر بھی کرے گا اور یہ ایک علامتی پارک ہو گا جہاں ہرا رقبہ زیادہ ہو گا اور بہت سے درخت ہوں گے اور عوام کو بھی اس میں دلچسپی ہو گی کہ وہ وہاں آ کر دیکھیں کہ کیسے ایک جگہ مکمل طور پر تبدیل ہو گئی۔

عابد لطیف نے یہ بھی بتایا کہ لاہور سے اب بھی ہر روز چھ ہزار ٹن کے قریب کچرا اکٹھا ہو تا ہے ’اب چونکہ محمود بوٹی بند ہے تو اس لیے اب یہ کچرا لکھو ڈیر کے مقام پر 150 ایکڑ پر پھیلی کچرا کنڈی میں پھینکا جا رہا ہے۔ یہ روایتی جگہ ہے، روڈا کا یہ بھی پیشکش ہے کہ روڈا تین سو ایکڑ کی سائنٹفک سائٹ بابو صابو پر بنا کر دینے کو تیار ہے جسے محمود بوٹی کی طرح پہلے تہیں لگا کر تیار کیا جائے اور پھر استعمال کیا جائے لیکن ابھی کچرا لکھو ڈیر میں پھینکا جارہا ہے اور 13 سے 14 ملین ٹن کچرا اکٹھا ہو چکا ہے اور وہ سائٹ بھی محمود بوٹی کی طرح روایتی سائٹ ہے۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات