عمران خان سے عدالتی حکم کے مطابق عید کے تیسرے روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور اور مشیر بیرسٹر سیف کی ملاقات کے بعد اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کے بارے میں متضاد خبریں گردش میں ہیں۔
اڈیالہ جیل میں ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ گنڈاپور نے کہا تھا کہ ’عمران خان نے ملکی بھلائی کے لیے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ دوبارہ رابطے قائم کرنے‘ کے بارے میں کہا ہے۔
پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ابھی کل ہی ملاقات ہوئی ہے اور معاملات بالکل ابتدائی سٹیج پر ہیں۔ آئندہ منگل کو میری بھی عمران خان سے ملاقات ہے اس کے بعد ہی تفصیل بتا سکوں گا کہ خان صاحب کیا چاہتے ہیں۔‘
جب ان سے سوال کیا گیا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بیک ڈور مذاکرات کی خبروں کے بعد سوشل میڈیا پر حامیوں کی جانب سے سخت ردِعمل دیکھنے کو مل رہا ہے تو انہوں نے کہا کہ ’جب خان صاحب واضح ہدایت دیں گے تو سوشل میڈیا پھر وہی کرے گا جو خان صاحب کہیں گے۔‘
پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز نے جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو میں مذاکرات سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ ’بانی پی ٹی آئی کی جانب سے کسی کو اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا ٹاسک دینے کا علم نہیں ہے چونکہ میری چھ ماہ سے ملاقات نہیں ہوئی تو جب تک خان صاحب سے اس بات کا علم نہیں ہو گا کسی قیاس آرائی پر موقف نہیں دے سکتا۔‘
حماد اظہر کے استعفی پر انہوں نے کہا کہ ’حماد اظہر پڑھے لکھے رہنما ہیں، ان کی جانب سے استعفی پر افسوس ہوا ہے۔‘
حکومت سے مذاکرات کب شروع ہوئے؟
پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا پہلا سلسلہ گذشتہ برس دسمبر میں شروع ہوا، دو جنوری کو دوسرا مرحلہ اور جنوری کے تیسرے ہفتے میں تیسرے دور کے مذاکرات کے بعد بات چیت بند گلی میں داخل ہو گئی اور مذاکرات کا سلسلہ رک گیا۔
لیکن حالیہ ملاقات میں مذاکرات بحالی پر قیاس آرائیاں شروع ہو چکی ہیں۔ تاہم ترجمان تحریک انصاف نے بظاہر اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی تردید کی ہے لیکن دیگر پارٹی رہنما تائید کر رہے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پارٹی رہنماؤں سے عمران خان کی ملاقات
بدھ کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی عمران خان سےاڈیالہ جیل کے کانفرنس روم میں ملاقات کروائی گئی۔ جیل ذرائع کے مطابق عمران خان اورعلی امین گنڈاپور کے درمیان ملاقات ڈھائی گھنٹے سے زیادہ دیر چلتی رہی۔
اس سے قبل علی امین گنڈاپور کی ملاقات عمران خان سے 13 فروری کو جیل میں ہوئی تھی جس کے بعد مزید ملاقات کی اجازت نہیں ملی تو اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر کے ہفتہ وار ملاقاتوں کا سلسلہ بحال کرایا گیا۔
چونکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان سے ملاقاتوں کی مشروط اجازت دی تھی اور حکم دیا تھا کہ پارٹی رہنما جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد باہر میڈیا ٹاک نہیں کریں گے اس لیے علی امین گنڈاپور اور بیرسٹر سیف ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کیے بغیر روانہ ہو گئے۔
پی ٹی آئی ترجمانوں کی جانب سے مذاکرات کی تردید
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کے حوالے سے کسی کو بھی کوئی نیا ٹاسک نہیں دیا اور اسٹیبلشمنٹ میڈیا ذرائع کے نام پر سے مذاکرات شروع کرنے کی خبریں چلا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ اپنی رہائی اور ذاتی فائدے کے لیے اسٹیبلشمنٹ سمیت کسی سے بات چیت نہیں کریں گے۔
پی ٹی آئی کے ترجمان شیخ وقاص اکرم نے بھی ایک بیان میں مذاکرات کی تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ واضح رہے کہ بدھ کو ملاقات میں نہ کوئی خان صاحب کو مذاکرات کے لیے قائل کرنے گیا تھا اور نہ خان صاحب نے اسٹیبلشمنٹ سے گفتگو کرنے کے لیے کسی کو کوئی خصوصی ٹاسک دیا ہے یا کوئی کام ذمے لگایا ہے۔
وزیر اعلیٰ سے خان صاحب کی خیبر پختونخوا کی حکومت کے معاملات پر بات چیت ہوئی پارٹی کے موجودہ معاملات پر بات چیت ہوئی اور اس حوالے سے عمران خان صاحب نے وزیراعلی کو ہدایات بھی جاری کیں۔ جنرل ڈسکشن کے ساتھ ساتھ موجودہ سیاسی صورت حال، معروضی حالات، حکومتی معاملات، افغانستان اور ملک میں جاری دہشت گردی کی لہر پہ بنیادی طور پہ بات ہوئی ہے۔‘
پی ٹی آئی کے مذاکرات کے لیے مطالبات کیا تھے؟
تحریک انصاف نے حکومت سے مذاکرات کے لیے تحریری مطالبات رکھے تھے، جن میں کہا گیا تھا کہ وفاقی حکومت چیف جسٹس یا سپریم کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل دو کمیشن آف انکوائری تشکیل دے، کمیشن وفاقی حکومت کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت قائم کیا جائے، کمیشن کے ججز کی تعیناتی تحریک انصاف اور حکومت کی باہمی رضا مندی کے ساتھ سات روز میں کی جائے۔
مزید یہ کہ کمیشن عمران خان کی نو مئی سے متعلق گرفتاری کی انکوائری کرے، اسلام آباد ہائی کورٹ میں رینجرز اور پولیس کے داخل ہونے کی انکوائری کی جائے، عمران خان کی گرفتاری کے بعد نو مئی واقعات کی سی سی ٹی وی ویڈیو کی تحقیقات کی جائے۔
تحریری مطالبے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر نو مئی سے متعلق میڈیا پر سنسر شپ لگائی گئی اور صحافیوں کو ہراساں کیا گیا تو کمیشن ملک بھر انٹرنیٹ بندش کی تحقیقات کرے اور ذمہ داروں کا تعین کرے۔
اس کے علاوہ کمیشن 24 سے 27 نومبر، 2024 کے واقعات کی تحقیقات کرے، کمیشن اسلام آباد میں مظاہرین پر فائرنگ اور طاقت کے استعمال کا حکم دینے والوں کی شناخت کرے، کمیشن جان کھونےن والوں اور زخمیوں کی تعداد پر ہسپتالوں اور میڈیکل سہولیات کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ کی جانچ کرے۔