1947 میں لاہور سے بھارت آکر آباد ہونے والا سدھن خاندان بھارتی دارالحکومت دہلی میں گول ہٹی کے نام سے ایک دکان چلا رہا ہے، جہاں آج بھی لاہوری ذائقے کو زندہ رکھا گیا ہے۔
گول ہٹی کے مالک ونود سدھن کا کہنا ہے کہ ’ہم یہاں کلچے بھٹورے بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ چاول چھولے، کلچے چھولے، دہی بھلے، رس ملائی، رس گُلے، سموسے، ٹکی اور پالک چھولے بھی بنتے ہیں۔‘
ونود کا کہنا ہے کہ ’ہم یہ ذائقہ لاہور پاکستان سے لے کر آئے تھے۔‘
انہوں نے بتایا: ’ہمارے باپ دادا لاہور میں کھانوں کا ہی کام کرتے تھے۔ لاہور میں ایک جگہ ہے شاہ املی بازار۔ ہم خود ہر چیز کی نگرانی کرتے ہیں شروع سے آخر تک یہاں موجود رہتے ہیں۔ ہماری ذاتی موجودگی بہت اہمیت رکھتی ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا: ’ہم کھڑا مصالحہ لے کر خود پیستے ہیں اور اسی سے ہم مصالحہ بناتے ہیں۔ چاول چھولے ہم کلھڑ میں پیش کرتے ہیں اور زیادہ تر لوگ اسی میں کھانا پسند کرتے ہیں۔‘
’ہماری جو تہذیب ہمیں بزرگوں نے دی تھی۔ اس کو ساتھ لے کر چلے ہیں۔ خاص طور پر اس عہد میں سب لوگ پرانے ذائقہ کی طرف جاتے ہیں۔ ہمیں جو بزرگوں نے ذائقہ اور تنوع دیا ہے اسے ہم برقرار رکھیں گے اور آگے بڑھائیں گے۔‘
ونود کا کہنا تھا ان کی دکان باقاعدہ کوئی ہوٹل نہیں بلکہ سنیک کے زمرہ میں آتی ہے اور یہاں ملنے والے آئٹم بہت ہی محدود ہیں۔
گول ہٹی کے ایک گاہک نشست سنگھ نے بتایا: ’یہاں کا ذائقہ اچھا ہے۔ مصالحوں میں جو ہے وہ گلے کو لگتا ہے۔ مزہ آتا ہے۔ اصل، پرانا ذائقہ ہے۔ یہ صرف یہی چاندنی چوک میں ملتا ہے۔ ہم نے چھولے کلچے کھائے عمدہ ترین لگا۔ اب لاہور تو میں گیا نہیں یہاں کا ذائقہ اچھا لگتا ہے۔‘