بدعنوانی کا الزام: استنبول میئر کی گرفتاری پر 55 صوبوں میں مظاہرے

مظاہرے بدھ کو امام اوغلو کی گرفتاری کے بعد استنبول سے شروع ہوئے اور اب تک ترکی کے 81 میں سے 55 سے زائد صوبوں تک پھیل چکے ہیں۔

استنبول میں میئر کے انتخاب کے لیے دوبارہ انتخاب میں حصہ لینے والے ترکی کے حزب اختلاف کے امیدوار، کریم امام اوغلو 22 مئی 2019 کو اپنی سیاسی مہم کے دوران سٹیج پر تقریر کر رہے ہیں۔ کریم امام اوغلو کو ترکی میں گرفتار کیا گیا ہے اور ان کی رہائی کے لیے بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے جا رہے ہیں (اے ایف پی)

استنبول کے بد عنوانی کے مقدمے کا سامنے کرنے والے میئر اکرم امام اوغلو نے پیر کو جیل میں اپنی پہلی رات گزاری جنہیں ایک دن قبل میئر کے عہدے سے معطل کر کے حراست میں لیا گیا تھا۔

ان کی معزولی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ ان مظاہروں کی کوریج کرنے والے 10 صحافیوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔

یہ مظاہرے بدھ کو امام اوغلو کی گرفتاری کے بعد استنبول سے شروع ہوئے اور اب تک ترکی کے 81 میں سے 55 سے زائد صوبوں تک پھیل چکے ہیں۔

ان مظاہروں نے گذشتہ ایک دہائی کے دوران ملک کے بدترین احتجاج کی صورت اختیار کر لی ہے اور کئی مقامات پر مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔

مقبول رہنما اکرم امام اوغلو کو طویل عرصے سے ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کو انتخابی میدان میں شکست دینے کی واحد امید کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

اکرم امام اوغلو کی گرفتاری اور قید پر اتوار کی شب فرانس کی وزارت خارجہ نے سخت مذمت کی اور ان کی قید کو ’جمہوریت پر سنگین حملہ‘ قرار دیا۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایم ایل ایس اے  نے اپنے بیان میں کہا کہ پیر کی صبح پولیس نے 10 ترک صحافیوں کو ’احتجاج کی کوریج کرنے‘ پر حراست میں لے لیا ہے۔

یہ احتجاج اتوار کی شب دیر گئے سٹی ہال کے باہر جاری تھا جہاں ہزاروں لوگ جمع ہوئے تھے۔

تاحال یہ واضح نہیں کہ کتنے مظاہرین کو رات بھر میں گرفتار کیا گیا تاہم استنبول کے گورنر داوود گل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں مظاہرین پر ’مساجد اور قبرستانوں کو نقصان پہنچانے‘ کا الزام عائد کیا ہے۔

اتوار کو ایک ترک عدالت نے استنبول کے حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے میئر اکرم امام اوغلو اور درجنوں دیگر افراد کو ’بدعنوانی‘ کے الزامات پر جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

اپوزیشن جماعت سی ایچ پی نے اس مقدمے کو صدر رجب طیب اردوغان کی منظم کردہ ’سیاسی بغاوت‘ قرار دیا ہے۔

اکرم امام اوغلو کون ہیں؟

امام اوغلو 2019 میں استنبول کے میئر منتخب ہوئے اور گذشتہ سال دوبارہ شاندار فتح حاصل کی۔

ترکی کے سب سے بڑے شہر اور کاروباری مرکز جس کی آبادی تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ ہے، میں اس جیت نے 53 سالہ امام اوغلو کو اردوغان کے سب سے بڑے سیاسی حریف کے طور پر ابھارا۔

ان پر الزام کیا ہے؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

استنبول کے میئر کو بدھ کی صبح ’بدعنوانی‘ اور ’دہشت گرد تنظیم کی حمایت‘ کے الزامات میں گرفتار کیا گیا۔

یہ الزامات سی ایچ پی اور ایک کرد حامی جماعت کے درمیان انتخابی معاہدے کی بنیاد پر لگائے گئے، جسے حکومت پی کے کے (کردستان ورکرز پارٹی) سے جوڑتی ہے۔ یہ ایک ایسی تنظیم جسے انقرہ دہشت نے گرد گروپ قرار دے رکھا ہے۔
اتوار کو موصول ہونے والے عدالتی حکم کے مطابق: ’اکرم امام اوغلو پر مجرمانہ تنظیم بنانے اور اس کی قیادت کرنے، رشوت لینے، بدعنوانی، ذاتی معلومات کو غیرقانونی طور پر ریکارڈ کرنے اور ٹینڈرز میں دھاندلی کے الزامات ہیں۔‘

حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ ’اگرچہ مسلح دہشت گرد تنظیم کی حمایت کے جرم کا سنگین شبہ موجود ہے، تاہم فی الحال صرف مالی جرائم کی بنیاد پر قید کا فیصلہ کافی ہے۔‘

امام اوغلو کو میئر کے عہدے سے برطرف کر کے حراست میں رکھا گیا ہے۔

سی ایچ پی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے

بدھ کو تقریباً 90 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں استنبول کے دو ضلعی میئر بھی شامل ہیں۔ ایک پر بدعنوانی اور دوسرے پر ’دہشت گردی‘ کا الزام لگایا گیا ہے۔

دونوں عوامی نمائندے سی ایچ پی (جمہوری خلق پارٹی) سے تعلق رکھتے ہیں جو سوشلسٹ اور سیکولر جماعت ہے جس کی بنیاد ترکی کے بانی مصطفی کمال نے رکھی تھی۔

پارلیمنٹ میں سی ایچ پی کے پاس 134 نشستیں ہیں جب کہ اردوغان کی جماعت اے کے پی کے پاس 272 ہیں۔

مارچ 2024 کے بلدیاتی انتخابات میں سی ایچ پی نے 81 میں سے 35 صوبائی دارالحکومتوں میں کامیابی حاصل کی جو اے کے پی کے مقابلے میں 11 زیادہ ہیں۔

یہ جماعت انقرہ، ازمیر، انتالیہ اور صنعتی مرکز برصہ سمیت بیشتر بڑے شہروں میں کامیاب ہوئی۔

وقت کا تنازع

امام اوغلو کو اتوار کو صدارتی انتخاب 2028 کے لیے سی ایچ پی کا امیدوار نامزد کیا جانا تھا۔ وہ اس پارٹی کے واحد امیدوار تھے۔

تاہم منگل کو ان کی گرفتاری سے چند گھنٹے قبل ان کی ڈگری منسوخ کر دی گئی جس سے ان کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوئی کیوں کہ ترکی کے آئین کے مطابق صدارتی امیدوار کے لیے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے۔

2023 میں امام اوغلو کو الیکشن کمیشن کے ارکان کو ’توہین آمیز‘ کہنے پر ڈھائی سال قید کی سزا سنائی گئی جس کے خلاف اپیل اب بھی زیر التوا ہے۔

اسی وجہ سے پارٹی نے انہیں اُس وقت صدارتی انتخاب میں امیدوار نامزد نہیں کیا۔

اس بار بھی سی ایچ پی نے ابتدائی انتخاب ملتوی کرنے کی بجائے اتوار کو ہی اس کا اہتمام کیا اور تمام ترک شہریوں، خواہ وہ پارٹی میں رجسٹرڈ ہوں یا نہ ہوں، سے شرکت کی اپیل کی تاکہ اسے ایک ریفرنڈم کی شکل دی جا سکے۔

استنبول ٹاؤن ہال کے مطابق پرائمری میں ایک کروڑ 50 لاکھ افراد نے ووٹ دیا، جن میں سے ایک کروڑ 30 لاکھ سی ایچ پی کے رکن نہیں تھے۔

2013 کے بعد سب سے بڑے مظاہرے

امام اوغلو کی گرفتاری 2013 کے ’گیزی پارک‘ مظاہروں کے بعد ترکی کے سب سے بڑے احتجاجی مظاہروں کا سبب بنی جو اس وقت استنبول میں ایک پارک کو گرانے کے خلاف شروع ہوئے۔

جمعے اور ہفتے کو سینکڑوں ہزاروں افراد استنبول کی سڑکوں پر نکل آئے جب کہ انقرہ، ازمیر اور دیگر شہروں میں بھی بڑے مظاہرے ہوئے۔

ترکی کے 81 میں سے کم از کم 55 صوبوں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں یعنی ملک کے دو تہائی حصے میں عوام سڑکوں پر آئے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان مظاہروں کی قیادت نوجوان کر رہے ہیں اور ان کے مطالبات صرف امام اوغلو کی گرفتاری سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔

ان مظاہروں کے ردعمل میں ترک حکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس سے 700 سے زائد اکاؤنٹس بند کرنے کی درخواست کی۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا