کراچی کے تاجروں کے مطابق رواں سال رمضان المبارک کے دوران اشیا خوردنی اور الیکٹرانک اشیا میں 20 سے 30 فیصد اضافہ ہوا تاہم عید شاپنگ کی اشیا میں واضح کمی دیکھی گئی۔
کراچی کے تجارتی اداروں اور دکانداروں کی یونینز کی نمائندگی کرنے والے ’آل کراچی تاجر اتحاد‘ کے چیئرمین اور تاجر رہنما عتیق میر کے مطابق خاص طور پر عید کی شاپنگ والی اشیا میں رواں سال ’50 فیصد سے زائد‘ کمی دیکھی گئی۔
انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے عتیق میر نے کہا کہ کراچی کے صدر، طارق روڈ، کلفٹن، گلستان جوہر، سولڈ سٹی، جوبلی سمیت 15 سے 20 ایسے علاقے ہیں، جہاں مختلف مذہبی تہواروں جیسے کہ عید الفطر، عید الاضحیٰ، کرسمس، دیوالی وغیرہ کی شاپنگ کی جاتی ہے۔
بقول عتیق میر: ’ان 15 سے 20 علاقوں میں موجود 200 سے زائد مارکیٹس میں واقع 40 ہزار دکانوں پر عام دنوں میں بھی شاپنگ ہوتی ہے۔ مگر یہ دکانیں تہواروں کی شاپنگ کا مرکز سمجھی جاتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہاں ہاں کپڑے، جوتے، مصنوعی زیورات، چوڑیاں، مہندی، پرس اور زیبائش کی دیگر چیزیں بیچی جاتی ہیں۔
’کراچی میں 2013 سے قبل امن و امان کی صورت حال خراب تھی۔ قتل و غارت اور ہڑتالیں عام تھیں۔ 2013 میں رینجزر اور پولیس کی جانب سے امن کے قیام کے لیے آپریشن کے بعد شہر کی صورت حال بہتر ہوئی۔
’شہر کی بہتر صورت حال کے باعث کراچی میں عید شاپنگ کے لیے مشہور ان 200 مارکٹس میں 70 ارب روپے کی اشیا فروخت ہوئیں۔ مگر اس سال صرف 15 ارب روپے کا سامان فروخت ہوا ہے۔
’ان مارکیٹس کے 40 ہزار دکان داروں نے تقریباً 40 ارب کا سامان عید شاپنگ کے لیے سٹاک کیا تھا۔ مگر اس میں 50 فیصد سے کم سامان فروخت نہیں ہوسکا۔ جس کے باعث تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔‘
عتیق میر نے عید شاپنگ میں کمی کے اسباب پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روزمرہ کی دیگر اشیا کی قیمت میں اضافے کے ساتھ تہواروں پر زیبائش کے اشیا کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ دیکھا گیا، اس لیے لوگوں میں ان اشیا کی قوت خرید کم ہوتی جا رہی۔‘
دوسری جانب موبائل فونز اور الیکٹرانک اشیا کی فروخت میں گذشتہ سالوں کی نسبت بہتری دیکھی گئی ہے۔
کراچی الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر رضوان عرفان کے مطابق رمضان اور عید کی شاپنگ میں اس سال گذشتہ سال کی نسبت 20 سے 25 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے رضوان عرفان نے کہا: ’اس سال رمضان المبارک اور عید الفطر کے لیے کی گئی شاپنگ میں اضافہ دیکھا گیا۔ نہ صرف موبائل فونز بلکہ عام گھریلو الیکٹرانک کی اشیا بشمول ٹیلی وژن سیٹ، فریج، استری، ڈسپینسر اور دیگر اشیا میں 20 سے 25 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔‘
الیکٹرانک اشیا کی فروخت میں اضافے کے اسباب پر بات کرتے ہوئے رضوان عرفان نے کہا: ’کچھ وقت پہلے تک مارکیٹ میں موجود غیر یقینی کی صورت حال میں بہتری آئی ہے۔
’اس کے علاوہ امن و امان بھی بہتر ہوا ہے۔ کچھ وقت پہلے جو الیکٹرانک کی اشیا کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ دیکھا گیا تھا اب وہ نارمل ہو گیا ہے۔ اس وجہ سے لوگ اب الیکٹرانک کی اشیا کی خریداری میں دلچسپی لے رہے ہیں۔‘
اس طرح رواں سال اشیا خوردنی کی فروخت میں بھی 20 سے 30 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے ہول سیل گروسری ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالرؤف ابراہیم نے بتایا: ’عام دنوں کی نسبت رمضان کے آغاز سے ہی روزمرہ میں استعمال ہونے والی اشیا خوردنی اضافہ ہوتا ہے، مگر اس سال ان اشیا کی فوخت میں 20 سے 30 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
’دیگر خوردنی اشیا کے ساتھ اس سال رمضان کے مہینے کے آغاز سے دالوں، چاول، چینی اور خردنی تیل کی فروخت میں اضافہ دیکھا گیا۔
'ویسے تو ہر سال رمضان میں ان اشیا کی فروخت میں اضافہ ہوتا ہے کیوں کہ لوگ غریبوں میں باٹنے کے لیے راشن پیک بنواتے ہیں، اس کے علاوہ عام گھروں میں سحر و افطار کے لیے بھی سامان لیتے ہیں۔ اور لوگ عوامی مقامات پر سحر و افطار کے لیے بھی زیادہ سامان لیتے ہیں۔
’مگر گذشتہ سال کی نسبت اس سال فروخت میں اضافہ دیکھا گیا۔ مثال کے طور پر عام دنوں میں خوردنی تیل تین لاکھ 60 ہزار ٹن ماہوار فروخت ہوتا ہے، مگر رمضان کے دوران تیل کی فروخت میں 20 فیصد اضافہ ہوا۔
’اسی طرح عام دنوں میں چینی ساڑھے پانچ لاکھ میٹرک ٹن ہوتی ہے مگر اس رمضان میں یہ فروخت 10 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئی۔‘
کراچی کے علاقے گلشن اقبال کے رہائشی محمد عثمان اس سال عید الفطر پر اپنے اور اپنے بچوں کے لیے نئے کپڑے نہیں خرید سکے۔
38 سالہ محمد عثمان نے شاہراہ فیصل پر واقع ایک سافٹ ویئر کمپنی میں چھ سال تک ملازمت کی۔ گذشتہ سال کمپنی نے یہ بول کر کئی ملازموں کو نوکری سے نکال دیا کہ ’پاکستان میں انٹرنیٹ پر پابندیوں کے باعث کمپنی کو مختلف ممالک سے کام ملنا بند ہو گیا ہے۔‘
چار بچوں کے والد محمد عثمان گذشتہ ایک سال سے بائیکیا چلا کر اپنے خاندان کی کفالت کرتے ہیں۔
محمد عثمان کے مطابق: ’12 سے 14 گھنٹے کام کرنے کے بعد 1500 سے دو ہزار روپے کماتا ہوں۔ میری والدہ بھی ساتھ رہتی ہیں۔ اس وقت کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں بہت بڑھ گئی ہیں۔ بجلی کی قیمت بھی ڈبل ہو گئی ہے۔ گھر کا کرایہ، بلوں اور بچوں کے سکول کی فیس اور کھانے پینے کی اشیا کی خریداری کے بعد کچھ نہیں بچتا۔
’ایسے میں عید پر یک مشت تمام گھر والوں کے نئے کپڑے، جوتے اور دیگر اشیا لینا ناممکن ہوگیا ہے۔ ہم نے عید پر خریداری کرنا چاہی مگر کپڑوں کی قیمت بہت مہنگی تھی۔ اس لیے اس سال عید پر نئے کپڑے نہیں خرید سکے۔‘
کراچی میں عید شاپنگ کی مقبول ترین مارکٹیس میں سے ایک زینب مارکیٹ میں چھوٹے بچوں کے کپڑے، پینٹ شرٹ کی دکان چلانے والے محمد رمضان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس سال ان کی دکان پر توقع سے کم اشیا فروخت ہوئیں۔
محمد رمضان کے مطابق: ’گذشتہ چند سالوں کے کپڑوں، خاص طور پر تہوار پر پہننے والے فینسی کپڑوں کی قیمت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ اس لیے عید پر اگر کسی کو دو جوڑے خریدنے تھے تو انہوں نے ایک جوڑا خریدا۔
’عید سے چند روز قبل تک شہر کی مارکیٹس میں بہت رش دیکھا گیا، مگر ان میں لوگوں نے 'ونڈو شاپنگ' زیادہ کی اور خریداری کم کی۔‘