ابوظبی کے ولی عہد کا دورہ پاکستان: کئی معاہدوں، مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط متوقع

ابوظبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید ال نہیان وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر جمعرات کو ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ اپنے پہلے سرکاری دورے پر پاکستان آ رہے ہیں۔

ابوظبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید ال نہیان 10 ستمبر 2024 کو ممبئی میں انڈیا-یو اے ای بزنس فورم میں شرکت کے دوران (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

ابوظبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید ال نہیان وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر جمعرات (27 فروری) کو ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ اپنے پہلے سرکاری دورے پر پاکستان آ رہے ہیں، جس کے دوران کئی معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط متوقع ہیں۔

وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق شیخ خالد بن محمد بن زاید ال نہیان کے ساتھ وفد میں وزرا، سینیئر حکام اور نمایاں کاروباری شخصیات شامل ہوں گی۔

’یہ دورہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کو اجاگر کرتا ہے اور دوطرفہ اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔‘

بیان کے مطابق: ’اس دورے کے دوران ولی عہد شیخ خالد بن محمد پاکستان کی قیادت سے باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت، تاریخی روابط کو مستحکم کرنے اور اقتصادی و سرمایہ کاری تعاون کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کریں گے۔‘

اس دورے کے دوران ’کئی معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے جائیں گے تاکہ طویل مدتی تعاون کے لیے موجودہ مضبوط فریم ورک کو مزید تقویت دی جا سکے۔ ان معاہدوں سے مشترکہ منصوبوں اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے، جو دونوں ممالک اور ان کے عوام کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کریں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’پاکستان اور متحدہ عرب امارات ہمیشہ باہمی احترام، اعتماد اور مشترکہ امنگوں پر مبنی تعلقات سے لطف اندوز ہوتے رہے ہیں۔ ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید ال نہیان کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی شراکت داری اور عوامی روابط کے مضبوط ہونے کا عکاس ہے، جو باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

گذشتہ برس مئی میں وزیراعظم شہباز شریف کے متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید ال نہیان نے پاکستان میں متعدد شعبوں میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی یقین دہائی کروائی تھی۔

بعدازاں ابوظبی میں پاکستان اور یو اے ای کی آئی ٹی کمپنیوں کے درمیان شراکت داری پر گول میز سیشن سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ وہ متحدہ عرب امارات سے قرض نہیں بلکہ مشترکہ سرمایہ کاری اور تعاون چاہتے ہیں جو باہمی مفاد کے لیے ہو۔

شہباز شریف نے کہا تھا کہ ’ہم اپنی معیشت کی ہیئت تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہیں اور ہمارا عزم ہے کہ متحدہ عرب امارات میں موجود اپنے بھائیوں کے تعاون سے پاکستان کی معیشت کی ہیئت کو مکمل طور پر بدل دیں گے، جوائنٹ وینچرز اور نالج شیئرنگ شراکت داری کی بنیاد پر ہم یہ کام کریں گے۔‘

بقول وزیر اعظم: ’ہمارے پروگرام کے تحت اعلیٰ سطح کی ووکیشنل ٹریننگ اور جدید ہنر سے آراستہ کرنا شامل ہے تاکہ ہماری نوجوان نسل یو اے ای، ابوظبی اور دبئی میں آ کر قانونی تقاضے پورے کر کے اپنے دفاتر قائم کرے اور پاکستان سے نوجوان خدمات سرانجام دیں، جس سے روزگار کے مواقعے پیدا ہوں اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو سپورٹ ملے۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان