لندن کی ملازمت کے دوران اکیلے گھر سے دور رہا کرتی تو عید، بقرعید کم ہی روایتی انداز میں منانے کا موقع ملتا۔
سن دو ہزار کے اوائل میں میں بی بی سی کے ورلڈ ٹوڈے پروگرام پہ پروڈیوسر کی ڈیوٹی کرتی تھی، نہ سحری کا اہتمام نہ کوئی افظاری کی دعوت اور اگر کوئی افطاری قسمت سے مل بھی جاتی تو میں کیا سبھی دوست افطار پر مال غنیمت کی طرح ٹوٹ پڑتے۔
لیکن سحری اپنے گھر میں ایک پیالہ دلیے یا ’سیریل‘ سے ہی کیا کرتی اور پھر ایک کپ چائے۔سحری کا لطف بھرے پرے گھر اور گرم گرم آملیٹ پراٹھے سے ہی آتا ہے۔
ہم جنوبی ایشیائی گھرانے تو انڈے پراٹھے کے بغیر اس کے بارے میں سوچ ہی نہیں سکتے۔ دہی، شہد، رات کا سالن اور چائے وغیرہ وغیرہ۔
سنت رسول کی بات کریں تو سحری چند کھجوروں اور پانی پہ محیط ہوا کرتی۔ سنت شاید اب ہم صرف نماز میں ہی ادا کر پاتے ہیں۔
سمن علی عباسی پچھلی تین دہائیوں سے سعودی عرب اور بحرین جیسے ممالک میں رہائش پزیر رہیں۔ سعودی سحور کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے بتایا، ’سحور پارٹیز باقاعدہ منعقد کی جاتی ہیں، جہاں انڈے پراٹھے سے لے کر ’ہریس‘ اور ’ام علی‘ تک سبھی ملتا ہے۔
’ام علی ایک عربی میٹھا ہے جو پف پیسٹری کو دودھ میں پکا کر بنایا جاتا ہے۔ عرب ممالک کی سحری میں دہی کا بھی خاصا استعمال رہتا ہے اور لسی کا عربی مشروب لبن بھی خوب پیا جاتا ہے۔‘
سمن علی کے مطابق جہاں رمضان کے سودے میں وہ سعودی عرب میں بیسن، کھجوریں اور پکوڑوں کا سامان خرید رہی ہوتیں، وہیں عرب صارفین کی ٹرالیاں کسٹرڈ کے ڈبوں، زیتون کے تیل کی بوتلوں، فلافل کے لیے مونگ دال کے پیکٹوں اور ابلے چنوں کے کینز سے لدی ہوا کرتی ہیں۔‘
یاد رہے عرب ممالک میں دوران رمضان میکرونی کھانےکا بھی خاصا رواج ہے۔ چاہے افطار ہو یا سحری۔
اس کے علاوہ مشرق وسطی اور عرب ممالک میں سحری اور افطار پہ ’لگیمات‘ بھی ضرور ہوتے ہیں جو ہم جنوبی ایشیائی کچن میں ’گلگلوں‘ سے مماثلت رکھتے ہیں۔
یہ بھی قابل تحسین ہے کہ ان سبھی ممالک میں دوران رمضان اشیائے خورد و نوش بہت کم قیمت پہ دستیاب ہوتی ہیں تاکہ ہر طبقے سے تعلق رکھنے والا روزے دار رمضان کے لوازمات کا لطف اٹھا سکے۔
پاکستان میں بھی بچت بازار اور رمضان بازار لگائے جاتے ہیں لیکن ان پر عمل درآمد اور ریگولیشن میں چُوک بھی سالانہ دیکھی جاتی ہے۔
رمضان جسم کی زکوۃ کا مہینہ بنا کے نازل فرمایا گیا لیکن عوام الناس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ سحری و افطار پہ دسترخوان کا کوئی کونہ خالی نہ چھوڑیں۔
سحری کرنا کیوں ضروری ہے؟ ماہر خوراک یا ڈائیٹیشن ڈاکٹر سعدیہ فضل اس بارے میں کہتی ہیں کہ ’سحری کا نظریہ روزے کے ساتھ ایک متوازن تعلق رکھتا ہے۔ اسے ایک روحانی عمل کے طور پہ سمجھنا چاہیے۔‘
اسلام میں سحری کو برکت والا کھانا قرار دیا گیا ہے۔ ہمارے نبیﷺ نے فرمایا ’سحری کیا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہے۔‘
اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں سحری کو دن بھر کی بھوک مٹانے کا ذریعہ سمجھا جائے بلکہ اس وقت کی غذا جسم کو روزے کی حالت میں توانائی دینے اور ہاضمہ درست رکھنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے۔
بقول ڈاکٹر سعدیہ فضل: ’طبی نقطہ نگاہ سے بھی روزہ آپ کی جسمانی کلینزنگ ہے، اور آپ کے جگر کی قدرتی صفائی ہے اور صحت مند سحری کرنا اس کا بنیادی جز۔‘
سحری کی خوراک جسمانی قوت اور روحانی طاقت سے جڑی ہوتی ہے تاکہ عبادت اور اپنے فرائض کے دوران بھوک کا احساس کم سے کم ہو۔
برصغیر سے لے کر عرب ممالک اور مشرق وسطی میں بھی ہلکی مگر غذائیت سے بھرپور سحری کے مینیو کو اپنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ان میں پروٹین انڈے، گوشت، چنے، کابلی چنے، لال لوبیا، مونگ دال شامل ہیں۔ اگر روغن کی بات کی جائے تو صحت مند چکنائی میں کولڈ پریس، سرسوں، کنولہ یا زیتون کا تیل، دیسی گھی اور مکھن کا استعمال مفید ہے۔
یاد رہے روغن وافر نہیں بلکہ مناسب مقدار میں ہو۔ اس کے علاوہ کاربوہائڈریٹس میں چپاتی یا دلیے کا استعمال بھی ضروری ہے۔
لیکن مناسب مقدار میں پانی کا استعمال روزہ بند کرنے سے قبل کر لینا گردے اور پیٹ کے انفیکشن سے بھی دور رکھتا ہے۔
زبیدہ طارق یا شیف زبیدہ آپا کے نام سے کون واقف نہیں۔ وہ اپنے کھانوں، ساڑیوں، چوڑیوں اور ٹوٹکوں کے لیے ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
ان کے بیٹے شیف حسین طارق نے سحری مینیو کو بیان کرتے ہوئے بتایا ’کم تیل میں بنا پراٹھا، آملیٹ، پھینی اور چائے یا چپاتی کے ساتھ رات کا سالن ایک صحت مند سحری کے لوازمات ہو سکتے ہیں۔‘
حیسن طارق سحری کے وقت نہاری اور بار بی کیو پارٹیوں سے کچھ زیادہ مطمئن نظر نہیں آئے۔
ان کا بھی یہی ماننا ہے کہ ’روزہ جسم کی زکوٰۃ کے پہلو سے سمجھنا اور رکھنا چاہیے یہ بسیار خوری کا مذہبی موقع نہیں ہوتا۔‘
رمضان کی رونق سحری سے جو شروع ہوتی ہے تو افطار پہ پورے 30 دن تک جاری رہتی ہے۔ پاکستان میں سحری کی مرغن غذاؤں کے برعکس ڈھاکہ کی سحری کو یاد کرتے ہوئے فریال شاہد نے بتایا ’دال چاول، شامی کباب، رات کا سالن اور دودھ کا ایک گلاس سحری بند کرنے کے لیے ہمیشہ میسر ہوتا۔‘
دوسری طرف ہندوستانی سحری کی بات کریں تو ہر علاقے کی سوغات کے ساتھ روزہ کھولا اور بند کیا جاتا ہے، یعنی پراٹھے قورمے سے لے کر اڈلی سانبھر تک سبھی طرح کا مینیو لوگوں کے سحری دسترخوان پہ مل جائے گا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دودھ پھینی بھی رغبت سے کھائی جاتی ہے۔ دہی یا دودھ کی کھپت دنیا کے ہر کونے میں سحری کی وقت ضرور رہتی ہے۔
کہیں عرب ممالک میں ’گہوہ‘ پیا جاتا ہے۔’گہوہ‘ کافی کے بیجوں کو پیس کر عمدہ سبز الائچی کے ساتھ ابالا جاتا ہے۔ اس کو لوگ کم دودھ اور زعفران کے ساتھ نوش کرتے ہیں۔
گہوہ ہاضمےا ور پیاس دونوں صورتوں میں کارآمد ہے۔ افغانستان کے سحری دسترخوان کی بات کریں تو وہ انڈوں، پنیر، گوشت روٹی اور حلوے سے مزین ہوتا ہے۔
جہاں عرب میں گہوہ پیتے ہیں تو افغانستان اور ترکی میں چائے اور قہوے نوش کرنے کا رواج عام ہے۔
یہ بھی ماننا ضروری ہے کہ موسموں کا بھی ہمارے دسترخوان کے لوازمات پہ اپنا ڈھنگ ہوتا ہے۔ پراٹھے تو جیسے برصغیر اور ڈھاکہ میں سحری کا ایک مخصوص آئٹم مانے جاتے ہیں۔ تازہ ہوں یا فروزن۔
غیر ممالک میں وطن سے دور رمضان میں گھر کا دسترخوان، اماں کے ہاتھ کے پراٹھے انڈے، رات کا سالن، محبت سے بھگوئی کھجلہ پھینی سبھی ہمیں یاد آتے ہیں۔
لیکن پشتو زبان کا ایک محارورہ کہتا ہے کہ ’پیٹ پہ سر قربان‘ نہیں کرنا چاہیے اور یہ محاورہ رمضان بھر بھی ملحوظ رکھنا اشد ضروری ہے۔