پاکستان کی غزہ میں اسرائیل کے جارحانہ اقدامات کی مذمت

پاکستانی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزیاں فوری طور پر بند ہونی چاہییں۔

31 مارچ 2025 کو خان یونس کے علاقے اسرائیل کے انخلا کے حکم کے بعد لوگ مکان خالی کر کے جا رہے ہیں (اے ایف پی)

حکومت پاکستان نے مقبوضہ فلسطینی علاقے بالخصوص غزہ میں اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے جاری جارحیت اور مظالم کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں وزارت داخلہ نے کہا کہ ’بلا امتیاز تشدد نے ہزاروں بے گناہ فلسطینیوں کی جانیں لے لی ہیں، جن میں خواتین، بچے، طبی عملہ اور انسانی ہمدردی کے کارکن شامل ہیں، جو اسرائیل کے وحشیانہ قبضے میں ایک اور تاریک باب کی نشاندہی کرتا ہے۔‘

ادھر اے ایف پی نے غزہ کی شہری دفاعی ایجنسی کے حوالے سے خبر دی ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں جمعرات کی صبح کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے۔

ایجنسی کے ترجمان محمود بسال نے کہا کہ حملوں میں غزہ شہر کے شجاعیہ محلے میں کئی گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا، ’ابھی بھی ملبے تلے کئی افراد پھنسے ہوئے ہیں۔‘

اسرائیلی فوج نے غزہ کے شمال میں شجاعیہ اور کچھ دیگر اضلاع کے رہائشیوں کے لیے انخلا کا نیا حکم جاری کیا۔

فوجی ترجمان نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’آپ کو ان علاقوں کو فوری طور پر خالی کرنا ہو گا اور مغربی غزہ شہر میں معلوم پناہ گاہوں کی طرف منتقل ہونا ہو گا۔‘

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق ’پاکستان نئے حفاظتی راہداریوں کے قیام کے لیے اسرائیل کے تازہ ترین فوجی جارحیت کی مذمت کرتا ہے، جس میں موراج کوریڈور پر غیر قانونی قبضہ اور فلسطینی زمینوں کا مزید الحاق شامل ہے۔ جبالیہ میں اقوام متحدہ کے زیر انتظام ایک کلینک کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا، جس نے 700 سے زائد بےگھر شہریوں کو پناہ دی تھی، بین الاقوامی قانون اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کے لیے اسرائیل کی صریح بےاعتنائی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اقدامات، فلسطینیوں کو ان کی آبائی سرزمین سے نسلی طور پر صاف کرنے کے اسرائیل کے واضح ارادے کے ساتھ مل کر، بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

غزہ میں تقریباً دو ماہ تک قائم رہنے والے سیز فائر معاہدے کے اختتام کے بعد 18 مارچ کو اسرائیل نے دوبارہ سے غزہ پر بمباری کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔

اسرائیل کی جانب سے دوبارہ شروع کی جانے والی بمباری کے نتیجے میں غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق اب تک فلسطینی علاقے میں 1042 افراد قتل کیے جا چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش کے ترجمان نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ حالیہ اسرائیلی حملوں میں ایک ہفتے میں ایک لاکھ 42 ہزار فلسطینی غزہ میں بےگھر ہوئے ہیں۔

ان کے مطابق غزہ کی تقریباً 90 فیصد آبادی سات اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی جارحیت سے رواں سال جنوری کے درمیان کم از کم ایک بار بےگھر ہوئی ہے۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’خاص طور پر تشویش ناک بات یہ ہے کہ اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے عید الفطر کے مقدس موقع پر مسجد اقصیٰ کے احاطے پر توہین آمیز دھاوا بولا گیا۔ یہ اشتعال انگیز عمل نہ صرف اسلام کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک کی حرمت کی خلاف ورزی کرتا ہے بلکہ علاقائی امن کی قیمت پر کشیدگی بڑھانے اور اپنے توسیع پسندانہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے اسرائیل کے عزم کو بھی ظاہر کرتا ہے۔‘

’شہریوں کے بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور مسلسل بمباری اور زمینی کارروائیوں کے ذریعے لاکھوں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اخلاقی طور پر قابل مذمت اور قانونی طور پر ناقابل دفاع ہے۔ بین الاقوامی قانون کی ایسی صریح خلاف ورزیاں فوری طور پر بند ہونی چاہییں۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا