خبر ایک فون کال کی

ناپ تول کے بات کرنے کی ضرورت ہے، بہت سوچ سمجھ کے بعد بات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر زیادہ بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔

کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہ بات انہوں نے ذہن نشین کر لی ہوتی کہ جب آپ کسی اہم عہدے پر ہوتے ہیں اور جو بھی آپ بات کرتے ہیں جہاں بھی کرتے ہیں اس کو اہمیت دی جاتی ہے (اے ایف پی)

ٹیلیفون کال اب ایک کہانی بن گئی ہے۔ کیا پاکستان کو فون کال کا انتظار ہے؟ کیا فون کال نہ آنے پر پاکستان ناراض ہے؟ کیا پاکستان نےفون کال کی بات بھی کی ہے یا یہ سب میڈیا کی من گھڑت کہانی ہے؟

اس معاملے کا تعلق پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے انٹرویو سے جڑا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اخبار نے انٹرویو کی سب سے بڑی خبر امریکہ سے اب تک نہ آنے والی ٹیلیفون کال کے معاملے کو بنایا ہے۔ شہ سرخی بھی اسی کی بنائی۔

پاکستان میں فون کال کی بات کرنے پر کچھ اطراف سے تنقید ہوئی۔ مثال کے طور پر کہ ہم کیوں اتنے بے تاب ہیں ایک فون کال کے لیے؟ پاکستان ایک جوہری طاقت ہے اور فون کال نہ آنے پر یہ پریشانی کیوں؟ اور ویسے تو آپ نے یہ کہہ دیا ہے کہ آپ کے پاس کئی آپشن ہیں تو پھر یہ ناراضگی کیوں؟ 

معید یوسف نے امریکی کانگریس کے تھنک ٹینک یونائیڈڈ انسٹیٹیوٹ فار پیس یا یو ایس آئی پی میں کی جانے والی ایک گفتگو میں دو روز کے بعد کہا کہ انہیں میڈیا کی کوئی سمجھ نہیں آ رہی۔ ان کا اصرار تھا کہ میڈیا عجیب بات کر رہا ہے۔ ان کی شکایت اخبار کا فون کال پر خبر بنانا ہوگا کیونکہ اہم باتیں اس انٹرویو میں اور بہت ہوئی ہوں گی- اس سے قبل فون کال کے معملے پر حال ہی میں اور کیا باتیں ہوئیں ہیں؟

ایک امریکی چینل کے اینکر نے وزیر اعظم عمران خان کے انٹرویو کے دوران سب سے پہلے امریکی صدر جو بائیڈن کی ٹیلیفون کال کی بات کی۔ 21 جون کے انٹرویو میں اینکر وزیر اعظم سے پوچھتے ہیں کہ جو بائیڈن کی آپ سے بات ہوئی؟ وزیراعظم نے کہا نہیں۔ آگے سے وہ پھر پوچھتے ہیں تو وزیر اعظم کہتے ہیں کہ امریکی صدر کی ترجیحات اور ہیں اور ’جب وہ مجھ سے بات کریں گے تو میں بات کر لوں گا۔‘

بہرحال یہ بات آگے  بڑھی۔ 25 جون کو پاکستان کے نجی چینل جیو کے اینکر شاہ زیب خانزادہ نے اپنے انٹرویو میں یہی سوال معید یوسف سے پوچھا کہ جو بائیڈن نے ابھی تک وزیر اعظم سے بات نہیں کی؟ معید یوسف نے کہا کہ نہیں ابھی تک بات نہیں ہوئی۔ گڈ لک جو بائیڈن کو اور یہ کہ پاکستان میں کوئی ان کی کال کا انتظار نہیں کر رہا۔

پھر اسی انٹرویو میں انہوں نے شکایت بھی کی کہ افغانستان پر پاکستان اور امریکہ کو جس رابطے اور تعاون کی ضرورت ہے وہ نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہا کہ غیرملکی افواج کے افغانستان سے انخلا کی خبر بھی انہیں میڈیا سے ملی تھی۔ ’ہمیں انہوں نے بتایا نہیں تھا۔‘ البتہ انہوں نے فون کال کے بارے میں اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہا۔

اب پھر بات آتی ہے معید یوسف کے اگست 3 کے فنانشل ٹائمز کے انٹرویو کی۔ اس انٹرویو میں معید یوسف نے تین چار باتیں یقینا کہیں۔ نمبر ایک کہ امریکہ سے ہمیں یہ خبر ملتی رہتی ہے کہ کبھی تکنیکی، کبھی کچھ اور کبھی کچھ اور مسئلہ ہے۔ تو اس طرح کی بات ہوتی ہے جب فون کال کے بارے میں تو وہ کہتے ہیں کہ بعد میں بات کریں گے۔

دوسرا انہوں نے یہ کہا کہ یہ اگر ان کا خیال ہے کہ پاکستان کے ساتھ ایک سکیورٹی تعلق ہے اور اس میں کال کرنا پاکستان کو جیسے کوئی بہت بڑی رعایت دے رہے ہیں تو یہ بڑی عجیب بات ہے۔ تیسری بات انہوں نے کہی کہ بھائی اگر امریکہ کا اسی طرح کا رویہ ہے تو پاکستان کے پاس ظاہر ہے اور بھی راستے ہیں۔

انٹرویو میں معید یوسف کا کہنا تھا کہ امریکہ کے صدر نے اتنے اہم ملک (پاکستان) کے وزیر اعظم سے بات نہیں کی جس کے بارے میں خود امریکہ کہتا ہے کہ وہ (پاکستان) افغانستان میں کچھ معاملات میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ان اشاروں کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر معید نے جب انٹرویو ختم ہو گیا تھا تو جانے سے پہلے وہاں کھڑے ہوئے یہ بات کر رہے تھے۔ ظاہر ہے انٹرویو والوں نے یہ سوال ضرور اٹھایا ہوگا۔

انہوں نے انہیں آف دی ریکارڈ کہا یا نہیں کہا لیکن یہ باتیں کہیں اور وہ باتیں فنانشل ٹائمز نے چھاپ دیں۔ اب فون کال کا معاملہ ایک بڑا معاملہ بن گیا ہے۔ جب پہلی دفعہ وزیر اعظم نے اپنی اور نیشنل سکیورٹی اداروں کی جانب سے جون میں کہہ دیا کہ وہ فون کا کو اتنی اہمیت نہیں دیتے تو یہ ایک تناؤ کی صورت حال ظاہر کرتی ہے۔

جیو کے انٹرویو میں معید یوسف کا کہنا کہ ’گڈ لک جی اگر آپ نہیں کرتے تو آپ کا اپنا مسئلہ ہے ہم انتظار نہیں کر رہے۔‘ یہ بات میڈیا کے لیے ایک بڑی خبر بنتی ہے۔ وہ بڑے سرکاری عہدیدار ہیں۔ فنانشل ٹائمز نے بھی اسی وجہ سے اس بات کو خبر اتنی بڑی خبر بنا دیا۔

کئی دیگر اہم امور پر بھی بات ہوئی۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کا ذکر ہوا۔ بڑا کلیئر پیغام پاکستان کی طرف سے گیا کہ یہ جو امریکہ میں جب ملاقاتیں ہوئیں کہ ہم بین الاقوامی سوچ کے ساتھ چلیں گے، ہم اگر طالبان زور سے اقتدار یا حکومت میں آئیں گے تو ہم اس کو نہیں مانیں گے، افغان پناہ گزینوں کے لیے پاکستان کے اندر جگہ نہیں ہوگی اور یہ کہ صدر اشرف غنی کو بھی اپنا رویہ ٹھیک کرنا ہو گا۔ انہوں نے یہ سب باتیں بھی کہیں لیکن بات فون کال کی چل پڑی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جب انٹرویو کی یہ خبر ایک بہت بڑی خبر بن گئی اور اس پر کچھ تنقید ہوئی تو ڈاکٹر معید یوسف نے یو ایس آئی پی میں تقریر کے بعد ایک سوال پر کہا کہ ’مجھے کبھی کبھی میڈیا کے کام کرنےکے طریقے کی سمجھ نہیں آتی۔‘ اس بات سے ان کی فرسٹریشن کا اظہار ہوتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’دیکھیں میں کوئی فون کال پہ بات کر رہا ہوں۔ میں اصل امور پر بات کر رہا ہوں۔‘ انہوں نے اس کو بھی رد کر دیا کہ یہ سوال بھی نہیں ہے کیونکہ اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

اچھی بات ہے کہ انہوں نے اس طرح بات کی لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہ بات انہوں نے ذہن نشین کر لی ہوتی کہ جب آپ اس اہم عہدے پر ہوتے ہیں اور جو بھی آپ بات کرتے ہیں جہاں بھی کرتے ہیں اس کو اہمیت دی جاتی ہے۔ وہ پالیسی کا حصہ بن جاتی ہے۔

فنانشل ٹائمز کا انٹرویو ختم ہوچکا تھا اور یہ جب وہ خدا حافظ کہہ رہے تھے تو وہاں اس کے بعد یہ بات اٹھی تو ان کو ایسی ہی بات کرنی چاہیے تھی۔ فنانشل ٹائمز کی خاتون اینکر نے تو ظاہر ہے خبر نکالنی تھی۔ اس وقت جو بات ڈاکٹر معید یوسف نے کی وہ ایک پالیسی میکر کی سوچ کی عکاسی کر رہی تھی۔ انہوں نے اس کو بات کو جس بھی طرح سے کہا انہوں نے کہا ضرور۔

بات اس سے آگے بڑھی تو امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ دیکھیے ابھی بہت سے اور اہم ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ امریکی صدر نے بات نہیں کی ہے اور درست وقت پر وہ پاکستان سے بات کر لیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ نے آن دی ریکارڈ کہہ دیا ہے کہ مناسب وقت پر بات کر لیں گے۔ تو یہ تو ہو گئی فون کال کی بات۔

فون کال اہم نہیں لیکن یہ امریکی تعلقعات میں کچھ سرد مہری کی طرف شاید اشارہ کرتی ہو۔

 فون کال کی کہانی کا سبق کوئی تو ہے۔

ناپ تول کے بات کرنے کی ضرورت ہے، بہت سوچ سمجھ کے بعد سمجھ کے بات کرنے کی ضرورت ہے۔ زیادہ بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔

اور یہ کہ اگر آپ کا خیال ہے کہ آپ میڈیا کے پاس جا رہے ہیں اور آپ جا کر اپنی طرف سے انٹرویو ختم ہوگیا تھا لیکن آپ ایسی  باتیں کہہ رہے ہیں جن کا تعلق پالیسی سے اور وہ خبر میں نہیں استعمال کی جائیں گی تو پھر یہ آپ کی اپنی غلط فہمی ہے۔

اور جہاں تک امریکہ پاکستان تعلقات ہیں وہ پیچیدہ اور مشکلات کا شکار بھی ہیں۔ اس وقت پاکستان اور امریکہ کے دو بڑے مسائل ہیں: ایک چین اور دوسرا افغانستان۔ ان پر  بات چیت ضروری ہے اور تعاون بھی ہوا ہے لیکن امریکہ تو ابھی تک ’ڈو مور‘ کہہ رہا ہے۔

پاکستان امریکہ تعلقات ایک مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔ پاکستان کے اعلی عہدیدار مشکلات کو یکدم ختم نہیں کر پائیں گے اور نہ امریکہ کرنے دے رہا ہے۔

بات چیت سے معاملات حل ہوں گے جو ہو رہی ہیں لیکن کس طرح بات کی جائے کہاں کی جائے اور کیا بات کی جائے اس پر ہر ایک کو نظر رکھنی ہے اور ایک ڈسپلن کے تحت چلنا ہے۔ جس بھی عہدے پر آپ ہیں چاہے آپ صدر ہیں چاہے وزیر اعظم، بات چیت کا ایک سلجا ہوا طریقہ ہوتا ہے۔ سوچ کی عکاسی الفاظ کرتے ہیں اس لیے الفاظ کو بہت ناپ تول کے ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ