2000 سال قبل پومپئی کے لاوے کی حدت سے شیشہ بن جانے والا انسانی دماغ

سائنس دانوں نے ہرکولینیم میں پائے جانے والے اس شخص کی کھوپڑی اور ریڑھ کی ہڈی کے اندر سے ملنے والے شیشے جیسے مادے کے ٹکڑوں کا تجزیہ کیا۔ یہ شخص کولیجیم آگسٹالیئم میں اپنے بستر پر لیٹا ہوا پایا گیا۔

پومپئی آرکیالوجیکل پارک کی طرف سے 6 نومبر 2021 کو ’غلاموں کا کمرہ‘ دکھایا گیا ہے (ہینڈ آؤٹ / اے ایف پی)

ماؤنٹ ویسوویئس کے آتش فشاں پھٹنے سے موت کے منہ میں جانے والوں سے والے ایک شخص کی کھوپڑی میں پائے جانے والے شیشے جیسے مواد نے ماہرین آثارِ قدیمہ کو یہ سمجھنے میں مدد دی ہے کہ 79 عیسوی میں قدیم رومی شہروں پومپئی اور ہرکولینیم کی تباہی کس ترتیب سے واقع ہوئی۔

جمعرات کو جریدے سائنٹیفک رپورٹس میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں اس پراسرار مادے کا جائزہ لیا گیا جو شیشے سے مشابہت رکھتا ہے۔ تحقیق کے مطابق درحقیقت یہ مواد اس شخص کا دماغ تھا۔

محققین کا خیال ہے کہ اس شخص کا دماغ پہلے ’انتہائی تیزی سے حرارت‘ کا شکار ہوا اور پھر ’انتہائی تیزی سے ٹھنڈا‘ ہو کر شیشے میں تبدیل ہو گیا۔

شیشہ قدرتی طور پر شاذ و نادر ہی بنتا ہے کیوں کہ اس کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ کوئی مائع تیزی سے ٹھنڈا ہو اور ٹھوس میں تبدیل ہوتے وقت کرسٹل نہ بنائے۔

شیشہ بننے کے لیے کسی مادے کو اس وقت ایسی حالت میں ٹھوس ہونا چاہیے کہ جب اس کا درجہ حرارت اپنے ماحول سے کہیں زیادہ ہو۔

یہی وجہ ہے کہ کسی نامیاتی مادے کا شیشے جیسی شکل اختیار کرنا انتہائی غیر معمولی بات ہے کیوں کہ قدرتی طور پر درجہ حرارت شاذ و نادر ہی اتنا کم ہوتا ہے کہ پانی، جو نامیاتی مادے کا ایک بنیادی جزو ہے، جمنے کے قابل ہو۔

اسی وجہ سے قدرتی ماحول میں شیشہ زیادہ تر ریتلی زمین پر شہاب ثاقب کے ٹکرانے سے بنتا ہے۔

اب تک قدرتی طور پر بننے والے نامیاتی شیشے کا واحد معلوم نمونہ 2020 میں اٹلی کے شہر ہرکولینیم میں دریافت ہوا مگر اس وقت یہ واضح نہیں تھا کہ یہ مادہ کیسے وجود میں آیا۔

نئی تحقیق میں کہا گیا کہ ’ہم یہاں یہ دکھا رہے ہیں کہ 79 عیسوی میں ویسوویئس آتش فشاں کے پھٹنے سے بہنے والے لاوے میں دفن ایک بظاہر مردانہ انسانی جسم کی کھوپڑی میں پایا جانے والا شیشے جیسا مادہ درحقیقت اس کے دماغ کی انتہائی بلند درجہ حرارت پر شیشہ سازی کے منفرد عمل کے ذریعے تشکیل پایا۔ یہ زمین پر اپنی نوعیت کا واحد معلوم واقعہ ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سائنس دانوں نے ہرکولینیم میں پائے جانے والے اس شخص کی کھوپڑی اور ریڑھ کی ہڈی کے اندر سے ملنے والے شیشے جیسے مادے کے ٹکڑوں کا تجزیہ کیا۔ یہ شخص کولیجیم آگسٹالیئم میں اپنے بستر پر لیٹا ہوا پایا گیا۔

ماہرین نے ایکس رے اور الیکٹرون مائیکروسکوپی کے ذریعے جدید امیجنگ تکنیکوں کا استعمال کیا اور دریافت کیا کہ دماغ کو شیشے میں تبدیل ہونے کے لیے کم از کم 510 درجے سیلسیس سے زیادہ درجہ حرارت پر گرم ہونے کے بعد انتہائی تیزی سے ٹھنڈا ہونا ضروری تھا۔

ایسا نامیاتی شیشہ صرف اس تیز اور گرم ہوا اور شہر کو دفن کرنے والی راکھ کی وجہ سے نہیں بن سکتا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ لاوے کا درجہ حرارت 465 ڈگری سیلسیس سے زیادہ نہیں ہوا اور یہ آہستہ آہستہ ٹھنڈی ہوتی ہے جس سے شیشے جیسا مادہ بننے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔

اس تجزیے اور جدید دور میں آتش فشاں پہاڑوں کے پھٹنے کے واقعات کے مطالعے کی بنیاد پر محققین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ویسوویئس کے پھٹنے کے دوران سب سے پہلا جاں لیوا سبب انتہائی گرم راکھ کا بادل تھا جو تیزی سے تحلیل ہو گیا۔

اس واقعے کے نتیجے میں ممکنہ طور پر اس شخص کا درجہ حرارت 510 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر گیا اور جیسے ہی یہ گرم راکھ کا بادل تحلیل ہوا، وہ تیزی سے ماحول کے درجہ حرارت کے برابر ٹھنڈا ہو گیا۔

محققین کا کہنا ہے کہ اس فرد کی کھوپڑی اور ریڑھ کی ہڈی نے ممکنہ طور پر دماغ کو درجہ حرارت کے نتیجے میں ہونے والی مکمل طور پر تباہ ہونے سے بچا لیا جس کی وجہ سے اس نایاب نامیاتی شیشے کے ٹکڑے تشکیل پائے۔

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس