پاکستان میں بڑھتا برین ڈرین

2022 میں تقریباً 765,000 اعلیٰ تعلیم یافتہ پیشہ ور افراد— جن میں ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین، اور اکاؤنٹنٹس شامل تھے— ملک چھوڑ کر بہتر مواقع کی تلاش میں چلے گئے۔

10 جنوری 2025 کی اس تصویر میں اسلام آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر مسافر بیرون ملک سفر سے پہلے امیگریشن کاؤنٹر پر چیکنگ کے عمل کے دوران (اے ایف پی/ فاروق نعیم)

جیسے جیسے پاکستان میں معاشی غیر یقینی کی صورت حال بڑھتی جا رہی ہے، زیادہ سے زیادہ پیشہ ور افراد بہتر مواقع کی تلاش میں خلیجی ممالک کا رُخ کر رہے ہیں۔

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) ایک مرکزی منزل بن چکا ہے، جہاں پاکستانی دبئی کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور منافع بخش فری لانسنگ کیریئر کی تلاش میں ہیں۔

تاہم، ویزا پالیسیوں میں سختی نے ان نقل مکانی کے رجحانات کو بدلنا شروع کر دیا ہے، جو پاکستانی افرادی قوت اور سرمایہ کاروں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر رہی ہیں۔

پاکستانی وزارت خارجہ نے حال ہی میں قومی اسمبلی کو آگاہ کیا کہ بعض شہری یو اے ای کے ویزے حاصل کرنے کے لیے جعلی ڈگریوں، ڈپلوموں اور ملازمت کے معاہدوں کا سہارا لے رہے ہیں۔

کچھ افراد نے اپنے ویزے کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی قیام جاری رکھا یا سیاسی سرگرمیوں، مجرمانہ الزامات یا سوشل میڈیا کے غلط استعمال کے باعث قانونی مسائل میں پھنس گئے۔

اگرچہ پاکستانیوں پر کوئی باضابطہ ویزا پابندی عائد نہیں ہے، مگر ان معاملات نے درخواست کے عمل میں سختی پیدا کر دی ہے۔

اب یو اے ای ویزا کے خواہشمندوں سے واپسی کا ٹکٹ، ہوٹل کی بکنگ، جائیداد کی ملکیت کا ثبوت، اور 3,000 درہم کی پیشگی ادائیگی طلب کی جا رہی ہے، جو بیرونِ ملک نئی شروعات کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے ایک اور رکاوٹ بن چکی ہے۔

یہ تبدیلی اس وقت خاص طور پر تشویش ناک ہے جب ملک بری طرح برین ڈرین (ذہین افراد کی نقل مکانی) کا شکار ہے۔

2022 میں تقریباً 765,000 اعلیٰ تعلیم یافتہ پیشہ ور افراد—جن میں ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین، اور اکاؤنٹنٹس شامل تھے— ملک چھوڑ کر بہتر مواقع کی تلاش میں چلے گئے۔

یہ نقل مکانی پچھلے برسوں کے مقابلے میں 300 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے، جہاں سعودی عرب اور یو اے ای سرفہرست منزلیں رہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان میں سے پاکستان نے 7000 انجینئرز، 25,000 ڈاکٹرز، 1,600 نرسیں، 2000 آئی ٹی ماہرین، اور ہزاروں دیگر ماہرین کھو دیے۔

یو اے ای میں ویزا پالیسی کی سختی مستقبل کی نقل مکانی پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے اور نوجوان پاکستانیوں کے لیے بیرون ملک کامیاب کیریئر کے مواقع محدود ہو سکتے ہیں۔

اس کے باوجود، یو اے ای خاص طور پر فری لانسرز کے لیے ایک پرکشش مقام بنا ہوا ہے۔ 2022 سے یو اے ای میں فری لانس رجسٹریشن میں غیر معمولی 142 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے، اور توقع ہے کہ 2025 تک یہ مارکیٹ چار ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

صرف دبئی میں اس وقت ایک لاکھ سے زائد فری لانس لائسنس جاری ہو چکے ہیں، جو اس ملک کی ڈیجیٹل ٹیلنٹ کا عالمی مرکز بننے کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔

پاکستانی فری لانسرز کے لیے یو اے ای واضح مالی فائدے پیش کرتا ہے۔

یو اے ای میں ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ماہرین ماہانہ 20,000  سے  40,000 درہم (تقریباً 5,450 سے 10,900 امریکی ڈالر) کماتے ہیں، جب کہ مارکیٹنگ اور پبلک ریلیشنز کے ماہرین کی آمدنی بھی اسی حد میں ہو سکتی ہے۔

یہ اعداد و شمار آمدنی میں زبردست اضافے کی صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں، جو ویزا پابندیوں کے باوجود یو اے ای کو ایک پرکشش منزل بناتے ہیں۔

یقیناً، یو اے ای میں زندگی گزارنے کے اخراجات پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں، مگر آمدنی کی صلاحیت اس فرق کو پورا کر دیتی ہے۔

دبئی میں ایک فرد کے ماہانہ اخراجات اوسطاً 2,309  ڈالر ہیں، جب کہ کراچی میں یہ 429  ڈالر ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ یو اے ای میں تنخواہ ایک فرد کے ڈیڑھ مہینے کے اخراجات پورے کرتی ہے، جب کہ پاکستان میں یہی تنخواہ  0.4  مہینے کے اخراجات پورے کرتی ہے۔

اس کے علاوہ، یو اے ای میں فری لانسرز کو انکم ٹیکس سے مکمل استثنیٰ حاصل ہے، جب کہ پاکستان میں زیادہ آمدنی پر 35  فیصد تک ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔

مالی فوائد سے ہٹ کر بھی کچھ شعبے یو اے ای میں خاصی طلب رکھتے ہیں۔ ان میں سافٹ ویئر ڈیولپرز، اے آئی ماہرین، سائبر سکیورٹی ایکسپرٹس، ڈیجیٹل مارکیٹرز اور ای کامرس پروفیشنلز شامل ہیں۔

یو اے ای کی ڈیجیٹل تبدیلی کی مہم نے فِن ٹیک، بلاک چین اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ جیسے شعبوں میں بھی مواقع پیدا کیے ہیں، جو ہنر مند پاکستانیوں کے لیے کشش کا باعث ہیں۔

یو اے ای میں منتقل ہونے کے مالی اور طرزِ زندگی سے متعلق فوائد صرف تنخواہ تک محدود نہیں۔

پاکستان میں فری لانسرز کو اکثر عالمی ادائیگی کے پلیٹ فارمز تک محدود رسائی، کرنسی کی قدر میں کمی، اور بینکاری کے سخت اصولوں جیسے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔

اس کے برعکس، یو اے ای میں رہنے والے افراد کو عالمی بینکاری سہولیات، پے پال اور سٹرائپ جیسے متعدد ادائیگی پلیٹ فارمز، اور مستحکم کرنسی میسر ہوتی ہے۔

ملک میں عالمی معیار کا انفراسٹرکچر، صحت کی سہولیات، بین الاقوامی تعلیمی ادارے اور محفوظ و کثیرالثقافتی ماحول بھی موجود ہے۔

پاکستانی پیشہ ور افراد کے لیے، یو اے ای ویزا کی رکاوٹوں کے باوجود ایک پرکشش آپشن بنا ہوا ہے۔

اگرچہ ویزا قواعد سخت ہو چکے ہیں، لیکن زیادہ آمدنی، انکم ٹیکس سے چھوٹ، اور عالمی مارکیٹ تک رسائی جیسے فوائد اب بھی فری لانسرز اور سرمایہ کاروں کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔

اب سوال یہ نہیں رہا کہ پاکستانیوں کو یو اے ای جانا چاہیے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ ان بدلتے ہوئے ضوابط میں رہتے ہوئے ان مواقع تک کیسے پہنچ سکتے ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر