سرچ انجن کمپنی گوگل نے حال ہی میں 100 سے زائد زبانوں کو ڈیجیٹائز کرکے اپنی ایک ایپلی کیشن پروڈکٹ گوگل ٹرانسلیٹ میں شامل کی ہے اور اب بلوچی زبان دنیا کو بھی دنیا کی کئی زبانوں میں آسانی سے ترجمہ کیا جا سکتا ہے۔
کوئٹہ میں قائم بلوچی اکیڈمی کے عہدیدار اور نیچرل لینگویج پروسیسنگ (این ایل پی) پروجیکٹ کے کوآرڈینیٹر ہیبتان عمر بلوچ اسی حوالے سے کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس ایپلی کیشن کی مدد سے ایک زبان کے الفاظ اور جملوں کو گوگل میں شامل کسی بھی دوسری زبان میں ترجمہ کیا جاسکتا ہے اور اس سے بلوچی کو بھی دوسری زبانوں کے قریب لانے میں مدد ملے گی۔
ہیبتان نے بتایا کہ وہ اس وقت ہزاروں الفاظ پر مشتمل ایک آن لائن ڈیٹا بیس ڈکشنری پر کام کر رہے ہیں، جس کی مدد سے بلوچی ادب کے طلبہ کے لیے بھی آسانی ہوگی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یہ اس وقت ابتدائی مراحل میں ہے اور اس میں مزید بہتری لانے کی گنجائش ہے۔
ہیبتان کے مطابق اس وقت بلوچی زبان کو ڈیجیٹل دنیا میں منتقل کرنے کے لیے بلوچی اکیڈمی، بلوچستان اکیڈمی، عزت اکیڈمی اور نصیر کبدانی اکیڈمی اور دیگر کام کر رہے ہیں۔
بلوچی اکیڈمی کا قیام 1961 میں ہوا اور اس ادارے نے اب تک بلوچی ادب کو نہ صرف کتابی صورت میں محفوظ کیا ہے بلکہ بلوچی شاعری، تاریخ اور ثقافت کے موضوعات پر سینکڑوں کتابیں شائع کی ہیں، جو بلوچستان کے مختلف تعلیمی اداروں میں بطور نصاب پڑھائی جاتی ہیں۔
اس اکیڈمی نے بلوچی زبان کو جدید ٹیکنالوجی جیسے کہ مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس)، چیٹ جی پی ٹی اور روبوٹکس سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک باقاعدہ پراجیکٹ بلوچی نیچرل لینگویج پراسیسسنگ یعنی این ایل پی پر کام کا آغاز کیا ہے۔
بلوچی اکیڈمی کے علاوہ دنیا کے مختلف کونوں میں بسنے والے بلوچ افراد بلوچی زبان کو ڈیجیٹائز کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور اس میں گوگل کمپنی میں کام کرنے والے محمد جہانگیر بھی شامل ہیں، جنہوں نے بلوچی زبان کو گوگل ٹرانسلیٹ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سوشل میڈیا اور دوسرے پلیٹ فارمز پر بلوچی زبان کو ڈیجیٹلائز یا گوگل ٹرانسلیٹ کا حصہ بنانے کے اقدام کو بہت سراہا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں مزید اقدامات کی توقع کی جا رہی ہے۔
گوگل ٹرانسلیشن کے عمل میں شامل عبداللہ دشتی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہوں نے ٹرانسلیشن کے حوالے سے گوگل کے ساتھ کام کیا تھا۔ ابتدائی طور پر گوگل نے اسے عمل کو 2021 میں شروع کیا تھا جبکہ مارچ 2023 میں گوگل نے اس حوالے سے ان سے رابطہ کیا اور کہا کہ ان کے لیے کام کریں۔
عبداللہ کے مطابق: ’گوگل نے ٹرانسلیشن کے حوالے سے ایک کنٹریبیوٹری لنک شیئر کیا تھا، جس کی مدد سے ہر وہ جو شخص جو بلوچی اور انگریزی لکھنا اور پڑھنا جانتا تھا، انہوں نے رضاکارانہ طور پر اپنا حصہ ڈالا۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ اس سے اب بلوچی زبان جاننے والے اسے آسانی سے دنیا کی 200 سے زائد زبانوں میں ترجمہ کرسکتے ہیں۔
بلوچی زبان پاکستان میں بلوچستان، پنجاب اور سندھ میں بولی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ایران، افغانستان، عرب ممالک، ترکمانستان، روس اور دنیا کے دیگر خطوں میں بھی بلوچی زبان بولنے والے مقیم ہیں۔
بلوچی زبان ابھی تک کسی بھی ملک کی سرکاری زبان نہیں بن سکی ہے۔ یوں تو بلوچی زبان تقریباً تین سے پانچ ہزار سال پرانی بتائی جاتی ہے مگر اس زبان کے تحریری آثار اٹھارویں صدی میں پائے جاتے ہیں، جب انگریزوں نے بلوچی ادب کو انگریزی یا رومن رسم الخط میں لکھنا شروع کیا تھا، لیکن اب بلوچی فارسی یا عربی رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور بلوچی ادب کا بیشتر سرمایہ اسی رسم الخط میں محفوظ کیا جا رہا ہے۔