لاہور پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ 23 مارچ کو باغبان پورہ کے شاہ گوہر پیر دربار قبرستان سے جس لڑکی کی سر بریدہ لاش برآمد ہوئی تھی اسے گینگ ریپ کے بعد قتل کیا گیا۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا کے مطابق ’ملزمان نے 17 سالہ نگینہ کو اجتماعی ریپ کے بعد قبرستان لے جا کر تیز دھار آلے سے قتل کیا اور موقعے سے فرار ہو گئے۔
انہوں نے بتایا کہ ملزمان کو ’جدید ٹیکنالوجی اور ہیومن انٹیلی جنس کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔‘
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ونگ لاہور سید ذیشان رضا نے اس واردات کا نوٹس لیتے ہوئے ایس پی انویسٹی گیشن کینٹ اویس شفیق کی سربراہی میں ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیم تشکیل دی تھی جس کے بعد پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں علی رضا عرف کمیلے شاہ، فیضان بٹ، شان، فیاض عرف ببو، اور علی عرف بھولا شامل ہیں۔
ایس پی انویسٹی گیشن کینٹ اویس شفیق نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’مقتولہ کی دو بہنیں ہیں جو محمود بوٹی میں اپنی پھوپھی کے ساتھ رہتی ہیں، ان کی والدہ انہیں چھوڑ کر جا چکی ہیں، جبکہ والد بھی نشے کے عادی ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’نگینہ بھی آئس کا نشہ کرتی تھیں جبکہ ملزمان بھی نشے کے عادی ہیں۔ جب ہمیں قبرستان سے نعش ملی تب شناخت نہیں ہو پا رہی تھی، پھر ہم نے سی سی ٹی وی فوٹیج پر کام کرنا شروع کیا اور ملزمان کا سراغ لگایا جس کے نتیجے میں پہلے دو ملزمان پکڑے، جن سے مزید معلومات ملیں، پھر دیگر کو گرفتار کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ’مقتولہ کا پوسٹ مارٹم ہو چکا ہے جس میں ان کے ساتھ متعدد افراد کے جنسی تعلق کی تصدیق ہوئی ہے۔
’نگینہ کی شناخت پہلے اس لیے نہیں ہو پا رہی تھی کیونکہ یہ گھر سے نکلیں مگر انہیں ڈھونڈنے کئی دن تک کوئی نہیں آیا، نہ ہی کسی نے پولیس سے رابطہ کیا۔ جب ملزمان پکڑے گئے تب معلوم ہوا کہ مقتولہ کہاں رہتی تھیں اور کون تھیں۔‘
اس مقدمے میں ایک سینیئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ملزمان نے اپنے ابتدائی بیان میں بتایا کہ قتل ہونے والی نگینہ آئس کا نشہ کرتی تھیں اور وہ پہلے سے ملزمان کو جانتی تھیں۔
’یہ سب مل کر نشہ بھی کرتے تھے اور ملزمان نگینہ کو خود بھی پیسے دے کر جنسی استحصال کا نشانہ بناتے تھے اور دیگر لوگوں کو بھی آگے فروخت کرتے تھے۔‘
مذکورہ پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ’ملزمان نے یہ بھی بتایا ہے کہ قتل کے روز بھی وہ نگینہ کو اسی مقصد کے لیے ان کے گھر سے لینے گئے لیکن پیسوں پر بات اٹک گئی اور نگینہ کی پھپھو اور دادی نے لڑکوں کو گھر سے بھگا دیا لیکن نگینہ خود ان کے ساتھ چل پڑی۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’ملزمان میں سے ایک ملزم فیضان کا گھر قبرستان کے پاس ہے یہ نگینہ کو وہاں لے کر آئے اور پہلے وہاں آئس کا نشہ کیا، اس کے بعد نگینہ سے رضامندی کے ساتھ جنسی تعلق بنایا اس کے بعد وہاں ان کی آپس میں کالے جادو پر بحث ہوئی۔ ملزمان میں سے ایک ملزم کی والدہ کی موت کالے جادو کی وجہ سے ہوئی تھی جس پر لڑائی بڑھ گئی۔
’اس کے علاوہ مقتولہ نے جنسی تعلق کے پیسے مانگے تو ان میں سے کسی کے پاس پیسے نہیں تھے جس پر جھگڑا زیادہ ہو گیا اور ملزمان نے لڑکی کو قتل کر کے جان چھڑانے کا منصوبہ بنایا۔‘
پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ’ملزمان میں سے تین مقتولہ کو قبرستان لے گئے۔ قبرستان لے جا کر ایک ملزم نے نگینہ کی ٹانگیں پکڑیں ایک نے گردن اور ایک نے گردن پر چھری چلا دی۔‘
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور سید ذیشان رضا کا کہنا ہے کہ ’شواہد کی روشنی میں مضبوط چالان مرتب کر کے ملزمان کو نشان عبرت بنایا جائے گا۔‘