محکمہ تعلیم سندھ نے صوبے کے تقریباً 12 ہزار نجی سکولوں میں اساتذہ کی جانب سے طلبہ کو جسمانی سزا یا ہراسانی کی روک تھام کے لیے کمیٹیاں بنانے کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ کیمیٹیاں سندھ اسمبلی کی جانب سے تمام سکولوں میں جسمانی روک تھام والے قانون ’دی سندھ پروبیشن آف کارپورل پنشمنٹ ایکٹ 2016‘ کے رولز منظور کرنے کے بعد بنائی جا رہی ہیں۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر پرائیویٹ سکولز سندھ نے 29 اگست کو صوبے کے تمام نجی سکولوں کو مراسلہ لکھتے ہوئے تین رکنی کمیٹیاں بنانے کی ہدایت کی تھی۔ جس کے بعد سکولوں میں کمیٹیاں کے قیام کا آغاز ہو گیا ہے۔
مراسلے کے مطابق تین رکنی کمیٹی میں سکول کے ہیڈ ماسٹر/ ہیڈ مسٹریس یا پرنسپل سربراہ ہوگا۔ ایک نمائندہ محکمہ تعلیم کا رکن اور اس سکول کے کسی طالب علم کے والدین میں سے ایک رکن ہوگا۔
جسمانی سزا کی روک تھام کے لیے کمیٹیوں کے قیام کے ساتھ محکمے کی جانب سے نجی سکولوں میں اردو اور سندھی زبان میں بینر اور پمفلیٹ آویزاں کرنے اور نوٹس بورڈ پر ہدایت نامے لگائے جا رہے ہیں جن میں اساتذہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ تعلمی اداروں میں بچوں کے جسمانی سزا کی قانونی ممانعت ہے اور خلاف ورزی پر کیا سزا ہے۔
بچوں کو ان نئی کمیٹیوں سے متعلق آگاہی دینے ساتھ ہدایت کی گئی ہے اگر اساتذہ بچوں کو جسمانی سزا دیں تو فوری طور پر کمیٹی کو آگاہ کیا جائے۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر پرائیوٹ سکولز سندھ پروفیسر رفیعہ ملاح کے مطابق طلبہ کی جانب سے جسمانی سزا کی شکایت موصول ہونے پر کمیٹی سزا دینے والے استاد اور طالب علم کے ساتھ میٹینگ کرکے تحقیق کرکے اس بات کا پتہ لگائے گی کہ واقعی مزکورہ ٹیچر نے جسمانی سزا دی یا طالب علم کو ہراساں کیا۔ جس کے بعد قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔
انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے رفیعہ ملاح نے کہا: ’18 سال سے کم عمر بچے کو کسی لکڑی کی چھڑی، چمڑے کے بیلٹ یا کسی سخت چیز یا ہاتھ سے مارنا قانونی طور پر کارپورل پنشمنٹ یا جسمانی سزا کے زمرے میں آتا ہے اور جسمانی سزا کی نہ صرف صوبائی بلکہ وفاقی قوانین کے تحت تحت سختی سے ممانعت ہے۔ جس کی قانون میں سخت سزا رکھی گئی ہے۔
’اگر اساتذہ پہلی بار بچے کو جسمانی سزا دی تو تعزیرات پاکستان کے قانون کے تحت 10 سال تک سزا ہوسکتی ہے اوردوسری بار اگر ایسا ہوا تو 12 لاکھ جرمانے کے ساتھ 12 سال تک جیل ہوسکتی ہے۔
’اس کے علاوہ کسی بچے کو بے عزت کر کے کلاس روم سے نکال دینا، سزا کے طور پر اُکڑوں بٹھانا، مرغا بنانا، کھڑا کر دینا یا بچے کو کلاس سے الگ کر کے تنہا رکھنا ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے اور اس کی بھی سخت سزا رکھی ہوئی ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بقول رفیعہ ملاح: ’ہم پرائیویٹ سکول کی رجسٹریشن ہمارے محکمے کے فارم ب کے تحت کرتے ہیں، فارم ب میں دیگر ہدایات کے علاوہ سیکشن چار کے سب سیشن ایچ میں واضح طور پر ہدایت کی گئی کہ کسی بھی صورت میں سکول میں بچوں کو جسمانی سزا نہیں دی جائے گی۔ جس پر عمل نہ ہونے کی صورت میں سکول کی رجسٹریشن منسوخ کی جاسکتی ہے۔
’حکومت کی جانب سے بچوں کے تشدد پر 1121 ہیلپ لائین بھی بنی ہوئی ہے۔ جسمانی تشدد میں فوری کارروائی کے لیے متاثرہ بچہ یا ان کے والدین اس ہیلپ لائین پر کال کرکے مدد لے سکتے ہیں۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ کمیٹیاں صرف نجی سکولوں میں بنائی جاررہی ہیں یا ان کا اطلاق دینی مدارس پر بھی ہوگا؟ تو ان کا جواب تھا کہ دینی مدارس ان کے شعبے کے زیر انتظام نہیں آتے تو ان کے متعلق انہیں معلوم نہیں۔
ڈائریکٹوریٹ آف پرائیوٹ سکولز سندھ کے ریکارڈ کے مطابق صوبہ سندھ میں کُل 11 ہزار سات سو 94 پرائیویٹ سکولز رجسٹرڈ ہیں۔ ان میں پرائمری، سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری سکولوں بشمول کیمبریج کی تعلیم دینے والی سکولز شامل ہیں۔ اس سکولوں میں 39 لاکھ 47 ہزار 38 طلبہ رجسٹر ہیں۔
آفیشل ریکارڈ کے مطابق کراچی ڈویزن میں 7538 پرائیوٹ سکول اور 27 لاکھ 72 ہزار 94 طلبہ ہیں۔
سندھ کے نجی سکولوں میں دو لاکھ 25 ہزار 158 ٹیچر ہیں جن میں خواتین ٹیچر کی تعداد مردوں سے کہیں زیادہ ہے۔
ریکارڈ کے مطابق صوبے کے نجی سکولوں کے دو لاکھ 25 ہزار 158 ٹیچر میں ایک لاکھ 71 ہزار 423 خواتین ٹیچر جبکہ مرد ٹیچر 53 سات سو 23 ہیں۔