پاکستان میں تعینات سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے لاہور میں ایک خاتون کو مشتعل ہجوم سے بچانے والی اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس (اے ایس پی) شہربانو نقوی سے ملاقات میں ان کی بہادری کی تعریف کرتے ہوئے انہیں سعودی عرب کے دورے کی دعوت دی ہے۔
سعودی سفارت خانے کے ترجمان نے نمائندہ انڈپینڈنٹ اردو مونا خان کو بتایا کہ سعودی سفیر کی دعوت پر شہربانو نقوی اور ان کے اہل خانہ شاہی مہمان کی حیثیت سے ریاض کا دورہ کریں گے اور انہیں شاہی حج کروایا جائے گا۔
سفارت خانے کے ترجمان نے کہا کہ اے ایس پی شہر بانو اور ان کے اہل خانہ سعودی عرب میں شاہی مہمان ہوں گے۔
سعودی سفارت خانے سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’لاہور واقعے میں شہربانو نے بے غرض لگن اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔‘
سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے نوجوان پولیس افسر کی جرات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے انہیں سفارت خانے مدعو کیا تھا۔
26 فروری 2024 کو لاہور کے ایک مصروف بازار اچھرہ میں ایک خاتون کو عربی رسم الخط سے ملتی جلتی تحریر والا کرتا پہننے کے باعث وہاں موجود چند مشتعل افراد نے ہراساں کیا تھا۔
جس کے بعد اے ایس پی شہربانو نقوی کی سربراہی میں پولیس فورس نے خاتون کو نہ صرف بحفاظت ریسکیو کیا بلکہ مشتعل ہجوم کو کنٹرول بھی کیا تھا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس کے بعد خاتون افسر کو کافی سراہا گیا۔
اس سے قبل چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر نے بھی شہربانو نقوی سے بدھ کو ملاقات کی اور ان کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا تھا۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جنرل ہیڈ کوارٹرز، راولپنڈی میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران آرمی چیف نے اے ایس پی شہربانو کی پیشہ ورانہ مہارت، فرائض کی انجام دہی سے بے لوث لگن اور مشکل صورت حال کو قابو میں لانے پر سراہا۔
ادھر پنجاب پولیس کے سربراہ ڈاکٹر عثمان انور نے بھی اے ایس پی شہربانو نقوی کے لیے حکومت سے قائداعظم پولیس میڈل کی سفارش کی ہے۔
پنجاب پولیس نے انسٹاگرام پر ایک بیان میں کہا کہ ’لاہور کے ایک علاقے میں پیدا ہونے والی ناخوشگوار صورت حال کے دوران اپنی جان خطرے میں ڈال کر خاتون شہری کو مشتعل ہجوم سے بحفاظت بچا کر لے جانے والی ایس ڈی پی او گلبرگ لاہور اے ایس پی شہربانو نقوی کو پنجاب پولیس کی طرف سے بے مثال جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرنے پر قائد اعظم پولیس میڈل سے نوازنے کے لیے حکومت پاکستان کو سفارشات بھجوائی جا رہی ہیں۔‘
مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔