بلوچستان نیشنل پارٹی ( بی این پی مینگل) کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے لانگ مارچ کو کوئٹہ لے جانے کا اعلان کیا ہے۔
بدھ کی شام لک پاس ٹنل کے قریب جاری دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ چھ اپریل اتوار کی صبح نو بجے کوئٹہ کی جانب مارچ شروع کر دیں گے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں اختر جان مینگل نے کہا: ’ہم نے اس حکومت کو بارہا سمجھانے کی کوشش کی، مگر انہوں نے ہماری بات سننا تو دور، تسلیم کرنا بھی گوارا نہ کیا۔ اب ہماری آواز کوئٹہ کی گلیوں میں گونجے گی۔ ہمارا مارچ پُرامن ہے، اور اگر اس پُرامن احتجاج کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو اس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ اور اسٹیبلشمنٹ پر عائد ہو گی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میں ہر بلوچ اور پشتون سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنی بہنوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔‘
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت تمام زیر حراست بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی خواتین رہنماؤں کی رہائی کے لیے گذشتہ ہفتے بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی مینگل) کا ’بلوچ ننگ و ناموس‘ نامی مارچ ضلع خضدار میں تحصیل ہیڈ کوارٹر کے شہر وڈھ سے کوئٹہ کے لیے روانہ ہوا، جس کی سربراہی بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل کر رہے تھے۔
بی این پی کے مارچ مستونگ پہنچنے پر صوبائی انتظامیہ نے سکیورٹی سخت کرتے ہوئے لک پاس ٹنل، کنڈ مسوری اور دیگر اہم داخلی راستوں پر شپنگ کنٹینرز اور رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیے تھے۔ اس کے بعد مارچ کے شرکا کوئٹہ سے تقریباً 30 کلومیٹر دور واقعے لک پاس کے پاس دھرنا دے کر بیٹھ گئے تھے۔
دھرنے میں بلوچستان کے مختلف شہروں سے لوگ قافلے کے صورت میں شامل ہوتے گئے، جن میں بڑی تعداد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
صوبائی انتظامیہ کی جانب سے راستوں پر رکاوٹوں کے باعث مستونگ، قلات، سوراب، خضدار، نوشکی، خاران سمیت مختلف شہروں کے رہائشیوں کو شدید سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس دوران دھرنے کے قریب خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا مگر اس حملے کے نتیجے میں اختر مینگل اور دیگر رہنما محفوظ رہے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے احتجاج کے دوران صوبے کے مختلف شہروں میں کئی روز تک موبائل سیلولر ڈیٹا بھی بند رہا۔
مارچ کے شرکا کو کوئٹہ آنے سے روکنے کے لیے کوئٹہ کو مستونگ سے ملانے والے تمام لنک روڈز کو کنٹینرز لگا کر مکمل سیل کر دیا گیا، جب کہ مقامی میڈیا میں یہ خبریں بھی رپورٹ ہوتی رہیں کہ صوبائی حکومت نے لانگ مارچ کے شرکا کو کوئٹہ کی طرف ممکنہ پیش قدمی سے روکنے ک لیے مختلف شاہراہوں پر خندقیں کھود دی ہیں۔
اس سلسلے میں بلوچستان حکومت کا موقف جاننے کے لیے ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند سے رابطہ کیا تو انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماؤں سے مذاکرات کے دو سیشن ہو چکے ہیں، تاحال ان مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا، صوبائی حکومت دوبارہ مذاکرات کی کوشش کرے گی۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر مارچ کے شرکا کوئٹہ آتے ہیں تو صوبائی انتظامیہ کا ردعمل کیا ہو گا؟ اس کے جواب میں شاہد رند نے کہا کہ وہ اس پر فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے۔
صوبائی انتظامیہ کی جانب سے مارچ کے شرکا کو کوئٹہ میں داخل ہونے سے روکنے کے خندقیں کھودنے کے متعلق سوال پر شاہد رند نے کہا کہ اس پر بھی کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔