انڈیا نے سکیورٹی کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر منگل کو اسرائیل میں موجود اپنے تمام شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقلی کی ہدایت کی ہے۔
اسرائیل میں انڈیا کے سفارت خانے کی جانب سے منگل کو ’اہم ایڈوئزری‘ کے عنوان سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل بھر، خاص طور پر ملک کے شمال اور جنوب میں کام اور سفر کرنے والے انڈین شہریوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اسرائیل ہی میں کسی محفوظ پر منتقل ہو جائیں۔
یہ ایڈوائزری لبنان کے ساتھ اسرائیل کی سرحد کے قریب ایک چھوٹی سی زرعی کمیونٹی مارگالیوٹ میں ایک ٹینک شکن میزائل حملے کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے، جس میں ایک انڈین شہری کی موت اور دو شدید زخمی ہو گئے تھے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیر کو میگن ڈیوڈ ایڈوم ایمرجنسی رسپانس سروس نے ایک بیان میں کہا کہ ایک اینٹی ٹینک میزائل نے ’باغ میں کام کرنے والے غیر ملکی کارکنوں‘ کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں ایک شخص چل بسا اور کم از کم سات زخمی ہو گئے تھے۔
بیان میں مرنے والے شخص کی قومیت کی تفصیلات بتائے بغیر کہا گیا تھا کہ زخمی ہونے والے تمام انڈین مرد تھے جن کی عمر 30 سال تھی۔
تاہم بعدازاں انڈیا میں اسرائیلی سفارت خانے نے ایکس پر اپنے پیغام میں حزب اللہ کی جانب سے پر امن زرعی کارکنوں پر حملے کے نتیجے میں ایک انڈین شہری کی موت اور دو کے زخمی ہونے پر ’شدید صدمے‘ کا اظہار کیا۔
سفارت خانے نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ہماری دعائیں سوگواروں اور زخمیوں کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں اور اسرائیلی طبی ادارے مکمل طور پر زخمیوں کا بہترین طبی علاج کر رہے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مزید کہا گیا: ’اسرائیل دہشت گردی کی وجہ سے زخمی یا مارے جانے والے تمام شہریوں، اسرائیلی یا غیر ملکیوں کو یکساں سمجھتا ہے۔ ہم خاندانوں کی مدد کے لیے وہاں موجود ہوں گے اور انہیں مدد کی پیشکش کریں گے۔‘
مارگالیوٹ حملے کے حوالے سے اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ لبنان سے ہونے والے حملے کے زخمیوں کو ہوائی جہاز کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا گیا۔
فوج نے مزید کہا کہ اس نے جواب میں لبنان میں اس مقام کو نشانہ بنایا، جہاں سے میزائل داغا گیا۔
سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل کی جانب سے غزہ پر جاری جارحیت کے بعد سے اسرائیلی فوج اور لبنانی گروپوں میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔
اے ایف پی کے ایک اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر لڑائی کے نتیجے میں دونوں طرف سے ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور لبنان میں کم از کم 296 افراد جان سے جا چکے ہیں، جن میں زیادہ تر حزب اللہ کے جنگجو اور 46 عام شہری ہیں۔
اسی طرح اسرائیل میں 10 فوجی اور سات شہری مارے گئے ہیں۔
مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔