پہاڑی علاقوں میں فضائی ریسکیو کتنا خطرناک؟ آرمی پائلٹ کا تجربہ

آرمی ایوی ایشن پائلٹ میجر یاسر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ہیلی کاپٹر کی پرواز کے لیے موسم اور ہوا کی شدت بھی معنی رکھتی ہے پہاڑی علاقے میں زیادہ سے زیادہ سات یا ساڑھے سات ہزار میٹر کی بلندی تک جایا جا سکتا ہے۔

پاکستان آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹرز سالوں سے گلگت بلتستان ریجن میں ٹرانسپورٹ اور ریسکیو کے لیے استعمال ہو رہے ہیں اور چند ریسکیو مشنز میں ہیلی کاپٹرز بھی حادثے کا شکار ہو چکےہیں۔

کم آکسیجن کے ساتھ پہاڑوں پر ہیلی کاپٹروں کے پائلٹس کو کیا چیلنجز ہیں انڈپینڈنٹ اردو نے اس موضوع پر ایک پائلٹ سے بات چیت کی ہے۔

کیا ہیلی کاپٹر سخت موسم میں آٹھ ہزار میٹر بلند اُڑان بھر سکتا ہے؟

آرمی ایوی ایشن پائلٹ میجر یاسر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ہیلی کاپٹر کی پرواز کے لیے موسم اور ہوا کی شدت بھی معنی رکھتی ہے پہاڑی علاقے میں زیادہ سے زیادہ سات یا ساڑھے سات ہزار میٹر کی بلندی تک جایا جا سکتا ہے۔

’اس سے اوپر ہیلی کاپٹر کی پرواز خطرناک ہو سکتی ہے۔ انجن پاور بڑھانی پڑتی ہے جس سے ایندھن کا استعمال بڑھ جاتا ہے جو کہ حطرناک ہو سکتا ہے۔ جبکہ کے ٹو کی بلندی آٹھ ہزار 611 میٹر بلند ہے اور دشوار گزار پہاڑی سلسلہ پرواز کو مزید مشکل بناتا ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’بلندی کے حساب سے ہیلی کاپٹر کے وزن کا حساب رکھنا ہوتا ہے اور اسی لحاظ سے اتنا ہی فیول رکھا جاتا ہے جس کی ضرورت ہو۔ خصوصاً 16 ہزار سے اوپر جانے کے لیے ہیلی کاپٹر کا وزن کم رکھنا ہوتا ہے۔ ریسکیو ہیلی کاپٹر زیادہ سے زیادہ 23 ہزار فٹ کی بلندی پر جا سکتا ہے۔‘

میجر یاسر نے کہا کہ ’بلندی پر ہیلی کاپٹر اڑانے کے لیے خصوصاً 10 ہزار فٹ سے بلند اڑان کے لیے آکسیجن کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ گلگت بلتستان اور نیپال کا پہاڑی علاقہ ہیلی کاپٹر کے لیے مشکل ترین مقام ہے ایسا مشکل علاقہ دنیا میں اور کہیں نہیں ہے۔‘

ایک سیزن میں پہاڑی علاقے میں کتنے ریسکیو مشن ہوتے ہیں؟

پاکستان آرمی ایوی ایشن پائلٹ میجر یاسر نے بتایا کہ ’گلگت بلتستان میں جب ٹریکنگ کا سیزن ہوتا ہے تو ہر سیزن میں عمومی طور پر 30 سے 40 ریسکیو ہو جاتے ہیں جن میں سے کچھ زخمی اور کچھ کی ڈیڈ باڈیز ریکور کرنا ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’2024 کے سیزن میں بھی کافی ریسکیو مشن تھے جن میں غیر ملکی کوہ پیما بھی شامل تھے اور پاکستانی مقامی پورٹرز بھی تھے۔ انہیں ریسکیو کیا اور باحفاظت ادھر سے نکال کر سکردو تک لے کر گئے ہیں۔ اس کے علاوہ آرمی کی بلند پہاڑی مقامات پر جو فوجی پوسٹیں ہیں وہاں کبھی ساز و سامان اور کبھی جوانوں کو ریسکیو کے لیے بھی جاتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مشکل ترین مشن کون سا تھا؟

اس سوال کے جواب میں میجر یاسر نے کہا کہ ’پہاڑوں پر کافی مختلف نوعیت کے ریسکیو ہوتے ہیں سال 2022 میں ہم نے 21 ہزار فٹ تک اڑان بھر کر کے ایک ڈیڈ باڈی  اٹھائی تھی وہ سب سے مشکل آپریشن تھا۔‘

آرمی ہیلی کاپٹر کی ریسکیو سروس کے حصول کا طریقہ؟

اس سوال کے جواب میں ایوی ایشن پائلٹ میجر یاسر نے بتایا کہ ’اگر کوئی انشورنس کمپنی یا کلب کے ذریعے کوہ پیمائی پہ آئے ہوئے ہیں تو وہ ریسکیو سروس حاصل کرنے کے لیے ادائیگی کرتے ہیں باقی اس کے علاوہ انسانی بنیادوں پر بھی ریسکیو مشن کیے جاتے ہیں جس کی باضابطہ اجازت ایف سی این اے ہیڈ کوارٹر سے آتی ہے۔

’جیسے کہ 2023 میں حسن شگری کو جن کی باٹل نیک پہ موت واقع ہوئی تھی جب نیچے لایا گیا تو معیت کو ان کے گاؤں تک پہنچایا تھا یہ انسانی بنیادوں پر کیا تھا۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان