اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے ہونے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے ایک ارب سے زائد طلبہ متاثر ہوئے ہیں۔
انتونیو گوتریس نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ کرونا وائرس کو روکنے کے لیے 160 سے زائد ملکوں میں کیے جانے والے اقدامات تاریخ میں تعلیم کے سب سے بڑے تعطل کی وجہ بنے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا بھر میں چار کروڑ بچے اپنے اہم ترین پری سکول سال میں تعلیم سے محروم ہو چکے ہیں۔
انتونیو گوتریس نے خبردار کیا کہ دنیا کو ’ایک ایسے سانحے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس سے کئی نسلیں متاثر ہوں گی جو کہ انسانی محنت، دہائیوں کی ترقی کو خطرہ اور عدم مساوات کا باعث بن سکتا ہے۔‘
کرونا کی وبا سے قبل بھی گوتریس کہہ چکے ہیں کہ دنیا کو ایک ’تعلیمی بحران‘ کا سامنا ہے جس میں ’25 کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں اور سکینڈری سکول سے فارغ التحصیل ہونے والے بچوں کا 25 فیصد بنیادی مہارت سے لیس ہوتا ہے۔‘
یونیسکو کے مطابق دنیا بھر کے 180 ممالک میں دو کروڑ 38 لاکھ بچے کرونا کی وبا کی وجہ سے سکول اور پرسکول سے خارج ہو سکتے یا اگلے سال تعلیم سے محروم رہ سکتے ہیں۔
گوتریس کا اپنے ویڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ 'ہم نوجوان اور بچوں کے حوالے سے ایک فیصلہ کن وقت میں ہیں۔ اس وقت حکومتوں اور والدین کی جانب سے لیے جانے والے اقدامات کے اثرات لاکھوں نوجوانوں پر طویل عرصے تک
مرتب ہوں گے اور ممالک کی ترقی میں دہائیوں تک کردار ادا کریں گے۔' انہوں نے اس حوالے سے 26 صفحات پر مبنی پالیسی بریفنگ بھی دی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پالیسی بریفنگ کے مطابق ابھی تک دنیا کے 100 ممالک نے سکولوں کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے کوئی تاریخ نہیں دی۔ گوتریس نے چار اہم شعبوں میں اقدامات پر زور دیا جن میں سے پہلا سکولوں کو دوبارہ کھولنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'جب ایک بار کووڈ 19 کی لوکل ٹرانسمشن پر قابو پا لیا جائے تو سکولوں کو کھولنا ہماری ترجیح ہونی چاہیے۔'
یونیسکو کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل فار ایجوکیشن سٹیفنیا جیاننی کا کہنا ہے کہ 'ایجنسی اکتوبر کے وسط تک اس حوالے سے ایک اعلی سطح کی ملاقات کا منصوبہ رکھتی ہے۔' ان کا کہنا ہے کہ اس کے معاشی نقصانات ہو سکتے ہیں لیکن جتنا وقت سکول بند رہے غریب اور غیر محفوظ بچوں کو اتنا زیادہ نقصان ہو گا۔'
انہوں نے زور دیا کہ سکولوں کا کھلنا صرف تعلیم کے لیے ہی نہیں بلکہ بچوں کی سماجی حفاظت و نشو و نما کے لیے بھی اہم ہے۔
سٹیفنیا کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس نے ڈیجیٹل، سماجی اور صنفی عدم مساوات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ لڑکیوں، پناہ گزینوں، جسمانی طور پرمعذوری کے شکار اور دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان تعلیم کی محدود مواقعوں سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ تعلیم پر زیادہ رقم خرچ کرنا ہماری ترجیح ہونی چاہیے۔