عمر رسیدہ لوگ کہاں جائیں؟

کیا ہی اچھا ہو کہ ہمارے یہاں بھی اولڈ پیپلز کلب کھولے جائیں، جہاں یہ بوڑھے بزرگ اکٹھے ہو کر اپنی زندگی کے باقی برس بھرپور طریقے سے گزار سکیں۔

یکم جون 2015 کی اس تصویر میں چین کے شہر شنگھائی کے ایک اولڈ پیپلز ہوم میں چینی بزرگوں کو کھیلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)

میں جب پہلی مرتبہ سوئٹزر لینڈ گیا تو کسی نے مجھے بتایا کہ یہاں خودکشی کروانے والے مراکز قائم ہیں، یعنی جو امیر لوگ اپنی زندگی سے بیزار ہو جاتے ہیں وہ ان مراکز سے رجوع کرتے ہیں جہاں بھاری فیس کے عوض انہیں’پرسکون موت‘ کی نیند سلا دیا جاتا ہے۔

میں یہ سن کر بے حد حیران ہوا اور حسب توفیق مغرب پر تبرہ کیا اور ان کی اخلاقی زبوں حالی کا تمسخر بھی اڑایا۔ دراصل اس وقت میں یہ سمجھا تھا کہ بے پناہ دولت چونکہ انسان میں بے چینی اور اضطراب پیدا کر دیتی ہے اور یہ مغربی لوگ مذہب سے دور ہیں، اس لیے یہاں کے امرا خودکشی کے مراکز کو نجات کا ذریعہ سمجھ کر موت کو گلے لگانے چلے جاتے ہیں کہ شاید انہیں سکون مل جائے۔

استاد ذوق نے غالباً انہی لوگوں کے لیے کہا تھا؎

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مرکے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

لیکن گذشتہ دنوں ایک خبر نظر سے گزری جس نے میرا مطمحِ نظر ہی تبدیل کر دیا۔ خبر کے مطابق گذشتہ ماہ سابق ڈچ وزیراعظم نے طویل علالت کے بعد اپنی بیوی کے ساتھ زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ دونوں کی عمر 93 برس تھی۔

نیدرلینڈ میں ہر سال ہزاروں لوگ اس طرح خودکشی کے مراکز کو اپنی زندگی کے خاتمے کا اختیار دے کر موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔ اس عمل کو Euthanasia (یوتھنیزیا) کہتے ہیں۔ عموماً ایسی موت کی خواہش وہ لوگ کرتے ہیں جو بڑھاپے میں کسی ناقابل علاج مرض کا شکار ہوں اور جس میں تکلیف حد سے بڑھ جائے۔

نیدرلینڈ سمیت کئی یورپی ممالک میں اسے قانونی حیثیت حاصل ہے۔ جس ڈچ وزیراعظم نے یوتھنیزیا کیا، انہیں 2019 میں برین ہیمبرج ہوا تھا، جس کے بعد وہ پوری طرح صحت یاب نہیں ہو پائے تھے۔ ان کی بیوی بھی کسی موذی مرض کا شکار تھیں۔ دونوں نے ایک بھرپور زندگی گزاری تھی اور اب وہ ایک دوسرے کے بغیر جینا نہیں چاہتے تھے، اس لیے دونوں نے ڈاکٹروں کو اپنی زندگی ختم کرنے کا اختیار دیا اور ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر موت کی وادی میں اتر گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ذرا ایسے شخص کا تصور کریں جس نے 90 یا 100 برس کی پر مسرت زندگی بسر کی ہو، اپنے پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں اور آگے سے ان کے بچوں کی شادیاں بھی دیکھ لی ہوں اور وہ شخص بڑھاپے میں کسی معذوری کا شکار ہو جائے یا ایسے مرض میں مبتلا ہو جائے، جس میں اسے ناقابل برداشت تکلیف اٹھانا پڑتی ہو اور اس کی زندگی اذیت بن جائے تو کیا اس شخص کے لیے یوتھنیزیا سے بہتر کوئی تجویز ہو سکتی ہے؟

ہمارے اردگرد بے شمار بوڑھے لوگ ہیں جن کی زندگی کسی لاعلاج مرض کی وجہ سے عذاب بن چکی ہے۔ ان میں سے بہت سے تو مہنگے علاج اور ان سہولیات کے متحمل بھی نہیں ہوسکتے جو انہیں ’زندہ‘ رکھنے کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔ ایسے میں ان مریضوں کے لواحقین ایک دوسرے کے کان میں بس یہی کہتے ہیں کہ ’اللہ ان کی مشکل آسان کرے۔‘ اس بات کا اردو ترجمہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ اگر انہیں موت آجائے تو یہ کم از کم اذیت سے تو نجات پا لیں گے۔

یوتھنیزیا اسی عمل کا دوسرا نام ہے، جس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مریض کو موت کی تکلیف نہیں ہوتی۔ اسے ایسی دوائیں دی جاتی ہیں، جن کی وجہ سے وہ بنا کسی تکلیف کے نیند کی حالت میں ہی مر جاتا ہے۔ میرے خیال میں یوتھنیزیا جیسی قانون سازی ہمارے ملک میں بھی ہونی چاہیے۔ اس سے کئی مریضوں اور ان کے خاندانوں کا بھلا ہو جائے گا۔

اس ضمن میں علمائے کرام سے رائے لینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ یہ ایک ایسا اجتہاد ہو گا، جو اذیت میں مبتلا لوگوں کو درد سے نجات دلا دے گا۔

مغرب کا ایک اور تصور جس کا ہم بچپن میں بہت مذاق اڑایا کرتے تھے ’اولڈ پیپلز ہوم‘ ہے۔

ہم سمجھتے تھے کہ مغرب کا سرمایہ دارانہ نظام اس قدر سفاک ہو چکا ہے کہ وہاں لوگوں کے پاس اپنے بوڑھے والدین کو دینے کے لیے وقت ہی نہیں ہے۔ چنانچہ وہ انہیں اولڈ پیپلز ہوم میں جمع کروا دیتے ہیں۔ سال میں ایک مرتبہ انہیں کرسمس پر پھول اور کارڈ بھیج دیتے ہیں اور جب ایک دن انہیں اپنی ماں یا باپ کے مرنے کی خبر ملتی ہے تو وہ جنازے کے انتظامات کرنے والی کمپنی کو پیسے دے کر ان کی تدفین کر دیتے ہیں۔

امریکہ میں ٹی وی پر میں نے ایک ایسی کمپنی کا اشتہار دیکھا تھا جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ آپ نے ایک شاندار زندگی بسر کی اور اب آپ ایک شاندار جنازے کے بھی حق دار ہیں، لہذا ہمیں موقع دیں ہم آپ کے جنازے کا ایسا زبردست انتظام کریں گے کہ لوگ یاد رکھیں گے کہ ’حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔‘

خیر یہ بات تو یونہی بیچ میں آ گئی۔ گذشتہ دنوں اخبار میں ایک اشتہار دیکھ کر مجھے خوشگوار حیرت ہوئی۔ یہ ایک اولڈ پیپلز ہوم کا اشتہار تھا، جس کے لیے زکوٰة کی درخواست کی گئی تھی۔ خدا کا شکر ہے کہ یہ کام اپنے ملک میں بھی شروع ہوا۔

ہمارے ہاں جو بوڑھے لوگ بے یار و مدد گار گھروں میں پڑے رہتے ہیں اور ان کی اولاد انہیں وقت نہیں دیتی یا ان کی مناسب نگہداشت نہیں کر سکتی ان کے لیے اولڈ پیپلز ہوم بہترین جگہ ہے۔ البتہ میں اسے اولڈ پیپلز کلب کہنا زیادہ بہتر سمجھتا ہوں۔

یہ ایسی جگہ ہونی چاہیے جیسی امریکہ اور مغربی ممالک میں ہوتی ہے، جہاں بوڑھے لوگوں کو صرف دو وقت کا کھانا ہی نہیں کھلایا جاتا بلکہ ان کی تفریح کا بھی پورا بندوبست کیا جاتا ہے۔ کلب میں آئے دن کوئی نہ کوئی سرگرمی رکھی جاتی ہے۔ تاش یا تمبولہ کھیلا جاتا ہے۔ ویک اینڈ پر فلم دکھانے لے جایا جاتا ہے اور کسی مہینے انہیں سیر کروانے کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔

ہم اپنے بزرگوں کے لیے یہ سب کچھ نہیں کر سکتے تو کیا ہی اچھا ہو کہ یہاں بھی اولڈ پیپلز کلب کھولے جائیں، جہاں یہ بوڑھے بزرگ اکٹھے ہو کر اپنی زندگی کے باقی برس بھرپور طریقے سے گزار سکیں۔

ہو سکتا ہے کہ آپ میں سے کچھ لوگوں کو یہ باتیں عجیب بلکہ سنگدلانہ لگیں اور کچھ لوگ کہیں کہ یہ ہماری مشرقی پرمپرا کے خلاف ہیں لیکن میرا یہ خیال ہے کہ اگر ہم ریفرنڈم کروائیں اور اس  کے ذریعے عمر رسیدہ لوگوں کی رائے لیں تو وہ اس ریفرنڈم میں میرے حق میں ویسے ہی ووٹ ڈالیں گے جیسے آنجہانی صدام حسین کے حق میں ڈالے جاتے تھے۔ آزمائش شرط ہے!

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر