پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پنجاب کے قائم مقام صدر حماد اظہر کے تیسری بار اور ’حتمی استعفے‘ دینے پر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہ عمران خان کی ہدایت کے باوجود منظر عام پر نہیں آئے اور وہ ’عمران خان کی ترجیح‘ ہونے کی وجہ سے خیبر پختونخوا کے چند افراد کی آنکھوں میں کھٹکتے رہے ہیں۔
حماد اظہر نے پی ٹی آئی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے اور اس بات کا اعلان انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر کی گئی اپنی ایک تفصیلی پوسٹ میں کیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جب سے عمران خان جیل گئے ہیں تب سے پی ٹی آئی میں بطور جماعت تنظیم سازی کی کمی دیکھی جا رہی ہے اور پارٹی عہدیداران میں آپس میں ایک خلیج دکھائی دیتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کار ماجد نظامی کے خیال میں ’تحریک انصاف کی اندرونی صورت حال پر اردو محاورہ خوب صادق آتا ہے کہ جوتیوں میں دال بٹ رہی ہے۔ اس وقت خصوصاً تحریک انصاف پنجاب کے اندر کئی اختلافات اس لیے موجود ہیں کیونکہ ایک گروپ خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے جبکہ دوسرا گروپ وکلا کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا چاہتا ہے، تیسرا گروپ وہ ہے جن کا یہ خیال ہے کہ ہم کارکنان کی آواز ہیں اس لیے ان کی کھینچا تانی چلتی رہتی ہے اور اس سارے عمل کے اندر تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔‘
ماجد کا مزید کہنا تھا کہ ’حماد اظہر کے گروپ کے اوپر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے تمام روپوش رہنماؤں کو منظر عام پر آنے کی ہدایت کی تھی جسے بہت سے رہنما نہیں مان رہے اور وہ انڈر گراؤنڈ رہ کر خود کو سیاسی طور پر بچا رہے ہیں۔‘
ماجد نظامی کے خیال میں اگر اب تک کی صورت حال کو سامنے رکھیں تو یہ چیز بخوبی سمجھ آتی ہے کہ جب تک عمران خان جیل میں ہیں خصوصاً پنجاب کے اندر پی ٹی آئی اس طرح کے اختلافات کا شکار رہے گی۔
’اس کی وجہ یہ ہے کہ پارٹی پالیسی واضع نہیں ہے، گروپس کی تعداد بہت زیادہ ہے اور وہ اسی کھینچا تانی میں لگے رہتے ہیں کہ کون سا گروپ عمران خان کے زیادہ قریب ہوگا۔‘
سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا ہے: حماد کا شمار پارٹی کے سنجیدہ اور پڑھے لکھے افراد میں ہوتا ہے اور عمران خان کی ترجیح کے طور پر وہ پنجاب اور خصوصاً خیبر پختونخواہ کے کچھ افراد کی آنکھوں میں کھٹکتے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے انہیں پنجاب کا صدر بنایا اور مشکل صورت حال میں وہ منظر سے غائب ہیں اور ان کی عدم موجودگی جماعت میں کچھ لوگوں کو ہضم نہیں ہو رہی اور وہ انہیں ہدف بنائے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سلمان غنی نے مزید کہا کہ حماد کے استعفے کا پس منظر اعظم سواتی کی ان کے حوالہ سے پارٹی رہنماؤں کو شکایات ہیں جس کی بنا پر انہوں نے استعفے کا اعلان کیا ہے۔
’وہ پارٹی کے کچھ لوگوں کے طرز عمل سے نالاں ہیں۔ اگر وہ منظر سے غائب رہے تو ان کا کہنا ہے کہ یہ لیڈر شپ کی مرضی سے ہے مگر اس کا نقصان حماد کو پہنچا ہے اور ویسے بھی جو لوگ حماد کو ٹارگٹ کر رہے ہیں وہ منظر سے غائب مراد سعید کو ٹارگٹ کیوں نہیں کرتے؟
’مطلب یہ کہ حماد کے استعفے کا تعلق پارٹی کے اندرونی انتشار سے ہے مگر حماد بارے یہ رائے عام ہے کہ وہ عمران خان کی چوائس ہیں اور رہیں گے اور اب بھی وہ اس صورت حال کے باوجود پارٹی میں اپنا کردار جاری رکھیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’تحریک انصاف کی سیاست کا جائزہ لیں تو اس میں نئے اور پرانے لوگوں کے درمیان ایک جنگ جاری ہے، پارٹی کا بڑا بحران پارٹی کے اندر ہے باہر نہیں اور حماد کے حوالہ سے پیدا شدہ صورت حال بارے ایک رائے یہ بھی ہے کہ پنجاب کے حوالہ سے فیصلے پختونخواہ سے نہیں ہونے چاہیے یہ پارٹی کو کمزور کر رہے ہیں البتہ حماد کو اپنے سیاسی مستقبل کے لیے منظر پر آنا پڑے گا یہی ان کا جماعت میں بڑے مستقبل کا ضامن ہو گا۔‘
جہاں تک حماد کا تعلق ہے تو ان سے بھی رابطہ نہیں ہو سکا کیونکہ وہ کچھ عرصہ سے روپوش ہیں۔ وہ کہاں ہیں اس حوالے سے بھی معلومات خفیہ رکھی گئی ہیں۔
حماد اظہر نے البتہ ایکس پر دو اپریل کو رات آٹھ بج کر چار منٹ پر کی گئی پوسٹ میں الزام لگایا کہ ’گذشتہ روز خان صاحب (بانی پی ٹی آئی عمران خان) کو اعظم سواتی نے بتایا کہ عالیہ حمزہ کو کام کرنے میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے۔ خان صاحب نے جب اسرار کیا کہ کون رکاوٹ ڈال رہا ہے تو اعظم سواتی نے میرا نام لیا۔ میں نے عالیہ حمزہ بی بی سے پوچھا کہ آپ کو میری طرف سے کیا رکاوٹ تھی تو انہوں نے تعجب کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں مجھ سے ہمیشہ سپورٹ ملی اور وہ خود پریشان ہیں کہ کیوں یہ بات خان صاحب کو کی گئی۔‘
حماد اظہر نے اس کے بعد لکھا: ’بہرحال اس مسئلے کا بڑا آسان حل موجود ہے۔ میرے تمام اختیارات پہلے ہی چار ریجنل صدور کو پچھلے سال جون میں منتقل کر دیے گئے تھے جن چاروں کا تعین عمران خان نے خود کیا تھا۔ اب میرے اپنے حلقے کی تنظیم بھی میرے مشورے یا مرضی سے نہیں لگ سکی اور مجھے کوئی شکایت نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میں پہلے دو بار استعفیٰ دے چکا ہوں جس کو رد کر دیا گیا آج میں تیسری دفعہ اور حتمی طور پر اپنا عہدہ چھوڑ رہا ہوں۔‘
اس حوالے سے عالیہ حمزہ سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے بات نہ ہو سکی۔ اعظم سواتی کا بھی اس پر ابھی کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
تقریباً دو ہفتہ قبل انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں حماد اظہر سمیت چند دیگر پارٹی رہنماؤں کو اشتہاری قرار دے کر ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔