اٹک کے تیل کی حیرت انگیز کہانی

برصغیر میں سب سے پہلے تیل اٹک میں 1866 میں دریافت ہوا جو صرف 15 فٹ کھدائی کے بعد نکل آیا تھا۔

1922 میں مورگاہ راولپنڈی میں لگنے والی آئل ریفائنری جس کی صلاحیت 2500 بیرل یومیہ تھی ،یہ پورے خطے بشمول مشرق وسطیٰ میں بننے والی واحد ریفائنری تھی ،اسے اب اٹک ریفائنری کے ورثہ میوزیم میں محفوظ کر دیا گیا ہے (سجاد اظہر)

دنیا میں ٹیکنالوجی کی چکا چوند جس توانائی کے بل بوتے پر ہے آج بھی اس کا 80 فیصد تیل و گیس کا مرہونِ منت ہے۔

انسان تقریباً 5000 سال سے مٹی کا تیل استعمال کرتا آ رہا ہے۔ بابل کی تہذیب کے لوگ اپنی کشتیوں کو پانی سے محفوظ بنانے کے لیے مٹی کے تیل کا استعمال کرتے تھے۔ قدیم مصری ممیوں کی تیاری میں جو مواد استعمال کرتے تھے ان میں مٹی کا تیل بھی شامل تھا۔

چینی چھٹی صدی قبل مسیح میں بانس کے بنے پائپوں میں مٹی کا تیل فلپائن برآمد کرتے تھے۔ مارکو پولو نے 13ویں صدی عیسوی میں باکو آذربائیجان میں مٹی کے تیل کی موجودگی کا ذکر کیا ہے۔

تاہم یہ 19ویں صدی کے وسط کی بات ہے جب تیل کا پہلا تجارتی کنواں پنسلوینیا امریکہ میں کھودا گیا تھا۔

1885 میں ایک جرمن انجینیئر کارل بینز نے دنیا کی پہلی موٹر کار بنائی تو اس کو چلانے کے لیے بھی مٹی کا تیل استعمال کیا گیا۔ آج دنیا کا 60 فیصد تیل خلیجی ممالک سے نکلتا ہے جس کی اوّلین دریافت 1908 میں ایران میں ہوئی تھی۔

تاہم یہ بات حیران کن ہے کہ خلیجی ممالک سے بہت پہلے 1866 میں ضلع اٹک میں کھوڑ کے مقام پر تیل کی دریافت ہو چکی تھی اور پھر برطانوی عہد میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب کھوڑ اور اس کے نواحی علاقوں میں تیل کے 400 سے زائد کنویں کام کر رہے تھے جن سے تیل کی سالانہ پیداوار چار لاکھ 80 ہزار بیرل تک پہنچ گئی تھی۔

ہندوستان میں تیل کی اوّلین دریافت اٹک میں ہوئی

قدیم دور میں زمین کے نیچے معدنیات تلاش کرنے کی ٹیکنالوجی نہیں تھی۔

عموماً تیل کے ابتدائی کنویں اس وقت دریافت ہوتے تھے جب مقامی لوگ پانی کے لیے کنویں کھودتے تھے تو ان میں پانی کی جگہ تیل نکل آتا تھا یا پھر بعض جگہوں پر تیل چشموں کی صورت بہتا تھا۔

کھوڑ میں تیل کی دریافت بھی پانی کا کنواں کھودتے ہوئے ہوئی تھی۔ مقامی لوگ اس کو کالا پانی کہتے تھے جسے وہ آگ جلانے یا پھر لالٹینوں میں استعمال کرتے تھے۔

ضلع اٹک کی عوامی تاریخ کے ماہر ہادی صاحب نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ تکنیکی اعتبار سے برطانوی ہند میں تیل کا پہلا کنواں 1887 میں آسام میں کھودا گیا تھا لیکن اس سے بہت پہلے کی بات ہے جب پبلک ورکس کے ایک برطانوی انجینیئر مسٹر فینر نے ضلع اٹک کی تحصیل پنڈی گھیب میں تیل کی تلا ش کے لیے 1866 میں سات آزمائشی کنویں کھودے تھے جن میں سے تین میں صرف 15 فٹ کی گہرائی میں تیل نکل آیا تھا۔

1869 میں ان کی گہرائی میں 35 فٹ تک اضافہ کیا گیا تو تیل کی یومیہ پیداوار 25 اور پھر 50 گیلن تک چلی گئی۔

مسٹر فینر کی دیکھا دیکھی ایک اور انگریز مسٹر لے مین نے بھی راولپنڈی اور اٹک کے علاقوں میں تیل کی تلا ش کا کام شروع کر دیا تھا۔

ٹراؤٹ مچھلی کا تاجر جو اٹک آئل کمپنی کے بانی بنے

سکاٹش تاجر فرینک مچل جنوبی افریقہ میں سونے کی کانوں میں سرمایہ کاری کرتے تھے کہ ایک روز ان کی تمام دولت ڈوب گئی اور وہ پائی پائی کے محتاج ہو گئے۔ ان کے بھائی کشمیر میں قالینوں کی تجارت کرتے تھے فرینک مچل نے سوچا کہ کیوں نہ ہندوستان جا کر قسمت آزمائی کی جائے۔

ہادی صاحب بتاتے ہیں کہ فرینک مچل کشمیر آیا تو اسے خیال آیا کہ کشمیر کے پانی ٹراؤٹ مچھلی کی افزائش کے لیے بہت موزوں ہیں کیوں ناں یہاں ٹراؤٹ مچھلی کی فارمنگ کی جائے۔

وہ واپس برطانیہ گیا اور ٹراؤٹ مچھلی کا بیضہ لے کر کشمیر آ گیا۔ جلد ہی مچل کی کوششوں سے کشمیر کے پانیوں میں ٹراؤٹ کی فراوانی ہو گئی۔ کشمیر کا مہاراجہ مچل کے کام سے اتنا خوش ہوا کہ اسے کشمیر میں فشنگ کا اعزازی ڈائریکٹر مقرر کر دیا۔

کشمیر کے ساتھ ساتھ اس نے پوٹھوہار میں زیتون کی کاشت کا بھی تجربہ کیا۔ اس مقصد کے لیے جب وہ پنڈی گھیب آیا تو مقامی افراد نے اسے تیل کی کنوؤں کے بارے میں بتایا۔

فرینک مچل نے تیل کی تصدیق کے لیے ایک ماہر جیالوجسٹ کی خدمات حاصل کیں جس کی جانب سے یقین دہانی حاصل کرنے کے بعد وہ واپس برطانیہ گیا اور اپنے دوستوں سے درخواست کی کہ اسے تیل کی کمپنی بنانے میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

25 ہزار پاؤنڈ کی ابتدائی رقم سے اس نے یکم دسمبر 1913 میں مانچسٹر میں اٹک آئل کمپنی کی بنیاد رکھی۔

1904 میں اٹک ضلع بنایا گیا تھا جس کا نام 1908 میں اٹک سے کیمبل پور کر دیا گیا مگر فرینک مچل نے اپنی کمپنی کا نام اٹک ہی رکھا۔

ابتدائی طور پر اس کمپنی نے پنڈی گھیب میں سات مربع میل کے علاقے کا لائسنس حاصل کیا تو کھوڑ کے مقام پر اسے کامیابی مل گئی۔

صرف دو سالوں کے اندر1915 تک اٹک آئل کمپنی کھوڑ میں تیل کے وسیع ذخائر دریافت کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

1918 میں کھوڑ کے قریب ڈھلیاں میں بھی تیل نکل آیا۔ یہ وہی فرینک مچلز ہیں جنہوں نے 1920 میں پنجاب میں مچلز فروٹ فارمز کمپنی کی بنیاد رکھی جس کے لیے پنجاب حکومت نے انہیں رینالہ خورد میں 720 ایکڑ زمین الاٹ کی تھی۔

فرینک مچل 1933 میں80 سال کی عمر میں بارہمولا میں انتقال کر گئے جن کی تدفین وہیں کی گئی۔

کھوڑ تیل کی تلاش کا مرکز کیسے بنا؟

اٹک آئل کمپنی کا نیوز لیٹر جو 1963 میں کمپنی کی گولڈن جوبلی کے موقع پر نکالا گیا تھا اس میں کمپنی کی مفصل تاریخ بیان کی گئی ہے۔

1887 سے 1890 کے درمیان ٹاونسینڈ نامی بھائیوں نے بولان کی سب تحصیل ختن، میانوالی کے علاقوں کنڈل اور جبہ اور ضلع اٹک کے علاقے چراٹ میں تیل کی کنویں کھودے تھے جن میں سے ایک کی گہرائی 750 فٹ تک تھی۔

ختن کے کنویں سے نکلنے والا تیل کوئٹہ ریلوے سٹیشن میں کام آتا رہا جبہ اور چراٹ سے راولپنڈی گیس کمپنی کا تیل بھی 25 سال تک استعمال میں رہا لیکن پھر ٹاؤنسینڈ نامی بھائی اور ان کی کمپنی منظر سے غائب ہو گئے لیکن انہوں نے خطے میں تیل کی موجودگی ثابت کر دی تھی۔

ان ہی ایام میں جب آسام میں تیل نکلا تو پنجاب کے گورنر سر لوئس ڈبلیو ڈینی نے پنجاب میں بھی تیل کی تلاش پر توجہ مرکوز کی تو ان کی نظر برما میں تیل کھوجنے والی کمپنی سٹیل برادرز اینڈ کمپنی پر پڑی مگر بات آگے نہ بڑھ سکی جس کے بعد یہ کام مسٹر فرینک مچل کو سونپا گیا جنہوں نے کرنل میسی کے ساتھ مل کر اٹک آئل کمپنی کی بنیاد رکھی جس کو سٹیلز برادرز نے معاونت کی یقین دہانی کرائی۔

ایک جیالوجسٹ مسٹر ای ایس پنفولڈ جو کمپنی کے ابتدائی بورڈ کے رکن تھے اور پھر 1930 سے 1943 تک کمپنی کے چیئرمین بھی رہے انہوں نے اٹک میں تیل کی تلاش کا کام کیا۔

اس دور میں یہاں کوئی سڑک نہیں تھی گھوڑوں اور اونٹوں پر ہی کمپنی کے اہلکار سفر کرتے تھے۔ کمپنی نے تیل کی تلاش کی تمام تر توجہ کھوڑ میں مرکوز کر دی۔ انڈو برما پیٹرولیم کمپنی لمیٹڈ کے پاس کنویں کھودنے کے صرف دو ڈرلزر تھے جو امریکہ میں مصروف تھے مگر کمپنی نے ان دونوں کو منگوا کر انہیں کھوڑ منتقل کر دیا کیونکہ یہاں کامیابی کے زیادہ امکانات تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

22 جنوری 1915 کو کھدائی شروع کی گئی اور 223 فٹ کی گہرائی میں تیل نکل آیا جس میں سے یومیہ 5000 بیرل تیل کی پیداوار شروع ہو گئی۔

کھوڑ میں تیل کا یہ کنواں کامیابی اور ناکامی کی ایک ملی جلی داستان تھی۔ گو کہ یہ تھوڑے عرصے ہی چل کر بند ہو گیا مگر اس سے مزید کنویں کھودنے کی راہ ہموار ہو گئی اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب یہاں پر کنووں کی تعداد 400 سے تجاوز کر گئی اور بڑی بڑی کمپنیوں نے کھوڑ کا رخ کر لیا۔

برما آئل کمپنی اور وائٹ ہال پیٹرولیم کارپوریشن نے بھی کھوڑ سے 30 میل دور تیل کی تلاش اور کھدائی کا کام شروع کر دیا۔

اٹک آئل کمپنی نے ڈھلیاں کے مقام پر تیل کا ایک اور کنواں کھودنا شروع کیا۔ 1929 میں کھوڑ میں موجود کنووں کی سالانہ پیداوار چار لاکھ 80 ہزار بیرل تک پہنچ گئی جو 1934 میں کم ہو کر 85 ہزار بیرل رہ گئی کمپنی نے مزید علاقوں میں تیل کی تلا ش کا کام کیا مگر خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی۔

کمپنی کو ڈھلیاں میں آئل کے کنویں میں 1937 میں عین اس روز کامیابی ملی جب بادشاہ جارج ششم کی تاج پوشی کی گئی تھی اس لیے اسے خوش قسمت تصور کیا گیا۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد پنجاب حکومت نے کمپنی کو تیل کی تلاش و کھدائی کے کام میں مالی مد دکی جس کی وجہ سے اٹک میں میال اور اچھڑی میں تیل کی کنویں کھودے گئے جو ناکام رہے حالانکہ میال میں کنویں نمبر دو میں قومی سطح پر گہرائی کے ریکارڈ کو توڑتے ہوئے 10ساڑھے ہزار فٹ تک کھدائی کی گئی۔

1944 میں بلکسر کے نزدیک جویا میر میں چھ ہزار 900 فٹ کی گہرائی پر تیل دریافت ہوا، جو معیار کے لحاظ سے پوٹھوہار میں پہلے دریافت شدہ تیل سے اس لحاظ سے مختلف تھا کہ یہ سیاہ اور انتہائی گاڑھا تھا جس میں آگ پکڑنے کا مادہ زیادہ تھا۔

زیادہ سردی میں یہ تیل جم جاتا تھاجس کی وجہ سے پمپنگ، نقل و حمل اور ریفائننگ کے نئے مسائل پیدا ہوگئے۔

اس کنویں سے تیل کی ابتدائی پیداواری شرح 10 ہزار بیرل یومیہ تھی اور یہ اتنی بڑی کامیابی تھی کہ جب اس کی دریافت کی اطلاع برطانوی ڈرلر نے فیلڈ ایجنٹ کو دی جو برمی زبان جانتا تھا تو اس نے یہ کہہ کر رد کر دی کہ کہیں اس کی بھنک دشمن ملکوں کو نہ ہو جائے اور کہا کہ ڈرلر گنتی کرنا بھول گیا ہے!

اسی کنویں کےگاڑھے تیل کی وجہ سے وہ تار کول بنائی گئی سے جس سے قیام پاکستان کے بعد ہزاروں میل سڑکیں تعمیر ہوئیں۔

1960 میں بلکسر سے ڈھلیاں اور پھر راولپنڈی ریفائنری تک ایک دوسری پائپ لائن بچھائی گئی جو بھاری تیل کی ترسیل کر سکتی تھی۔

اٹک آئل ریفائنری ریجن میں قائم ہونے والی پہلی ریفائنری

اٹک آئل ریفائنری کے چیف ایگزیکٹو عادل خٹک، جو اٹک گروپ کے ساتھ گذشتہ 47 سال سے وابستہ ہیں انہوں نے انڈیپنڈنٹ اردو کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ 1922 میں جب یہ ریفائنری قائم ہوئی تو اس وقت یہ اس پورے ریجن میں واحد ریفائنری تھی تب خلیجی ممالک میں کوئی ریفائنری قائم نہیں ہوئی تھی۔

پہلی جنگ عظیم جنگ کے خاتمے کے بعد اٹک آئل کمپنی نے راولپنڈی میں مورگاہ کے مقام پر 25 ہزار پاؤنڈ کے ابتدائی سرمائے سے ریفائنری لگانے کی منصوبہ بندی شروع کر دی جلد ہی ا س نے 15 لاکھ پاؤنڈ کی مزید رقم اکٹھی کی اور مارچ 1922 میں یہ ریفائنری قائم ہو گئی۔

اٹک آئل ریفائنری کو اس مقام تک پہنچانے میں میک کریتھ کا نام بھی نمایاں ہے جنہوں نے انڈو برما پیٹرولیم کے جانے کے بعد 1926 میں بطور جنرل منیجر اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔

وہ 1961 میں اپنی وفات تک کمپنی کے ڈائریکٹر اور پھر چیئرمین بھی رہے۔ سول لائنز میں جہاں آج انکم ٹیکس کے دفاتر ہیں وہاں میک کریتھ کا بنگلہ تھا اوروہ روزانہ اپنے گھوڑے پر مورگاہ آتے تھے۔

میک کریتھ ہی راولپنڈی کلب کے پہلے غیر فوجی صدر تھے۔ مورگاہ ریفائنری جب بنی تھی تو ا س کی تیل صاف کرنے کی صلاحیت 2500 بیرل یومیہ تھی ۔ جب تیل یہاں دریافت ہوا تو ا س وقت اس علاقے میں ڈیزل پیٹرول کی کوئی کھپت نہیں تھی صرف کیروسین آئل کی ڈیمانڈ تھی۔

اس زمانے میں جو اکا دکا ٹرک یا بس تھی وہ بھی کیرو سین پر چلتے تھے یہاں تک کہ پنکھے بھی کیرو سین پر چلتے تھے۔ جب کھوڑ سے تیل نکلا تو اس کو کیرو سین میں بدلنے کا طریقہ کار سادہ سا ہوتا ہے۔

1922 میں جب یہ ریفائنری بنی تو یہ پورے ریجن میں واحد ریفائنری تھی۔ ریفائنری کا پہلا یونٹ ہم نے میوزیم میں رکھا ہوا ہے۔ بعد میں کئی بار ریفائنری کی توسیع ہوئی۔ کچھ یونٹ 1938 میں لگے، 1980 میں بڑی توسیع ہوئی پھر 2000 میں ہوئی اب یہ اپنی نوعیت کی جدید ترین ریفائنری ہے جو پاکستان کے پورے شمالی علاقے کے تیل کی ضروریات پوری کرتی ہے۔

1979 میں اٹک آئل کمپنی کے اکثریتی شیئرز ایک عربی کاروباری خاندان نے خرید لیے۔ اٹک آئل کمپنی کے نیچے پھر کئی ذیلی کمپنیاں ہیں جن میں سے اٹک ریفائنری، پاکستان آئل فیلڈز، نیشنل ریفائنری، اٹک پیٹرولیم لمیٹڈ، اٹک سیمنٹ، اٹک جنریشن لمیٹڈ وغیرہ شامل ہیں۔

کمپنی کا ہیڈ آفس انگلینڈ میں ہے مگر اس کی تمام تر انتظامیہ پاکستانی ہے۔ 1970 میں انگریز انتظامیہ کے جانے کے بعد ٹی اے ٹی لودھی ا س کے پہلے سربراہ بنائے گئے جو ملیحہ لودھی کے والد تھے۔

اس کمپنی کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ملازمین کی چوتھی نسل کام کر رہی ہے اس لیے اس کمپنی کے ساتھ ملازمین کی خاص لگن ہے جو اسے باقی کمپنیوں سے ممتاز بناتی ہے۔

اٹک آئل کمپنی میں کام کے تجربے کی وجہ سے یہاں کے ملازمین کو بڑے پیمانے پر مشرق وسطیٰ میں ملازمتیں ملیں جس سے نہ صرف ان لوگوں کا اپنا معیار زندگی بلند ہوا بلکہ ملک کو قیمتی زرمبادلہ بھی ملا۔

ورثہ میوزیم جو پاکستان میں تیل کی تلاش کا گواہ ہے

عادل خٹک نے بتایا کہ کھوڑ میں 1915 میں کمپنی نے تیل کا جو پہلا کنواں کھودا تھا اس سے اب تیل نہیں نکلتا لیکن اسے قومی ورثے کا درجہ دے دیا گیا ہے۔

کھوڑ میں بھی کمپنی کا میوزیم قائم ہے جبکہ مورگاہ میں بھی ریفائنری سے منسلک بہت سے آلات کو ورثہ قرار دے کر انہیں محفوظ کر دیا گیا ہے جس میں کھوڑ میں 10 کلوواٹ کا لگایا گیا پاور جنریشن سسٹم بھی ہے جسے برطانیہ کے ایک گاؤں سے لا کر یہاں لگایا گیا تھا جسے جب کھوڑ شفٹ کیا جا رہا تھا تو راستہ کچا تھا اس لیے جس ٹرک میں اسے لایا جا رہا تھا وہ راستے میں الٹ گیا تھا۔

تیل سے موم بتیاں بنانے کی مشین بھی میوزیم میں موجود ہے۔ ریلوے لائن کے ذریعے چونکہ تیل کی ترسیل ہوتی تھی اس لیے راولپنڈی ریلوے سٹیشن کو ریفائنری سے لائن بچھا کر منسلک کیا گیا تھا۔

اس مال گاڑی کا ایک حصہ بھی میوزیم میں موجود ہے۔ میوزیم میں 1922 میں لگائی جانے والی ریفائنری کو بھی مکمل طور پر محفوظ کر لیا گیا ہے جبکہ کمپنی کی سرگرمیوں کی تصاویر بھی میوزیم میں آویزاں کی گئی ہیں۔

یہ میوزیم دراصل پاکستان میں تیل کی تلاش اور کھدائی کی پوری ایک صدی کی کہانی بیان کرتا ہے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ