بلوچستان کے وسطی ضلع خضدار کے نواحی علاقہ ساسول کمب میں درجنوں ایسے غار موجود ہیں جہاں لوگ چند سال قبل تک رہائش اختیار کیا کرتے تھے۔
خضدار میں واقع ان غاروں میں تہذیب اور تمدن کی ایک بڑی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔
یہ علاقہ شدید سردی کی لپیٹ میں ہوتا ہے اور سردی سے بچنے کے لیے لوگ صدیوں سے سردی کے سیزن میں ان غاروں میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں، جہاں بغیر سہولت کے بھی درجہ حرارت معتدل رہتا ہے اور لوگ زیر زمین ان پناہ گاہوں کو قدرتی آفات سے بھی محفوظ سمجھتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
50 سے زائد یہ غار ایک پہاڑی کے عقب میں ایک جھیل کے قریب واقع ہیں اور سطح زمین سے نیچے بنائے گئے ہیں، جہاں ہوا کی لہریں اثر انداز نہیں ہوتیں۔
یہاں ہر خاندان کے لیے زیادہ سے زیادہ دو غار بنائے گئے ہیں۔ غار کے آگے کے حصے میں کچن نما جگہ ہوتی ہے اور اندرونی حصے میں پورا خاندان رہتا ہے، جہاں بستر اور دیگر ضروری سامان کے لیے مخصوص حصے ہوتے ہیں جبکہ دوسرے غار میں مال مویشی رکھے جاتے ہیں۔
ان غاروں کے ایک رہائشی کرم خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ اپنی پیدائش کے وقت سے یہ غار دیکھتے آرہے ہیں۔ ’ہمیں ان غاروں کی تاریخ کا معلوم نہیں، نہ ہی ہمارے باپ دادا نے ان کی تاریخ بتائی ہے۔ یہ غار بہت پرانے ہیں، ہم سردیوں کے چار ماہ یہاں آکر بسر کرتے تھے اور اب بھی جب سردی کی شدید لہر آتی ہے تو ہم ان غاروں کو پناہ گاہ سمجھ کر یہاں آکر رہتے ہیں اور گرمیوں میں قریب واقع جھونپڑیوں میں رہتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید بتایا: ’یہاں رہنے کے لیے باقی دنیا کے مقابلے میں سہولیات کم ہیں لیکن ہماری خوشیاں ان ہی غاروں سے جڑی ہیں۔ ان غاروں کو مقامی زبان میں ’کوم‘ کہتے ہیں۔ ہمارے بزرگوں نے چٹیل پہاڑی پر یہ غار کھودے، جو 10 سے 40 فٹ کے مختلف سائزوں میں موجود ہیں۔‘
بقول کرم خان: ’پہلے زمانے میں باہر کی دنیا کے مقابلے میں ان غاروں میں زیادہ سہولیات تھیں۔ چونکہ ہمارے علاقے میں شروع سے بجلی، تعلیم اور پانی جیسی سہولیات دستیاب نہیں ہیں تو تمام سہولیات مصنوعی طریقے سے حاصل کی جاتی تھیں۔ اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہماری ضروریات زیادہ ہوگئیں، تھوڑے بہت وسائل بھی دستیاب ہوگئے تو رواں سال سردی میں کوئی بھی خاندان یہاں غاروں میں رہنے کے لیے نہیں آیا ہے۔‘