پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کو صحت کے شعبے میں نرسنگ عملے کے بحران کا سامنا ہے۔
عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق معیار کے تحت ایک ہزارکی آبادی پر 2.5 نرسوں کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن بلوچستان کی ینگ نرسز ایسوسی ایشن کے صدر چنگیز حسنی کا کہنا ہے کہ اس وقت پورے صوبے میں صرف 1058 نرسنگ عملہ کام کر رہا ہے جبکہ ضرورت 20 ہزار نرسوں کی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
چنگیز نے بتایا کہ نرسنگ کے موجودہ 1057 عملے میں سے ڈائریکٹرز، پرنسپلز اور دیگر انتظامی عہدے داروں کو نکال لیں تو پیچھے تقریباً 700 سے 900 کی افرادی قوت بچتی ہے جو انتہائی ناکافی ہے۔
انہوں نے طبی شعبے میں نرس کو ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے صوبائی حکومت اور صوبائی وزیر صحت سے درخواست کی کہ وہ ہسپتالوں میں نرسوں کی قلت کو دور کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدام اٹھائیں۔
بلوچستان کے وزیر صحت سردار زادہ میر فیصل جمالی نے اس مسئلے کو عالمی قرار دیا اور کہا کہ ان کی حکومت کی کوشش ہے کہ وہ اس مسئلے کا بہتر حل نکالے اور جہاں جہاں نرسوں کی کمی ہے اسے دور کرے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں میدان میں ذمہ داریاں ادا کرنے والے نرسنگ عملے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ ’ہماری کوشش ہے ہم پورے صوبے کے تمام ہسپتالوں اور نرسنگ کالجز کو فعال بنائیں۔‘