عدالت نے والدین کی جانب سے ملزمان بیٹوں کو معاف کرنے کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا۔ ماڈل کورٹ کے جج عمران شفیع نے قندیل قتل کیس میں والدین کی جانب سے ملزمان بیٹوں کو معاف کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالتی بیان کے مطابق غیرت کے نام پر قتل کے اس کیس کا فیصلہ تمام گواہوں کی شہادتیں مد نظر رکھتے ہوئے بعد میں سنایا جائے گا۔
پاکستان کے جنوبی شہرملتان میں تین برس پہلے قتل ہونے والی ماڈل قندیل بلوچ کےقتل کیس میں والدین کی طرف سے ملزم بیٹوں کو معاف کیے جانے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ مقدمہ کی سماعت ماڈل کورٹ کےجج عمران شفیع نے کی۔ مقامی عدالتی صحافی وسیم بوبک کے مطابق قندیل بلوچ کے والدین کا عدالت میں کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے بیٹوں کو اللہ کی خاطر معاف کر دیا لہذا عدالت ان کے بیٹوں کو بری کرے۔ اس مقصد کے لیے قندیل بلوچ کے والدین کی جانب سے تحریری صلح نامہ بھی جمع کرایا گیا۔
سماعت کے دوران قندیل بلوچ کے والدین نے کہا کہ ہم نے اپنے بیٹوں وسیم اور اسلم شاہین کو اللہ واسطے معاف کیا عدالت نےاستفسارکیا کہ کیا آپ صرف اپنے بچوں کو معاف کرنا چاہتے ہیں یا تمام ملزمان کو ؟ قندیل کے والدین نے جواب دیا کہ انہوں نےصرف اپنے بیٹوں کو معاف کیا ہے، فاضل جج نے کہا آپ لوگ جانتے ہیں کہ ملزم بیٹوں کی معافی پر کیس کے باقی ملزموں پر کیا اثر پڑے گا؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے باقی ملزمان کو معاف نہیں کیا۔ عدالت نے صلح نامہ کی اس درخواست کا فیصلہ کچھ دیر محفوظ کیا۔ اس کیس میں تمام گواہان اور ملزمان کے بیان قلم بند کر لیے گئے ہیں۔
عدالت میں مفتی عبدالقوی، وسیم سمیت دیگر ملزمان بھی حاضر تھے اس سے پہلے صلح نامہ کی درخواست پر مقدمہ کے پراسیکیوٹر نے عدالت میں جواب جمع کرایا جس میں کہا گیا تھا کہ 19 گواہان کی شہادتیں قلم بند ہونے کے بعد راضی نامہ کی درخواست کیس کو متاثر کرنے کے مترادف ہے۔
پراسیکیوشن کے مطابق کریمنل ایکٹ 2004 میں ترمیم کے بعد غیرت کے نام پر قتل کرنا ناقابل راضی نامہ ہے۔ پنجاب پینل کورٹ (پی پی سی )کے سیکشن 311 میں ترمیم کے بعد بھی کیس میں صلح نہیں ہوسکتی پراسیکیوشن نے عدالت میں کہا مدعی اور ملزمان مقتولہ قندیل کے ورثا ہیں اس لیے صلح نہیں کی جا سکتی۔ کیس کی مزید سماعت 24 اگست تک ملتوی ہو گئی۔
مقدمہ میں والدین کی جانب سے ملزمان کے ساتھ راضی نامہ کرنے پر پہلے بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
قندیل بلوچ کون تھیں قتل کی نوبت کیوں آئی؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب کے جنوبی ضلع مظفر گڑھ میں پیدا ہونے والی فوزیہ عظیم المعروف قندیل بلوچ کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا۔ ان کے تین بھائی اور ایک بہن ہیں۔ انہیں میٹرک سے شوبز میں آنے کا شوق تھا لیکن ان کے گھر والے بدنامی کے ڈر سے ایسا نہیں چاہتے تھے لہذا والدین نے ان کی 2008میں اپنے قریبی عزیز عاشق حسین بلوچ سے 17 سال کی عمر میں شادی کر دی۔ جب کہ پاکستان میں بلوغت کی عمر 18سال ہے۔ قندیل بلوچ کی یہ شادی ایک سال ہی چل سکی۔ ان کا ایک بیٹا بھی پیدا ہوا۔ ان کی والدہ کے مطابق انہوں نے اپنے خاوند کے رویے اور تنگ سوچ کے باعث ان سے علیحدگی اختیار کی تو گھر والوں نے بھی اسے اچھا نہیں سمجھا جس پر وہ لاہور آگئیں اور مختلف کمپنیوں کے لیے ماڈلنگ شروع کر دی اور ڈراموں میں بھی کام کا آغاز کیا۔
ان کے گھر والے ان سے ناراض تھے اسی لیے انہوں نے شوبز کی دنیا میں اپنی خاندانی پہچان چھپانے کے لیے اپنا نام قندیل بلوچ رکھا۔ وہ کافی خوش مزاج تھیں۔
سب سے زیادہ شہرت ان کو سوشل میڈیا پر ملی۔ مختلف شخصیات کے ساتھ سیلفیاں بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کرنا ان کا شوق تھا۔ 2016 میں ان کی مختلف سیلفیاں اور ویڈیوز جب معروف عالم دین اور رویت ہلال کمیٹی کے رکن مفتی عبدالقوی کے ساتھ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو ان کو کافی شہرت ملی۔ مذہبی حلقوں میں اس معاملے پرمفتی صاحب کو کافی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور کئی علما نے ان کی رویت ہلال کمیٹی کی رکنیت ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔