اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے بدھ کو کہا ہے کہ عالمی برادری ان افراد کو تحفظ دینے میں ’ناکام‘ رہی ہے جو دوسروں کی خدمت کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے بدھ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسلح تنازعات میں شہریوں کی اموات کے موضوع پر ہونے والے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔
بریفنگ میں پاکستان نے انسانی امدادی کارکنوں پر حملوں کو انسانیت کے بنیادی اصولوں پر حملہ قرار دیا ہے۔
سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کا موقف بیان کرتے ہوئے عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ’جو لوگ جنگ زدہ علاقوں میں خوراک پہنچاتے ہیں، زندگی بچانے والی طبی امداد فراہم کرتے ہیں اور نقل مکانی کے شکار افراد کی عزتِ نفس بحال کرنے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں شکریہ کے بجائے گولیوں اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‘
انہوں نے ایڈ ورکر سکیورٹی ڈیٹا بیس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2024 میں 379 امدادی کارکنوں کو قتل کیا گیا، جو اب تک کا سب سے مہلک سال ثابت ہوا۔
پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ ’دنیا کے کئی خطوں میں حالات سنگین ہیں، لیکن کہیں بھی یہ بحران غزہ سے زیادہ سنگین نہیں، جہاں 399 امدادی کارکن جن میں اقوام متحدہ کے ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کے 284 اہلکار بھی شامل ہیں اکتوبر 2023 سے اب تک قتل کیے جا چکے ہیں۔‘
انہوں نے حالیہ دنوں میں اسرائیل کے ہاتھوں 15 امدادی کارکنوں کے قتل کی شدید مذمت کی۔
فلسطینی ہلال احمر نے گذشتہ ہفتے بتایا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے ایمبولینسوں کو نشانہ بنانے کے دوران 15 امدادی کارکنوں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ہلال احمر کے مطابق مارے جانے والے ان 15 کارکنان میں ہلال احمر کے آٹھ طبی ارکان، غزہ کی سول ڈیفینس ایجنسی کے چھ اور اقوام متحدہ کے ایک ادارے کا ایک ملازم شامل ہے۔
سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران بات کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے زور دیا کہ ’سلامتی کونسل کی قرارداد 2730 واضح طور پر اس بات کی توثیق کرتی ہے کہ انسانی امدادی کارکنوں کو بین الاقوامی قوانین، بشمول بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت تحفظ فراہم کرنا لازم ہے۔‘
’اموات کی یہ بلند شرح اس بات کی افسوسناک یاد دہانی ہے کہ اس قرارداد پر مکمل عمل درآمد کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ تحفظ کا وعدہ محض الفاظ سے نہیں، بلکہ عملی اقدامات سے پورا ہونا چاہیے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’امدادی کارکن ہم سے تحفظ، احتساب اور اس یقین دہانی کا مطالبہ کرتے ہیں کہ جب ان کی جان خطرے میں ہو تو بین الاقوامی برادری خاموش تماشائی نہیں بنے گی۔
’ہمیں ان کی پکار کا جواب دینا ہوگا، صرف وعدوں سے نہیں، بلکہ عملی تحفظ سے۔ محض رپورٹنگ سے نہیں، بلکہ مستقل نگرانی اور روک تھام سے اور صرف ان کی شہادت پر سوگ منا کر نہیں، بلکہ مؤثر کارروائی کے ذریعے۔‘