سوتیلے ابو اور چاچو نے میرے ساتھ غلط کام کیا: بارہ سالہ مریم کی فریاد

کراچی کے عوامی کالونی پولیس تھانے میں سوموار کو شگفتہ بی بی کی جانب سے ایف آئی آر درج کروا دی گئی جس کے بعد مریم کے سوتیلے باپ غلام قادر اور چچا روشان علی کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔

(پکسابے)

کراچی کے ضلع کورنگی میں واقع عوامی کالونی کی رہائشی شگفتہ بی بی گھر گھر کام کرکے اپنے چھ بچوں کا پیٹ پالتی ہیں۔

پہلے شوہر کی وفات کے بعد شگفتہ نے دوسری شادی یہ سوچ کر کی تھی کہ ان کے بچوں کے سر پر باپ کا سایہ برقرار رہے گا لیکن یہ بات ان کے وہم و گمان میں نہیں تھی کہ یہی باپ اپنی ہی بیٹیوں کا محافظ بننے کے بجائے ان کے ساتھ ظلم کرے گا۔

ایک ماہ قبل شگفتہ کے دوسرے شوہر غلام قادر نے اپنی 12 سالہ سوتیلی بیٹی مریم کی شادی زبردستی اپنے 35 سالہ بھائی روشن علی سے کروا دی۔

مریم کہتی ہیں کہ اس شادی سے قبل ان کے والد غلام قادر اکثر انہیں اور ان کی آٹھ سالہ بہن نور کو غلط طریقے سے ہاتھ لگانے کی کوشش کرتے تھے۔ یہ عمل اکثر دن کے وقت میں پیش آتا تھا جب مریم کی والدہ شگفتہ بی بی گھروں میں کام کرنے کے لیے جاتی تھیں اور رات کے وقت تب جب گھر میں سب سو جاتے تھے۔

سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آنے والے مریم کے ویڈیو بیان میں ان کا کہنا تھا کہ 'ابو نے بھی میرے ساتھ غلط کیا ہے۔ وہ یہ رات کے وقت میں کیا کرتے تھے۔ میرے چاچو بھی رات میں مجھے لے جاتے تھے اور دونوں (ابو اور چاچو) چھوٹی بہن نور کے ساتھ بھی یہی کرتے تھے۔'

مریم نے ویڈیو میں مزید کہا کہ 'چاچو نے زبردستی میری عزت لوٹی، عزت لوٹنے کے بعد ہمیں دھمکیاں دیں کہ اگر ہم نے کسی کو بتایا تو وہ اور ابو ہمیں مار ڈالیں گے، اس لیے کسی کو بھی  نہیں بتانا۔ چاچو ابو سے کہتے تھے کہ ان کو بولو میری مالش کریں۔ ابو اور چاچو ہمیں مارتے ہیں تاکہ ہم کسی کو نہ بتائیں۔ ایک کا نام روشن علی اور ایک کا نام غلام قادر ہے۔'

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں مریم کی والدہ شگفتہ بی بی نے اس کے جسم ہر تشدد کے نشان بھی دکھائے۔

مریم کی الٹی ٹانگ اور پیٹھ پر زخموں اور نیل کے نشان ہیں جب کہ ان کے سیدھے ہاتھ کی ہڈی میں بھی تکلیف ہے۔

شگفتہ بی بی نے انڈپینڈنٹ اردو س بات کرتے ہوئے کہا کہ 'جب میری بیٹی نے مجھے اپنے ساتھ ہونے والی ذیادتی کے بارے میں بتایا تو میں نے اپنے شوہر اور اس کے بھائی سے بات کی جس پر انہوں نے مجھے لوگوں کو اس بارے میں بتانے سے منع کیا اور دھمکی دی کہ وہ مجھے تو چھوڑ دیں گے لیکن میرے بچوں کو مار دیں گے۔'

شگفتہ کا مزید کہنا تھا کہ 'میرے شوہر غلام قادر اور اس کے بھائی روشان علی نے میری بڑی بیٹی کو مار مار کر اس کا برا حال کردیا ہے۔ غلام قادر میری تنخواہ بھی مجھ سے لے لیتا تھا۔ جب میری بیٹی نے اس سے شکایت کی کہ چاچو مجھے تکلیف پہنچاتے ہیں اور اپنے پھٹے ہوئے کپڑے بھی دکھائے اور کہا کہ میں امی کو سب کچھ بتاؤں گی تو اس نے اور ان کے بھائی نے مل کر مریم کو بہت مارا۔'

کراچی کے عوامی کالونی پولیس تھانے میں سوموار کو شگفتہ بی بی کی جانب سے ایف آئی آر درج کروا دی گئی جس کے بعد مریم کے سوتیلے باپ غلام قادر اور چچا روشان علی کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔

عوامی کالونی تھانے کے ایس ایچ او انسپکٹر ہمایوں نے بتایا کہ جس دن ایف آئی آر درج ہوئی ہے اسی دن دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ملزمان کا ایک دن کا ریمانڈ حاصل کرلیا گیا ہے جس کے بعد اس کیس کی مزید تحقیقات کی جائیں گی۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گذشتہ روز مریم کو جناح ہسپتال کے بچہ وارڈ میں داخل کروا دیا گیا تھا جہاں اس کا طبی معائنہ ہوا ہے اور رپورٹ آنے کے بعد یہ واضح ہو جائے گا کہ بچی کی ساتھ زیادتی ہوئی ہے یا نہیں۔

یہ کیس منظر عام پر کیسے آیا؟

پاکستان تحریک انصاف کے یوتھ ونگ کے مرکزی سربراہ مولا بخش سومرو کی ٹوئٹر اکاؤنٹ پر گذشتہ روز دو ویڈیوز اپلوڈ ہوئیں جن میں مریم، ان کی دو چھوٹی بہنیں اور ان کی والدہ شگفتہ بی بی اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کے حوالےسے بات کر رہی ہیں۔

مولا بخش سومرو نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان ویڈیوز میں کیمرے کے پیچھے جن خاتون کی آواز ہے وہ ان کی نانی عطیہ علوی ہیں۔ مولا بخش کے مطابق شگفتہ بی بی ان کی نانی کے گھر پر ملازمہ کی نوکری کرتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چند دن قبل شگفتہ بی بی نے ان کی نانی کو اس معاملے کی صورت حال کے حوالے سے آگاہ کیا جس کے بعد انہوں نے اگلے روز عوامی کالوںی میں خود شگفتہ بی بی کے گھر جا کر مریم کا ویڈیو بیان ریکارڈ کیا۔

مولا بخش سومرو نے بتایا کہ ویڈیو ریکارڈ ہونے کے بعد بھی شگفتہ بی بی اس خوف  سے ایف آئی آر درج نہیں کروا رہی تھیں کہ غلام قادر اور روشان علی ان کے بچوں کو قتل کرنے کی دھمکی دی تھی اور یہ بھی ان کے پاس اپنی بیٹی کی شادی کا نکاح نامہ بھی موجود نہیں تھا۔

مولابخش کے مطابق اس معاملے میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے ان کی بہت مدد کی اور نہ صرف ایف آئی آر درج کروانے کے لیے آئی جی سندھ مشتاق مہر سے گذارش کی بلکہ شگفتہ بی بی کو بھی یقین دہانی کروائی کہ ایف آئی آر درج کروانے کے بعد بھی ان کے بچے محفوظ رہیں گے۔

تین دن قبل مولا بخش نے شگفتہ بی بی کے ساتھ عوامی کالونی تھانے جا کر اس معاملے کی ایف آئی آر درج کروائی۔

شگفتہ بی بی اور ان کے بچے اب شیلٹر ہوم میں موجود ہیں جہاں ان کی بہتر دیکھ بھال کی جارہی ہے۔ 

سوشل میڈیا پر مریم کی وائرل ہونے والے وڈیوز کے حوالے سے ڈیجیٹل رائیٹس فاؤنڈیشن کی بانی نگہت داد کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں اس لیے اب ان وڈیوز کو سوشل میڈیا پر پھیلانے کا جواز نہیں بنتا، انہیں سوشل میڈیا سے ہٹایا جائے اور مزید شئیر نہ کیا جائے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان