جب لیو ژنگ کا پالتو بلا 15 سال ساتھ گزارنے کے بعد مر گیا تو وہ اس کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھیں۔ پالتو بلے کو الوداع کہنے کی بجائے انہوں نے سائنس کا سہارا لیا۔
انہوں نے تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار یوان (تقریباً 14941 برطانوی پاؤنڈ) خرچ کر کے اپنے بلے کو کلون کرایا اور جلد ہی اس کے تقریباً ہو بہو نئے روپ کو گلے لگایا، جسے انہوں نے لٹل ٹام کیٹ کا نام دیا۔
انہوں نے اخبار ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ سے بات کرتے ہوئے کہا ’ایک ایک پیسہ وصول ہو گیا۔‘
لیو ژنگ اس معاملے میں اکیلی نہیں۔ چین میں پالتو جانور رکھنے والے لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اب اپنے پیارے جانوروں سے رشتہ قائم رکھنے کے لیے کلوننگ کا رخ کر رہی ہے۔
ایک وقت تھا جب یہ تصور صرف سائنس فکشن کی کہانیوں تک محدود تھا لیکن آج پالتو جانوروں کی کلوننگ ایک باقاعدہ کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے، جسے تقویت ملی ہے گہرے جذباتی لگاؤ، بائیوٹیکنالوجی کی ترقی اور پالتو جانوروں کی تیزی سے پھلتی پھولتی منڈی سے، جو پہلے کبھی اس رفتار سے نہیں بڑھی۔
چین میں پالتو جانوروں کی کلوننگ ایسے وقت میں تیزی سے فروغ پا رہی ہے جب ملک میں پالتو جانوروں کی ایسی مقبولیت دیکھنے میں آ رہی ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔
اخبار گلوبل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال شہری علاقوں میں پالتو جانوروں کی منڈی کی مالیت 300.2 ارب یوان (تقریباً 32 ارب پاؤنڈ) تک گئی جس سے سالانہ 7.5 فیصد کا اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔
شہری علاقوں میں پالتو جانوروں کی تعداد 12 کروڑ 40 لاکھ ہو چکی ہے۔ یہ تعداد مزید بڑھنے کی توقع ہے۔ چائنا پیٹ انڈسٹری وائٹ پیپر 2025 کے مطابق یہ منڈی 2027 تک 400 ارب یوان (تقریباً 42.6 ارب پاؤنڈ) تک پہنچ سکتی ہے۔
چینی حکومت کی انسانوں کی شرح پیدائش بڑھانے کی کوششوں کے باوجود اب ملک میں پالتو جانوروں کی تعداد کم عمر بچوں سے زیادہ ہو چکی ہے۔
شنہوا نیوز ایجنسی نے گولڈمین سیکس کی ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ 2024 میں چین میں سرکاری طور پر چار سال سے کم عمر بچوں کے مقابلے میں زیادہ پالتو جانور موجود تھے۔
رپورٹ کے مطابق چین کے شہری علاقوں میں ہر آٹھ میں سے ایک شخص کے پاس اب کم از کم ایک پالتو جانور ہے جس سے ملک میں آبادی کے بدلتے حالات اور طرز زندگی کی ترجیحات نمایاں ہوتی ہیں۔
لیو شیاؤشیا نے، جو چائنا اینیمل ایگریکلچر ایسوسی ایشن کی پیٹ انڈسٹری برانچ کی ڈپٹی سکریٹری جنرل ہیں، چین میں پالتو جانوروں کی تعداد میں اضافے کی وجہ بدلتے ہوئے مشاغل، خرچ کرنے کے انداز، آبادی کی تبدیلیوں، اور شہری علاقوں میں دستیاب اضافی آمدنی کو قرار دیا ہے۔
انہوں نے گلوبل ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پہلے پالتو جانور گھروں کی حفاظت یا دیگر عملی مقاصد کے لیے رکھے جاتے تھے۔ اب وہ زیادہ ’انسانی انداز‘ میں زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔
’جذباتی وابستگی اور ساتھ دینے کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔ ان کا گہرائی کے ساتھ روزمرہ زندگی کا حصہ بن جانا پالتو جانوروں کے رجحان میں زبردست اضافے کا سبب بنا۔‘
تاہم، پالتو جانور کی کلوننگ سستی نہیں ہوتی۔ جاپانی جریدے نکئی ایشیا کی ایک رپورٹ کے مطابق اس صنعت کی نمایاں کمپنیوں میں سے ایک سائنو جین ایک بلی کی کلوننگ کے لیے تقریباً 40 ہزار ڈالر (تقریباً 30,946 پاؤنڈ) اور کتے کے لیے 50 ہزار ڈالر (تقریباً 38,683 پاؤنڈ) لیتی ہے۔
سائنو جین کی ویب سائٹ پر صارفین کو یہ سہولت فراہم کی جاتی ہے کہ وہ ’اپنے دوستوں کو (پھر سے) پائیں۔‘ جب کہ کتوں کی کلوننگ سے متعلق وعدہ کیا گیا ہے کہ ’ہم پالتو کتے کی روح کو زندہ رکھنے میں آپ کی مدد کریں گے۔‘
اس عمل میں اصل پالتو جانور کی جلد کا نمونہ لیا جاتا ہے، پھر اس کے ڈی این اے کو عطیہ کیے گئے بیضے میں داخل کیا جاتا ہے اور اس کے بعد اس جنین کو سرروگیٹ مادہ جانور کے رحم میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔
نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ’جینیاتی طور پر بالکل مشابہ جڑواں بچہ مہینوں یا حتیٰ کہ کئی سال بعد پیدا ہوتا ہے، جب اصل پالتو جانور چکا ہوتا ہے۔‘
زیادہ لاگت کے باوجود پالتو جانوروں کی کلوننگ کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے۔
حالیہ برسوں میں چینی سوشل میڈیا پر اس موضوع پر ہونے والی بحثوں کو 460 کروڑ سے زائد ویوز ملے جس سے لوگوں کی دلچسپی، تجسس، اور بحث کی شدت ظاہر ہوتی ہے۔
اب کئی کمپنیاں یہ سروس فراہم کر رہی ہیں اور جن پالتو جانوروں کے مالکان یہ قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں، وہ اس عمل کو اپنے وفادار ساتھی سے لگاؤ کی انتہا سمجھتے ہیں۔
اگرچہ کلوننگ کو کھوئے ہوئے پالتو جانور سے ’دوبارہ ملاقات‘ کا سائنسی طریقہ قرار دے کر فروخت کیا جاتا ہے، لیکن یہ عمل تنازعے سے خالی نہیں۔
جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا مؤقف ہے کہ کلوننگ میں استعمال ہونے والی سرروگیٹ مادہ جانور غیر ضروری تکلیف سے گزرتی ہیں۔ وہ اس عمل کو ’ظالمانہ‘ اور غیر اخلاقی قرار دیتے ہیں۔
سائنو جین کا دعویٰ ہے کہ ان کا طریقہ کار ’آپ کے کتے کی وہ تمام منفرد خصوصیات محفوظ رکھتا ہے جو اسے ناقابل بدل بناتی ہیں۔ مثال کے طور پر مزاج، ذہانت، اور جسمانی خدوخال۔‘
تاہم بہت سے لوگ اس پر سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا جینیاتی طور پر مشابہ ہونے کے باوجود کلون کیے گئے پالتو جانور واقعی پہلے والے جانوروں کی شخصیت اور روح رکھتے ہیں؟
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
چین میں کلون کی گئی پہلی بلی گارلِک کے مالک ہوانگ یو نے یہ تجربہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اگرچہ ڈی این اے ٹیسٹ سے ثابت ہو گیا کہ نئی گارلِک جینیاتی طور پر اصل بلی کی ہو بہو نقل ہے مگر اس کے جسم پر نشانات تھوڑے مختلف تھے اور سب سے اہم بات یہ کہ وہ ہوانگ کے ساتھ ویسا برتاؤ ظاہر نہیں کر رہی تھی جیسا اصل گارلِک کیا کرتی تھی۔
ہوانگ نے 2019 میں جریدے سکسٹھ ٹون سے بات کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ’اس کے بال بنیادی طور پر وہی ہیں لیکن اس کی ٹھوڑی پر جو مخصوص سیاہ دھبہ تھا، وہ اب موجود نہیں۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب انہوں نے پہلی بار نئی گارلِک کو دیکھا تو وہ ’قدرے مایوس‘ ہوئے۔
کلوننگ کے عمل میں تکنیکی غلطیاں بھی سامنے آ چکی ہیں۔ ایک واقعے میں ایک کلوننگ کمپنی نے غلطی سے ایک کی بجائے ایک ہی جیسے کئی پلے پیدا کر دیے۔
مالک لیانگ شوان کے لیے یہ ایک غیر متوقع اور مہنگا تجربہ ثابت ہوا، کیوں کہ انہیں ایک کی بجائے متعدد ہم شکل کتے مل گئے۔
انہوں نے ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ (ایس سی ایم پی) سے بات کرتے ہوئے کہا: ’یا تو کلوننگ کامیاب نہیں ہوتی، یا پھر پورا ریوڑ پیدا ہو جاتا ہے۔‘
آخرکار، لیانگ نے تمام پلے خود ہی اپنے ذمے لے لیے۔ اگرچہ کچھ لوگ کلون کیے گئے ساتھی کے تصور میں سکون محسوس کرتے ہیں، لیکن بہت سے افراد اب بھی اس بات پر سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا ایک جینیاتی نقل واقعی اس محبوب پالتو جانور کی جگہ لے سکتی ہے، جس کی شخصیت اور یادیں وقت، تجربات اور تعلقات کے ذریعے منفرد انداز میں تشکیل پاتی ہیں۔
کلوننگ کے اخلاقی و اصولی پہلو، اس کی اثر انگیزی، اور طویل مدتی نتائج پر جاری بحث تاحال ختم ہونے سے دور ہے۔
© The Independent