ٹاپ ٹینس سٹار کے طور پر نظر انداز کیے جانے کی شکایت کے ٹھیک ایک سال بعد جمہوریہ چیک کی باربورا کریجکووا ومبلڈن کی توجہ کا مرکز بننے کے لیے کافی پرجوش ہیں اور ہفتے کو پہلی مرتبہ ومبلڈن فائنل میں پہنچنے والی اٹلی کی جیسمین پاؤلینی کے خلاف فائنل کی تیاری کر رہی ہیں۔
خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق باربورا کریجکووا نے محسوس کیا تھا کہ انہیں ٹینس کھلاڑیوں آئیگا سویٹیک، آرینا سبالینکا اور ایلینا ریباکینا جتنی اہمیت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے بہترین خواتین ٹینس کھلاڑیوں کے بارے میں گفتگو میں نظر انداز کیے جانے کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔
اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ ’یہ صرف ایگا، آریانا اور ایلینا کے بارے میں ہے اور میں کہیں بھی نہیں ہوں۔‘
2021 میں فرنچ اوپن ٹائٹل جیتنے والی یہ چیک کھلاڑی اس وقت تک گرینڈ سلیم کی فاتح تھیں اور انہوں نے سویٹیک، سبالینکا اور ریباکینا کو ہرایا تھا، لیکن انجری اور بیماری کے ایک جھٹکے نے باربورا کریجکووا کی رینکنگ گرا دی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک اچھی کھلاڑی کے طور پر تسلیم کیے جانے کی اپنی مہم میں ہار گئیں۔
دو ہفتے قبل جب وہ ومبلڈن میں پہنچیں تو دنیا کی 32 ویں نمبر کی یہ کھلاڑی فرنچ اوپن کے پہلے راؤنڈ میں مایوس کن شکست کے بعد مشکلات کا شکار تھیں۔
اس کے باوجود انہوں نے گذشتہ 15 دنوں میں زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا تاکہ یہ ثابت کر سکیں کہ وہ بھی عالمی نمبر ایک سویٹیک اینڈ کمپنی کے ساتھ شمار کیے جانے کی مستحق ہیں۔
انہوں نے کہا: ’میں نے محسوس کیا کہ مجھے سب کچھ بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ میں تیز کورٹس پر زیادہ مہارت حاصل کر چکی ہوں۔ مجھے اپنے کھیل کو بہتر کرنا پڑا کیونکہ ہر کوئی اپنے کھیل میں بہتری لا رہا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ میرے کھیل میں کچھ بہتری آئی ہے، میں ایک اور فائنل میں ہوں۔‘
28 سالہ باربورا کریجکووا، جو اپنا دوسرا گرینڈ سلیم فائنل کھیل رہی ہیں، نے ومبلڈن میں اپنی فارم میں دوبارہ واپسی سے قبل پانچ ماہ میں صرف تین سنگل میچ جیتے تھے۔
انہوں نے چوتھے راؤنڈ میں 11 ویں سیڈ ڈینیئل کولنز اور کوارٹر فائنل میں سابق فرنچ اوپن چیمپیئن جیلینا اوسٹاپینکو کو شکست دی جبکہ سیمی فائنل میں 2022 کی چیمپیئن ریباکینا کو تین سیٹوں سے شکست دی۔
وہ 1998 کی آل انگلینڈ کلب کی فاتح جانا نووتنا سے متاثر ہیں، جنہوں نے 2017 میں کینسر کے باعث انتقال سے قبل ایک عرصے تک ان کی کوچ کے طور پر کام کیا تھا۔
باربورا کریجیکووا نے کہا: ’وہ مجھے اپنے سفر کے بارے میں بہت ساری کہانیاں سناتی رہیں کہ وہ ومبلڈن کی فاتح کیسے بنیں۔ جب ہم یہ باتیں کر رہے تھے تو اس وقت میں بہت پیچھے تھی اور اب میں فائنل میں ہوں۔ میں نے بہت سے مشکل ادوار کا سامنا کیا ہے۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں ومبلڈن کے فائنل میں پہنچوں گی۔‘
دوسری جانب فائنل میں غیر متوقع طور پر پہنچنے کے بعد اٹلی کی جیسمین پاؤلینی کی نظریں اپنا پہلا گرینڈ سلیم ٹائٹل جیتنے پر ہیں۔
ومبلڈن کی تاریخ کے سب سے طویل سیمی فائنل میں جیسمین پاؤلینی نے ڈونا ویکیک کو دو گھنٹے 51 منٹ بعد 2-6، 6-4، 7-6 (10/8) سے شکست دی۔
28 سالہ جیسمین ومبلڈن چیمپیئن شپ کے فائنل میں پہنچنے والی پہلی اطالوی خاتون ہیں۔
ان کے لیے یہ ایک حیرت انگیز کامیابی ہے، جنہوں نے گذشتہ ماہ انگلینڈ کے ایسٹ بورن میں ہونے والے مقابلوں تک گھاس والے گراؤنڈ پر ٹور لیول کا میچ بھی نہیں جیتا تھا اور ومبلڈن کے اپنے پچھلے تین دوروں میں پہلے راؤنڈ میں ہی ہار گئی تھیں۔
وہ اس سال تک گرینڈ سلیم کے دوسرے راؤنڈ سے آگے جانے میں بھی ناکام رہی تھیں۔
لیکن 2024 جیسمین پاؤلینی کے لیے شاندار ثابت ہوا ہے، جنہوں نے فرنچ اوپن میں اپنے پہلے گرینڈ سلم فائنل میں پہنچنے کا کارنامہ انجام دیا لیکن وہاں سویٹیک سے ہار گئیں۔
حتیٰ کہ جیسمین پاؤلینی کی کامیابیوں کا سلسلہ خود ان کے لیے بھی حیرت انگیز ہے۔
انہوں نے کہا: ’میرے پاس بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔‘
ساتویں نمبر پر موجود جیسمین پاؤلینی 2016 میں سرینا ولیمز کے بعد پہلی خاتون بن گئی ہیں جو مسلسل رولان گروس اور ومبلڈن فائنل تک پہنچیں۔
یہ فائنل دوسرا موقع ہے جب باربورا کریجکووا اور جیسمین پاؤلینی آمنے سامنے ہوں گی اور ان کا یہ مقابلہ، پہلے مقابلے سے بہت مختلف ہوگا۔
ان دونوں کا مقابلہ 2018 کے آسٹریلین اوپن کے کوالیفائنگ راؤنڈ کے پہلے مرحلے میں ہوا تھا، جس میں باربورا کریجکووا نے بغیر کوئی سیٹ ہارے فتح حاصل کی تھی۔
باربورا کریجکووا نے کہا: ’یہ بہت عرصے پہلے کی بات ہے، ہم دونوں کے لیے ومبلڈن کے فائنل تک پہنچنے کا سفر اچھا رہا۔‘