سندھ میں جوگیوں کی برادری میں شادی طے کیے جانے کے وقت ایک انوکھی رسم عرصہ دراز سے چلی آ رہی ہے۔
اس رسم میں لڑکے کو منگنی کے بعد لڑکی والوں کے گھر رہ کر اپنی محبت اور ذمہ داری کا یقین دلانا ہوتا ہے اور اگر لڑکی والوں کو لڑکے کے خلوص کا یقین ہو جائے تو وہ شادی کے لیے ہاں کر دیتے ہیں۔
جوگی برادری کے ایک رکن علی شیر جوگی نے اس رسم کے حوالے سے بتایا: ’ہماری برادری میں منگی کے موقعے پر لڑکے والے اپنی برادری کے ہمراہ آتے ہیں۔
’اس میل ملاپ میں طے پاتا ہے کہ لڑکا منگنی کے بعد کچھ وقت اپنے ہونے والے سسرال میں رہے گا تاکہ اس کا چال چلن اور برتاؤ پرکھا جا سکے۔ اگر لڑکا پاس ہو جائے تو رشتہ کر دیا جاتا ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ لڑکا اور لڑکی ایک گھر میں رہنے کے باوجود نہ تو ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی بات چیت کی اجازت ہوتی ہے۔
بقول علی شیر: ’گو یہ ہماری بہت پرانی رسم ہے مگر بدلتے زمانے کی وجہ سے یہ تبدیل ہو رہی ہے۔ اب اکثر قبیلوں میں منگنی کے بعد لڑکا اپنے گھر چلا جاتا ہے۔‘
سکھر کے صحافی ساحل جوگی نے اس رسم کے حوالے سے بتایا کہ اس کا مقصد صرف ایک دوسرے کو سمجھنا ہے تاکہ شادی کے بعد ناچاکی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
انہوں نے بتایا کہ اس رسم کے بہت سے فائدے ہیں اور شاذ و نادر ہی کسی لڑکے کو انکار کرنے کی نوبت آتی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’اس رسم کے نتیجے میں ہونے والی شادی میں لڑکی کے والدین مطمئن رہتے ہیں کیونکہ انہوں نے لڑکے کی عادات اور صفات کو خود پرکھا ہوتا ہے۔‘
گلوکار محمد شاہد جوگی نے، جن کی حال ہی میں شادی ہوئی، بتایا کہ انہوں نے اس رسم کے تحت ’تین ماہ تک اپنے سسرال والوں کی دل سے خدمت کی۔‘
انہوں نے کہا: ’اس کا سب سے زیادہ فائدہ یہ ہوا کہ میری دلہن میری اور میرے گھر والوں کی بہت عزت کرتی ہے کیونکہ اس نے دیکھا کہ میں نے ان کے گھر رہ کر ان کی خدمت کی۔ اگر اپنے گھر میں اپنے والدین کی خدمت کی جاتی ہے تو ساس اور سسر بھی والدین کی جگہ ہوتے ہیں۔‘
شاہد کہتے ہیں کہ وہ اپنی اولاد کے رشتے بھی اسی رسم کے تحت کریں گے۔
دوسری جانب نوبیاہتا دلہن سمیرا جوگی نے بتایا کہ انہیں اپنے منگیتر کا ان کے والدین کی خدمت کرنا بہت اچھا لگا۔
’والدین نے میری رضامندی سے میرے رشتے کی حامی بھری۔ ہم دونوں زندگی میں بہت خوش ہیں۔‘
(ایڈیٹنگ: بلال مظہر)