افغانوں کی وطن واپسی میں توسیع نہیں ہوگی: دفتر خارجہ پاکستان 

افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے حوالے سے قیاس آرائیاں جاری تھیں کہ ان کی واپسی کی تاریخ میں دس اپریل تک توسیع ہو گئی ہے۔

ایک افغان پناہ گزین خاندان تین نومبر، 2023 کو پاکستان-افغانستان طورخم سرحد کی جانب جانے والے ٹرک کے اوپر سے ہاتھ ہلا رہا ہے (اے ایف پی)

ترجمان دفتر خارجہ پاکستان نے جمعرات کو انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’غیر قانونی غیر ملکیوں اور افغان سٹیزن کارڈ کے حامل افغان باشندوں کے لیے آخری تاریخ میں کوئی توسیع نہیں کی جائے گی۔‘

افغان سٹیزن کارڈ کے حامل پناہ گزینوں کی رضاکارانہ وطن واپسی کی ڈیڈلائن 31 مارچ یعنی عید کے دن ختم ہو گئی تھی۔

افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے حوالے سے قیاس آرائیاں جاری تھیں کہ ان کی واپسی کی تاریخ میں دس اپریل تک توسیع ہو گئی ہے لیکن یہ تمام قیاس آرائیاں اس وقت ختم ہو گئیں جب ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے اس کے برخلاف حکومت پاکستان کا موقف پیش کیا۔ 

ادھر افغان حکام نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ قانونی دستاویزات رکھنے والے افغان تارکین وطن کو ہراساں نہ کیا جائے۔ کراچی میں طالبان کے قونصل جنرل عبدالجبار تخاری نے سندھ پولیس کے سربراہ غلام نبی میمن سے ملاقات کی جس میں پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کے خدشات پر ت ہوئی۔

اجلاس کے دوران، تخاری نے اس بات پر زور دیا کہ قانونی رہائشی دستاویزات رکھنے والے افغانوں کو پاکستانی پولیس کی طرف سے ہراسانی کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔ کراچی میں طالبان قونصل خانے نے ایکس پر ایک پیغام شیئر کیا جس میں تخاری اور میمن کے درمیان ہونے والی بات چیت کو اجاگر کیا گیا۔ 

اس سے قبل وزارت داخلہ حکام نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’آج سے افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے افغان باشندے بھی غیرقانونی تصور ہوں گے۔ یکم اپریل کو اسلام آباد سے طورخم سرحد پر 90 افغان باشندوں کو ان کے ملک روانہ کیا ہے۔ 77 افغان باشندوں کے پاس سٹیزن کارڈ تھا جبکہ 13 افغان غیر قانونی تھے جن کے پاس کوئی دستاویزات موجود نہیں تھی۔ دو اپریل کو 27 پناہ گزین افغانستان واپس گئے۔ 

میسر سرکاری معلومات کے مطابق پاکستان میں رہنے والے افغان شہریوں کی واپسی کا سلسلہ ستمبر 2023 میں شروع ہوا تھا اور گذشتہ 18 ماہ میں مجموعی طور پر آٹھ لاکھ 86 ہزار 242 پناہ گزین واپس جا چکے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزارت داخلہ کے مطابق ’سٹیزن کارڈ رکھنے والے افغان باشندوں کی باعزت وطن واپسی یقینی بنائی جائے گی۔ ڈیڈلائن ختم  ہونے کے بعد اب افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کو حراست میں لیا جائے گا۔ سٹیزن کارڈ ہولڈر افغان باشندوں کے لیے پشاوراورلنڈی کوتل میں دو عارضی کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ جہاں انہیں عارضی طور پر رکھا جائے گا۔ سٹیزن کارڈ ہولڈرز کو بائیومیٹرک کرنے کے بعد افغانستان واپس بھیجا جائے گا۔‘

افغان پناہ گزینوں کی بےدخلی کو روکنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں متاثرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے رجوع بھی کیا تھا، لیکن اسلام باد ہائی کورٹ نے عید سے قبل ہدایت جاری کی تھی کہ ’حکومت آئین و قانون کے مطابق کارروائی کرے۔‘

اس وقت کتنے افغان پناہ گزین پاکستان میں ہیں؟

پاکستان میں چار قسم کے افغان پناہ گزین رہائش پذیر ہیں، ایک وہ ہیں جن کے پاس دستاویزات نہیں ہیں ان کی بڑی تعداد کو پہلے ہی بےدخل کیا جا چکا ہے۔ دوسرے اے سی سی کارڈ ہولڈر ہیں، ان کی تعداد نو لاکھ ہے۔ پی او آر یعنی وہ افغان جن کے پاس پروف آف رجسٹریشن ہے ان کی تعداد 14 لاکھ ہے۔ ای سی سی اور غیر قانونی افغان پناہ گزینوں کی واپسی کی ڈیڈ لائن 31 مارچ تھی۔ جبکہ نادرا پی او آر رکھنے والوں کے لیے رضاکارانہ واپسی کی تاریخ 30 جون ہے۔

چوتھی وہ قسم ہے جو افغان شہری امریکہ اور یورپ جانے کے لیے ویزے کا عمل مکمل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ افغان طالبان کی کابل واپسی کے بعد یہ لوگ پاکستان آئے تھے، اور متعلقہ سفارت خانوں نے ان کے عارضی قیام کے لیے حکومت پاکستان سے بات کر رکھی ہے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان