امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متعدد ممالک پر تجارتی محصولات عائد کرنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈیوں میں شدید مندی دیکھنے میں آئی، تاہم پاکستان سٹاک ایکسچینج نے عالمی منڈیوں کے مقابلے میں مثبت رجحان برقرار رکھا۔
جمعرات کے روز پاکستان سٹاک ایکسچینج 118,938 پوائنٹس کی بلند سطح پر بند ہوا، جو گذشتہ کاروباری دن کے مقابلے میں تقریباً 1 فیصد اضافہ ہے۔
اس کے برعکس وال سٹریٹ کی پیروی کرتے ہوئے دنیا بھر کی منڈیوں میں شدید گراوٹ دیکھی گئی۔ اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ کے فیصلے کے بعد امریکہ، یورپ اور ایشیا کی منڈیوں میں شدید مندی کی لہر دوڑ گئی۔
بے چینی کی صورت حال پر وائٹ ہاؤس نے اصرار کیا کہ امریکی معیشت فاتح بن کر ابھرے گی۔
ایس اینڈ پی 500 میں 4.8 فیصد کی کمی واقع ہوئی جو 2020 کے بعد سب سے بڑی کمی ہے۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں پر مبنی نیس ڈیک میں چھ فیصد اور ڈاؤ جونز میں چار فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ جمعہ کے ابتدائی کاروبار میں ٹوکیو کا اہم نیکے 225 انڈیکس 1.8 فیصد گر گیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ٹرمپ نے مختلف ممالک پر 10 فیصد درآمدی ڈیوٹی اور درجنوں مخصوص ممالک بشمول چین اور یورپی یونین جیسے بڑے تجارتی شراکت داروں سے درآمدات پر کہیں زیادہ ٹیکس عائد کیا۔
ٹرمپ نے مارکیٹس میں اس ہلچل کو مسترد کرتے ہوئے رپورٹرز کو بتایا کہ سٹاک پرھر اوپر جائیں گے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کو غیر ملکی مینوفیکچررز پر انحصار سے آزادی دلانا چاہتے ہیں۔ اس بڑی معاشی تبدیلی کو انہوں نے طبی عمل سے تشبیہ دی۔
78 سالہ صدر نے مارکیٹ کے ردعمل کے بارے میں کہا، ’یہی توقع تھی۔ مریض بہت بیمار تھا۔ معیشت میں بہت سے مسائل تھے۔ یہ ایک آپریشن سے گزرا ہے۔ یہ ایک بھڑتی معیشت ہوگی۔‘
ٹرمپ کے ان اقدامات پر چین نے مطالبہ کیا ہے کہ محصولات کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور ساتھ ساتھ جوابی اقدامات کا عہد بھی کیا جبکہ فرانس اور جرمنی نے خبردار کیا کہ یورپی یونین امریکی ٹیک کمپنیوں پر جوابی کارروائی کر سکتی ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں نے امریکہ میں سرمایہ کاری معطل کرنے کا مطالبہ کیا جب تک کہ ان کے بقول ’وحشیانہ‘ نئے محصولات کو ’واضح‘ نہیں کیا جاتا۔
آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے کہا کہ محصولات ’واضح طور پر عالمی معاشی اشاریوں کے لیے ایک اہم خطرہ ہیں۔‘
انہوں نے واشنگٹن اور اس کے تجارتی شراکت داروں سے اپیل کی کہ وہ کشیدگی کو حل کرنے اور غیر یقینی کی صورت حال کو کم کرنے کے لیے ’تعمیری‘ طور پر کام کریں۔
غیر یقینی کی فضا کے باعث محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جانے والا سونا نئی ریکارڈ قیمت پر پہنچ گیا ہے جبکہ تیل کی قیمت میں کمی اور ڈالر کی دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں گراوٹ بھی دیکھنے میں آئی ہے۔