ایڈولیسنس سکولوں میں دکھانی کیوں ضروری ہے؟

’ایڈولیسنس‘ لڑکوں میں بڑھتے ہوئے پرتشدد رویوں کے ایک وسیع اور خطرناک رجحان کو پیش کرتی ہے۔ جیسا کہ شریک تخلیق کار اور اداکار سٹیفن گراہم خود کہتے ہیں، یہ سیریز اس بات پر نہیں ہے کہ یہ تشدد ہو رہا ہے یا نہیں – بلکہ سوال یہ ہے کہ کیوں ہو رہا ہے؟

نیٹ فلکس کی سیریز ’اڈولیسنس‘  کا ایک منظر (نیٹ فلکس)

ایڈولیسنس کی پہلی قسط زیادہ تر ناظرین کو حیران کر دیتی ہے۔ جیسے ہی ہم 13 سالہ جیمی سے ملتے ہیں، جو خوف زدہ ہے اور حد درجہ معصوم دکھائی دیتا ہے، تو ہمارے دل میں فوراً یہ خیال آتا ہے کہ ضرور کوئی غلطی ہو گئی ہے – یہ ننھا سا لڑکا قتل کا مجرم کیسے ہو سکتا ہے؟

لیکن جو لوگ روزانہ نوجوانوں کے ساتھ کام کرتے ہیں، اُن کے لیے اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ نوعمر لڑکے کیا کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایلیانے اینڈم کے قتل سے لے کر ہولی نیوٹن کی موت تک، ’ایڈولیسنس‘  کوئی ایک بار پیش آنے والی ہولناک کہانی نہیں، بلکہ لڑکوں میں بڑھتے ہوئے پرتشدد رویوں کے ایک وسیع اور خطرناک رجحان کو پیش کرتی ہے۔ جیسا کہ شریک تخلیق کار اور اداکار سٹیفن گراہم خود کہتے ہیں، نیٹ فلکس کی یہ سیریز اس بات پر نہیں ہے کہ یہ تشدد ہو رہا ہے یا نہیں – بلکہ سوال یہ ہے کہ کیوں ہو رہا ہے؟

جیمی کو نہ تو نظر انداز کیا گیا ہے اور نہ ہی وہ کسی بدسلوکی کا شکار ہے – ان کا تعلق ایک محبت کرنے والے خاندان سے ہے۔ ان کے اقدامات دراصل ایک ایسے آن لائن ماحول کا نتیجہ ہیں جہاں نفرت انگیز مواد لڑکوں کو ہر بار فون دیکھنے یا کمپیوٹر کھولنے پر نشانہ بنا رہا ہے۔ 

نوجوان لڑکے ہماری آنکھوں کے سامنے انتہاپسند نظریات کا شکار ہو رہے ہیں، اور جیمی کی حالت – اور اس کی متاثرہ کیٹی کی کہانی – اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ یہ کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد (VAWG) اب روزانہ کی خبروں کا حصہ بن چکا ہے، اور نیشنل پولیس چیفس کونسل (NPCC) نے حال ہی میں اسے ’قومی ہنگامی صورت حال‘  قرار دیا ہے۔ لیکن بچوں اور نوجوانوں میں اس مسئلے کی شدت سے لوگ کم ہی واقف ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آفس آف نیشنل سٹیٹسٹکس (ONS) کے اعداد و شمار کے مطابق 16 سے 19 سال کی عمر کے لوگوں کو موجودہ یا سابقہ ساتھیوں کے ہاتھوں بدسلوکی کا سب سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ ریپ کی سب سے زیادہ رپورٹ کی جانے والی عمر صرف 14  سال ہے – اور جیسا کہ NPCC کی رپورٹ میں زور دیا گیا ہے، متاثرین اور بدسلوکی کرنے والے، دونوں کی عمریں ہر سال کم ہوتی جا رہی ہیں۔

ملک بھر کے سکولوں میں ’ٹینڈر‘ (ایک فلاحی ادارہ جو بچوں کو صحت مند تعلقات کی تعلیم دینے پر کام کرتا ہے) کے ساتھ کام کرتے ہوئے یہ بات بخوبی واضح ہوتی ہے۔

میں نے 12 سال کی بچیاں دیکھی ہیں جن کا پیچھا انہی کے سکول کے لڑکے کرتے، دھمکیاں دیتے اور چیھڑتے ہیں، اور افسوس ناک طور پر، ان بچیوں کو بعض اوقات ان کے اساتذہ ہی انہیں ان کے رویے یا شخصیت کی بنیاد پر موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔

فحش مواد کی آسان دستیابی کی وجہ سے ہماری ورکشاپس میں اکثر ایسے پرتشدد عمل، جیسے گلا گھونٹنا، کا ذکر ہوتا ہے – یہاں تک کہ 9 یا 10 سال کے پرائمری سکول کے بچے بھی۔

’ایڈولیسنس‘  نے دنیا کو نہ صرف مسئلے کی حقیقت دکھائی ہے بلکہ یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ اس کا حل نکالنا اب فوری ضرورت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں معلوم ہے ان مسائل کو جڑ سے کیسے ختم کیا جا سکتا ہے – مگر ان طریقوں کو عملی طور پر اپنایا نہیں جا رہا۔

ہم ڈرامہ پر مبنی ثابت شدہ تدابیر کے ذریعے نوجوانوں کو آن لائن نقصان دہ مواد سے نمٹنے کے ہنر سکھاتے ہیں۔ میں نے ایسے لڑکوں کو دیکھا ہے جن کے نظریات نہایت شدت پسند اور خواتین مخالف تھے، لیکن صرف چند دنوں میں ان کے خیالات بدل گئے، اور وہ صحت مند رویے اور صنفی برابری کے علمبردار بن گئے۔

لیکن بہت سے بچوں کو یہ تربیت اور مدد میسر نہیں۔ اگرچہ تعلقات، جنسیات اور صحت کی تعلیم (RSHE) اب نصاب کا لازمی حصہ ہے، لیکن اس کا معیار سکول بہ سکول بہت مختلف ہے، اور اکیڈمی سکولز (جو 43.5 فیصد ہیں) کو تو اس نصاب پر عمل کرنے کی کوئی قانونی ذمہ داری ہی نہیں۔

اساتذہ کو بھی وہ تربیت نہیں دی جا رہی جو رضامندی، برابری اور تعلقات جیسے اہم موضوعات پڑھانے کے لیے درکار ہے، اور سکولوں کے پاس ماہرین سے مدد لینے کے وسائل بھی نہیں۔ جب ہم نے اس مسئلے پر ایک تعلیمی مواد جاری کیا تو ہمیں سکولوں سے مزید مدد، رہنمائی اور تعاون کی بے شمار درخواستیں موصول ہوئیں۔

ہم اس مسئلے کو تین نکاتی حکمتِ عملی کے ذریعے حل کر سکتے ہیں۔ ہماری حکومت کو جرات اور حوصلے کے ساتھ وہ قانون سازی کرنی چاہیے جو اس بات کو یقینی بنائے کہ ہر سکول میں تعلقات، جنسیات اور صحت کی تعلیم (RSHE) ماہرین کے ذریعے — چاہے وہ تربیت یافتہ اساتذہ ہوں یا بیرونی ماہرین — فراہم کی جائے، اور ساتھ ہی آن لائن تحفظ کے اقدامات بھی کیے جائیں تاکہ اس اہم کام کو سہارا مل سکے۔

سکولوں کو ایسے وسائل کی ضرورت ہے جو اس منصوبے کو طویل المدتی اور پائیدار انداز میں نافذ کرنے کے قابل بنائیں، جبکہ والدین اور سرپرستوں کو بھی رہنمائی فراہم کی جانی چاہیے تاکہ وہ ابتدا ہی سے ان موضوعات پر اپنے بچوں سے بات کر سکیں اور انہیں گھر کے ماحول میں محفوظ رکھ سکیں۔

ٹینڈر ہر سال مزید سکولوں کے ساتھ کام کر رہا ہے، لیکن ایک فلاحی ادارے کی حیثیت سے ہماری صلاحیت محدود ہے۔

نوجوان روزانہ کی بنیاد پر پرتشدد عورت مخالف مواد کی یلغار کا سامنا کر رہے ہیں، مگر افسوس ناک طور پر انہیں اس ضروری تعلیم تک رسائی حاصل نہیں، جس کے باعث وہ اسی شدت پسندی کا شکار ہو جاتے ہیں جسے ’ایڈولیسنس‘ نے نہایت مؤثر انداز میں نمایاں کیا ہے۔ ہم یہ ذمہ داری بچوں پر نہیں ڈال سکتے – یہ ہمارا کام ہے کہ ہم جرات دکھائیں، نہ کہ ان کا۔

اس سیریز کو سکولوں میں لانا ایک اہم اور مثبت قدم ہے، جو اس شعور اور بیداری سے فائدہ اٹھاتا ہے جو سیریز نے غیر معمولی طور پر پیدا کی ہے

لیکن یہ صرف پہلا قدم ہونا چاہیے، جس کے بعد ایک مکمل منصوبہ ہونا چاہیے جس میں فنڈنگ، وسائل اور مہارت شامل ہو – اور اسے اسی سنجیدگی سے نافذ کیا جانا چاہیے جیسے ہم بچوں کی حفاظت کے کسی بھی اور خطرے کو لیتے ہیں۔

ٹینڈر کے ایک پینل میں بات کرتے ہوئے سٹیفن گراہم نے کہا:

’بہت سے لوگ جیمی کی زندگی میں فرق ڈال سکتے تھے – اور یہی اس کہانی کا اصل المیہ ہے۔

یہی اصل نکتہ ہے – ایسا تشدد روکا جا سکتا ہے اور روکا جانا چاہیے۔ ہمارے پاس ایک مؤثر، آزمودہ حل موجود ہے۔ اگر حکومت واقعی خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کو نصف کرنے کا ہدف رکھتی ہے، تو اب وقت ہے کہ وہ اس حل کو عملی جامہ پہنائے۔

سوزی میکڈونلڈ ( ایم بی ای) ٹینڈر کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں، جو ایک قومی سطح کی فلاحی تنظیم ہے جو ڈرامہ اور فنون لطیفہ کے ذریعے بچوں، نوجوانوں اور بالغوں کو اچھے تعلقات کے بارے میں تعلیم دینے کا کام کرتی ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

© The Independent

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر