سوڈان سے انخلا جاری، مزید 97 پاکستانیوں کی وطن واپسی

پاکستان ایئر فورس کے مطابق ایک سی 130 طیارہ جدہ سے 97 پاکستانیوں کو لے کر کراچی ہوائی اڈے پہنچ گیا۔

29 اپریل، 2023 کو جدہ سے کراچی پہنچنے والے پاکستانی شہری (تصویر پاکستان ایئر فورس)

پاکستان ایئر فورس نے ہفتے کو بتایا کہ جنگ زدہ ملک سوڈان سے مزید 97 پاکستانی واپس وطن پہنچ گئے ہیں۔

پاکستان ایئر فورس نے ایک بیان میں کہا کہ سی 130 طیارہ جدہ سے ان پاکستانیوں کو لے کر کراچی ہوائی اڈے پہنچا۔

جمعے کو پاکستان ایئر فورس کی دو پروازوں کے ذریعے 249 افراد پاکستان پہنچے تھے، جس کے بعد سوڈان سے واپس آنے والوں کی کل تعداد 356 ہو گئی۔

جمعے کو پاکستان نے چین کا اپنے بحری جہاز پر 216 پاکستانی شہریوں کو پورٹ سوڈان سے جدہ منتقل کرنے پر شکریہ ادا کیا تھا۔

بحری جہازوں کے ذریعے انخلا کی ان کوششوں میں سعودی عرب کا کردار کلیدی ہے اور اب تک سعودی حکومت کی کوششوں سے پاکستان سمیت 60 سے زائد ممالک کے شہریوں کو سوڈان سے نکالا جا چکا ہے۔

پاکستان نے اس حوالے سے سعودی حکومت کے تعاون کو سراہا ہے۔

گذشتہ ہفتے پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے بتایا تھا کہ سوڈان میں 1500 کے قریب پاکستانی موجود ہیں۔

رواں ماہ کے وسط میں سوڈان کے آرمی چیف عبدالفتاح البرہان اور ان کے نائب اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے کمانڈر محمد حمدان ڈگلو کی حامی فورسز کے درمیان شروع ہونے والی لڑائی کے بعد وہاں سے غیر ملکی شہریوں کا انخلا جاری ہے۔

فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سوڈان میں جمعے کو بھی شدید لڑائی ہوئی اور دو ہفتوں سے جاری جنگ روکنے کے لیے جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق کے باوجود متحارب جرنیلوں نے ایک دوسرے پر الزام عائد کیے۔

اس جنگ کے نتیجے میں سینکڑوں اموات اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ حالیہ لڑائی کے دوران سوڈان کے دارالحکومت خرطوم پر سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے۔

اقوام متحدہ نے جنگ سے تباہ حال علاقے دارفور کے علاقے میں شدید لڑائیوں کی خبر دی جہاں متعدد اموات کی اطلاعات ہیں۔

ترکی کی وزارت دفاع نے خبر دی کہ اس کے ایک فوجی ٹرانسپورٹ طیارے کو نشانہ بنایا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے شہریوں کے انخلا کے دوران درپیش خطرات کا اندازہ ہوتا ہے۔

15  اپریل کو جنرل عبدالفتاح البرہان کی قیادت میں سوڈان کی فوج اور ان کے سابق نائب اور ساتھی بغاوت کے رہنما محمد حمدان ڈاگلو کی سربراہی میں نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان لڑائی شروع ہوئی تھی، جس میں جنگی طیاروں نے خرطوم کے گنجان آباد اضلاع میں آر ایس ایف کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا اور جنگجوؤں کے درمیان بھاری مشین گنوں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا۔

امریکہ، سعودی عرب، افریقی یونین اور اقوام متحدہ کی ثالثی کے بعد جمعرات کو متحارب جرنیلوں نے جنگ بندی میں مزید تین دن کی توسیع کرنے پر اتفاق کیا، جس کا مقصد زیادہ دیرپا جنگ بندی کو یقینی بنانا تھا۔

تاہم عینی شاہدین نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ انہوں نے خرطوم میں فوجی کمان کے قریب فضائی حملوں اور طیارہ شکن توپوں کے استعمال کی آوازیں سنی ہیں۔

خرطوم میں بہت سے رہائشی گھروں میں محسور ہیں اور ان کے پاس خوارک خطرناک حد تک کم ہے۔

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان